کیا ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقات یوکرین جنگ بندی میں مددگار ثابت ہوگی؟

0

نیوزڈیسک

اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی اہم ملاقات امریکی ریاست الاسکا کے جوائنٹ بیس ایلمینڈورف-رچرڈسن (JBER) میں جمعہ کو ہوئی۔

تقریباً چار گھنٹے جاری رہنے والی اس ملاقات کو دونوں رہنماؤں نے “انتہائی تعمیری” قرار دیا، تاہم یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے باضابطہ سیز فائر کا اعلان نہ کیا جا سکا۔

سرخ قالین پر استقبال اور غیر رسمی ون آن ون گفتگو

دونوں صدور مختصر وقفے سے الاسکا پہنچے۔ صدر ٹرمپ ایئر فورس ون سے پہلے باہر آئے، سرخ قالین پر پیوٹن کا استقبال کیا، مصافحہ کیا اور اپنی لیموزین میں بٹھا کر میٹنگ پوائنٹ تک لے گئے۔

گاڑی میں مترجم موجود نہیں تھا، اور چونکہ پیوٹن انگریزی جانتے ہیں اس لیے دونوں کے درمیان کچھ دیر غیر رسمی ون آن ون بات چیت بھی ہوئی۔

وفود کی سطح پر مذاکرات اور پریس کانفرنس

باضابطہ مذاکرات میں دونوں وزرائے خارجہ سمیت ہر فریق کے دو، دو اعلیٰ عہدیدار شریک تھے۔

ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر پیوٹن نے کہا کہ گفتگو تعمیری رہی، اور انہوں نے الاسکا دعوت دینے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔

پیوٹن کا کہنا ہے کہ امریکا اور روس کی مشترکہ تاریخ الاسکا سے جڑی ہے، ٹرمپ نے “پڑوسیوں جیسا رویہ” اپنایا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی امید ہے۔

پیوٹن کا مؤقف: امن کیلئے بنیادی مسائل ختم کرنا ہوں گے

پیوٹن نے کہا کہ یوکرین کی صورتحال ایک “سانحہ” ہے، یوکرینی عوام روس کے بھائی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ پائیدار امن کے لیے جنگ کی بنیادی وجوہات ختم کرنی ہوں گی اور روس کے جائز خدشات کو زیر غور لایا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹرمپ دو ہزار بائیس میں صدر ہوتے تو یوکرین جنگ شروع نہ ہوتی۔

ٹرمپ کا ردعمل: زیلنسکی سے رابطہ اور نیٹو رہنماؤں سے مشاورت

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ کئی امور پر پیش رفت ہوئی ہے مگر سب سے اہم نکتے پر اتفاق نہ ہوسکا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ یوکرینی صدر زیلنسکی کو فون کریں گے اور نیٹو رہنماؤں سے بھی بات کریں گے۔

ان کے مطابق یوکرین تنازع کے حل میں پیوٹن بھی اتنی ہی دلچسپی رکھتے ہیں جتنی یوکرین۔

ٹرمپ نے دو ہزار سولہ کے امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے الزام کو “فراڈ” قرار دیا اور کہا کہ وہ جلد ہی پیوٹن سے دوبارہ ملاقات کے خواہاں ہیں۔

ماسکو ملاقات کی دعوت

پریس کانفرنس کے دوران پیوٹن نے انگریزی میں صدر ٹرمپ کو ماسکو دورے کی دعوت دی۔

ٹرمپ نے یہ دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک دلچسپ تجویز ہے اور میں اسے ممکنہ طور پر ہوتا دیکھ سکتا ہوں۔

زیلنسکی کا ردعمل

ملاقات سے قبل یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا تھا کہ روس نے جنگ روکنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا، اور مؤثر حل صرف سہ فریقی ملاقات سے نکل سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.