علی نواز راہموں
تھرپارکر: تھر کی سنہری ریت میں زندگی اور موت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ یہاں حسن اور دکھ الگ نہیں کیے جا سکتے، ایک ایسی حقیقت وجود میں آتی ہے جس کا تصور باہر کے لوگ بھی نہیں کر سکتے۔
تھرپارکر کے لوگوں کے لیے یہ ریگستان ایک ہی وقت میں پناہ گاہ بھی ہے اور پھندا بھی، جہاں ہر ننگے پاؤں قدم اٹھاتے ہی زہریلے سانپ سے سامنا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔
سندھ کا خاموش قاتل — سانپ کا زہر
سانپ کا ڈسنا صرف ایک نظرانداز شدہ گرم علاقوں کی بیماری (NTD) نہیں بلکہ پاکستان میں ہر سال ہزاروں زندگیاں نگل لیتا ہے۔
لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز، جامشورو کے وائس چانسلر کے مطابق ہر سال آٹھ ہزار سے زیادہ کیس ریکارڈ ہوتے ہیں۔
مختلف رپورٹس کے مطابق صرف ضلع تھرپارکر میں ہر سال سات سو سے آٹھ سو کیس اسپتالوں میں داخل ہوتے ہیں۔
زیادہ تر متاثرہ افراد اسپتالوں تک نہیں پہنچ پاتے کیونکہ سفری سہولیات کی کمی اور نیم حکیموں پر انحصار کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
حالانکہ موت حتمی نہیں، کیونکہ سانپ کے زہر کا علاج Anti-Snake Venom (ASV) سے ممکن ہے، مگر جنوبی سندھ کے دیہی اسپتالوں میں ASV کی شدید کمی ہے۔
علاج نہ ملنے کے باعث لوگ توہم پرستی اور درگاہوں کا رخ کرتے ہیں، جس کا نتیجہ اکثر موت کی صورت میں نکلتا ہے۔
سانپ کا ڈسنا — زندگی کے کن پہلوؤں کو خطرے میں ڈالتا ہے؟
پاکستان کے کئی علاقوں میں سانپ کا ڈسنا ایک بڑا عوامی صحت کا خطرہ ہے، خاص طور پر سندھ کے تھر کے ریگستان میں۔
حالیہ بارشیں جہاں زرعی برکتیں لائی ہیں، وہیں زہریلے سانپوں کا سامنا بھی بڑھا دیا ہے۔
تھرپارکر میں، جہاں بارش کے بعد کھیتوں کی کاشت دوبارہ شروع ہوتی ہے، کئی لوگ پہلے ہی سانپ کے ڈسنے کے باعث اسپتالوں میں داخل ہو چکے ہیں۔
ٹوٹے وعدے اور رکے ہوئے منصوبے
گزشتہ دو دہائیوں میں حکومتوں نے بار بار سانپ کے زہر کی لیبارٹری بنانے کے اعلانات کیے، مگر تھر کی عوام کو کچھ نہیں ملا۔
وزیرِاعظم شوکت عزیز نے دو ہزار چار میں تھر ڈویلپمنٹ پیکیج کے تحت سانپ کے زہر کی لیبارٹری کا اعلان کیا، جس کے لیے سو ملین روپے مہیا کیے گئے لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا۔
مزید پڑھیں: https://urdu.thepenpk.com/?p=6998
اسی طرح دو ہزار آٹھ میں سندھ حکومت نے دو سو ملین روپے رکھے اور سانپ کے زہر اور ریبیز ویکسین کی لیبارٹری کا اعلان کیا، لیکن منصوبہ آدھے میں رک گیا۔
دو ہزار بائیس میں نئی لیبارٹری منظور ہوئی، مگر متنازع طور پر تھر کے بجائے ساکرند (ضلع بینظیرآباد) میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
آج بھی پاکستان صرف ایک ادارے، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) اسلام آباد پر انحصار کرتا ہے۔ نتیجتاً تھر کے لوگوں کو ASV تاخیر سے اور محدود مقدار میں ملتی ہے۔
روزمرہ کی کڑی حقیقت
