کیا ٹرمپ کی ثالثی روس–یوکرین تنازع ختم کر سکتی ہے؟

0

نیوزڈیسک

اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاک–بھارت جنگ بندی سے سبق سیکھیں اور امن کی راہ اپنائیں۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے روس اور یوکرین امن معاہدہ کر لیں گے۔

صدر پیوٹن سے ملاقات میں انہوں نے آئندہ ملاقات کا بھی عندیہ دیا، جس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی اور ممکنہ طور پر کچھ یورپی رہنما شریک ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ملاقات کامیاب رہی تو مستقبل میں امن کی ضمانت بن سکتی ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امن بہت اہم ہے، پاکستان اور بھارت کی مثال دیکھیں—ان کے درمیان جنگ کے دوران چھ یا سات طیارے گرائے گئے اور دونوں ممالک جوہری تصادم کے قریب پہنچ گئے تھے، جس سے لاکھوں جانیں ضائع ہو سکتی تھیں، لیکن ہم نے یہ تنازع مؤثر انداز میں حل کرایا۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اور صدر پیوٹن کے درمیان اہم ملاقات آج الاسکا میں ہوگی، جو دو ہزار اکیس کے بعد کسی موجودہ امریکی اور روسی صدر کے درمیان پہلی براہ راست ملاقات ہے۔

کریملن کے مطابق دونوں رہنما پیچیدہ ترین مسائل پر بات کریں گے اور ملاقات کے نتائج پر قبل از وقت رائے دینا غلطی ہوگی۔

دوسری جانب، امریکا نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ–پیوٹن مذاکرات ناکام ہوئے تو بھارت پر مزید ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ بھارت پر پہلے ہی 25 فیصد اضافی ٹیرف لاگو ہے، اور روس سے پٹرولیم مصنوعات خریدنے کی پاداش میں مزید 25 فیصد ٹیرف آئندہ چند دنوں میں نافذ کر دیا جائے گا، جس کے بعد بھارت کو امریکا کی جانب سے مجموعی طور پر 50 فیصد ٹیرف کا سامنا ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.