بجلی کی کڑک سے تھرپارکر کی روزی روٹی کو خطرہ

علی نواز راہموں

0

 

تھرپارکر: تھرپارکر، سندھ کا وہ صحرا جہاں زندگی صدیوں سے بارشوں کے محدود سہارے اور مویشیوں پر انحصار کرتی آئی ہے، آج ماحولیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کے باعث ایک نئے بحران سے دوچار ہے۔ بجلی کی کڑک، جو کبھی ایک موسمی خطرہ سمجھی جاتی تھی، اب یہاں کے باسیوں کے لیے ایک بار بار لوٹ آنے والی سماجی اور معاشی آفت بن چکی ہے۔

زندگی اور معیشت کی بنیاد مویشی

تقریباً 16.5 لاکھ آبادی اور 60 لاکھ مویشیوں پر مشتمل تھرپارکر ایک ایسی معیشت کو سہارا دیتا ہے جس کی بنیاد صدیوں پرانی چرواہی اور کھیتی باڑی ہے۔ بارشیں اس صحرا کی زمین میں زندگی کا پیغام لاتی ہیں، لیکن انہی بارشوں کے ساتھ اب موت بھی آتی ہے۔ بجلی کی کڑک ہر سال درجنوں انسانوں اور ہزاروں جانوروں کی جان لے لیتی ہے، جس سے نہ صرف خاندانوں کا معاشی ڈھانچہ تباہ ہوتا ہے بلکہ خطے کی مجموعی معیشت بھی زوال پذیر ہو رہی ہے۔

بڑھتے ہوئے جانی و مالی نقصانات

سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پچھلے پانچ برسوں میں صرف تھرپارکر میں 107 افراد اور 3,102 جانور بجلی کی کڑک کی نذر ہو چکے ہیں۔ اس سال بھی برسات کی بارشیں زندگی کی بجائے المیہ ثابت ہوئیں:

  • 19 اگست 2025 کو نگرپارکر میں ایک شخص اپنے ہی گھر کے اندر کڑک سے جاں بحق ہوا۔
  • اسلام کوٹ کے مختلف دیہات میں 56 جانور لقمۂ اجل بنے، جن میں 27 گائیں اور دو بکریاں شامل تھیں۔
  • ایک گاؤں میں 92 جانور ہلاک ہوئے، جن میں ایک اونٹ اور ایک گائے بھی تھی۔
  • اسی ہفتے ایک اور واقعے میں 66 بکریاں بجلی کی زد میں آئیں۔
  • ایک مقام پر مزید 51 بکریاں کڑک کی نذر ہو گئیں۔

اب تک صرف ایک برسات میں 150 سے زائد مویشی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایسے نقصانات تھرپارکر جیسے کمزور معاشی ڈھانچے والے خطے میں خاندانوں کو مزید غربت اور بھوک کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

صحرائی جغرافیہ اور بڑھتی ہوئی شدت

تھرپارکر کی جغرافیائی ساخت بجلی کی کڑک کو مزید مہلک بنا دیتی ہے۔ ہموار زمین، درختوں کی کمی اور کھلے میدانوں میں انسانوں اور جانوروں کی روزمرہ موجودگی انہیں براہِ راست خطرے کی زد میں لاتی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ صرف تھر میں ہر سال تقریباً 100,000 بجلی کی کڑک کے واقعات ریکارڈ ہوتے ہیں، جو عالمی اوسط (25,000) سے کئی گنا زیادہ ہیں۔

شدید گرمی، بحیرۂ عرب سے آنے والی مرطوب ہوائیں اور مون سون کے دوران فضائی بے چینی اس خطے کو بجلی کے طوفانوں کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ مقامی لوگ اسے کوئلے کی کان کنی اور بجلی گھروں کے پھیلاؤ سے بھی جوڑتے ہیں، تاہم سائنسی شواہد فی الحال ناکافی ہیں۔

خوف، توہمات اور سماجی اثرات

بجلی کی کڑک نے تھری لوگوں کے دلوں میں خوف بٹھا دیا ہے۔ کھیتوں میں کام کرنے والے کسان اور چرواہے برسات کے دنوں میں اپنی سرگرمیاں محدود کر دیتے ہیں، جس سے زرعی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ جو بارش کبھی خوشحالی کی علامت تھی، اب ڈر اور بے یقینی کا استعارہ بن چکی ہے۔ سائنسی آگاہی کے فقدان میں لوگ توہم پرستی، دیومالائی کہانیوں اور غیر سائنسی عقائد پر بھروسہ کرتے ہیں، جو عملی طور پر بے سود ہیں۔

حفاظتی اقدامات اور کمی

ماہرین کے مطابق چند بنیادی تدابیر اپنائی جا سکتی ہیں، جیسے:

  • طوفان کے دوران کھلے میدانوں سے اجتناب۔
  • اونچے درختوں یا تنہا کھڑی عمارتوں کے نیچے پناہ نہ لینا۔
  • گرج کے دوران زمین کے قریب بیٹھ جانا۔
  • مویشیوں کے لیے محفوظ ٹھکانے بنانا۔

مگر آگاہی مہمات کی کمی اور حکومت کی غفلت کے باعث یہ تدابیر ابھی تک مقامی آبادی تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ سکیں۔

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تھرپارکر میں بجلی کی کڑک کے رجحانات کو سمجھنے کے لیے بین المضامینی تحقیق کی فوری ضرورت ہے۔ بہتر وارننگ سسٹمز، ہنگامی ردعمل کے مؤثر طریقے اور مقامی حالات کے مطابق حفاظتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔

حکومت اور اداروں کو چاہیے کہ وہ:

  • دیہات، اسکولوں اور صحت مراکز میں ہنگامی ردعمل کے نظام قائم کریں۔
  • لائٹننگ راڈز اور ارتھ راڈز جیسے حفاظتی آلات نصب کریں۔
  • مقامی سطح پر آگاہی مہمات، ورکشاپس اور دیہاتی اجلاس منعقد کریں۔
  • کوئلے کے منصوبوں اور بجلی گھروں کے ماحولیاتی اثرات پر آزاد تحقیق کرائیں۔
  • تھرپارکر میں بجلی کی کڑک اب ایک موسمی خطرے سے بڑھ کر مستقل سماجی و معاشی آفت بن چکی ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ہر سال کی بارش خوشحالی کی بجائے سانحے لے کر آئے گی، اور تھری عوام کی نازک معیشت مزید بکھرتی جائے گی۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت، غیر سرکاری ادارے، تحقیقی ادارے اور سول سوسائٹی کو مل کر ایک جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی، تاکہ بارشیں پھر سے زندگی کی علامت بن سکیں، موت اور المیے کی نہیں۔
Leave A Reply

Your email address will not be published.