تھرپارکر، جہاں 1.78 ملین لوگ 2,305 دیہات میں رہتے ہیں، پاکستان کے سب سے نظرانداز شدہ علاقوں میں شامل ہے۔
پچانوے فیصد سے زیادہ لوگ پکی سڑک، بجلی، صاف پانی اور صحت کی سہولتوں سے محروم ہیں۔
کسان اور چرواہے سخت گرمی میں ننگے پاؤں محنت کرتے ہیں، جہاں ہر وقت سانپ کے ڈسنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ کئی لوگ زندگی میں دو تین بار سانپ کے ڈسنے کا شکار ہو چکے ہیں۔
دوسری طرف، تھر کے معدنی وسائل دوسروں کے لیے دولت بنے ہوئے ہیں۔ ایک سو پچہتر ارب ٹن کوئلے کے ذخائر قومی گرڈ کو توانائی دے رہے ہیں۔
گرینائٹ، جپسم اور نمک بیرونی منڈیوں میں جا رہے ہیں۔ مگر مقامی لوگ اب بھی اندھیروں میں ہیں اور پانی و خوراک کے لیے روز جدوجہد کرتے ہیں۔
ضائع شدہ مواقع — مقامی ASV پیداوار
تھر کے پاس مقامی سطح پر ASV بنانے کے لیے زہریلے سانپ قدرتی طور پر بڑی تعداد میں موجود ہیں اور جانور جیسے گھوڑے، جو سیرم کے لیے ضروری ہیں۔ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔
پھر بھی پاکستان دور دراز لیبارٹریوں اور مہنگی درآمدات پر انحصار کرتا ہے، مقامی صلاحیت کو استعمال نہیں کرتا۔
ماہرین اور عوام کے مطالبات واضح ہیں:
تھر میں قومی سطح کی سانپ کے زہر کی لیبارٹری قائم کی جائے۔
تھر میں میڈیکل یونیورسٹی کیمپس کھولا جائے تاکہ تحقیق اور علاج میں بہتری آئے۔
بنیادی صحت مراکز اور دیہی اسپتالوں میں ASV کی مستقل فراہمی یقینی بنائی جائے، جسے شمسی توانائی سے چلنے والے کولڈ چین نظام کے ذریعے محفوظ رکھا جا سکے۔
مزید پڑھیں: https://urdu.thepenpk.com/?p=6811
متاثرہ مریضوں کو لانے کے لیے ایمبولینس و گاڑیاں فراہم کی جائیں۔
عوامی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ لوگ نیم حکیموں پر انحصار نہ کریں۔
دولت کے ذخائر، محرومی کی زندگی
تھرپارکر ایک تضاد ہے: کوئلہ، گرینائٹ اور نمک میں امیر، مگر صحت، خوراک اور پانی میں غریب۔
کوئلے سے بجلی نکل کر پورے ملک کو روشن کرتی ہے، مگر زیادہ تر تھری اب بھی اندھیروں میں ہیں۔
اسلام کوٹ میں مائی بختاور ایئرپورٹ کارپوریٹ افسران کے لیے بنایا گیا، جبکہ مقامی لوگ صرف جہازوں کو دیکھ سکتے ہیں، جن پر وہ کبھی سوار نہیں ہوں گے۔
تھر کے لوگ صرف سانپوں کے نہیں بلکہ ٹوٹے ہوئے وعدوں کے بھی شکار ہیں۔ اگر حکومتیں سنجیدہ اور فوری عمل نہ کریں تو تھری لوگ ہر دن “زندگی کا زہر چکھنے” پر مجبور رہیں گے۔
ASV ویکسین کی تاخیر یا کمی پہلے ہی کئی زندگیاں نگل چکی ہے۔ خاص طور پر دور دراز دیہات میں مقامی لوگ اور سماجی کارکن مسلسل وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تھرپارکر میں ASV ویکسین کی فوری اور مستقل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
یہ زندگی بچانے والی ویکسینیں نہایت ضروری ہیں تاکہ مزید اموات سے بچا جا سکے۔
نوٹ: دی پین پی کے ڈاٹ کام کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونادی پین پی کے ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