تحریر: محمد مرتضیٰ نور
پاکستان میں حالیہ سیلاب نے بے مثال تباہی مچائی ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، مکانات تباہ ہوئے، روزگار ختم ہو گئے اور انفراسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کے مطابق ملک کو 500 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا ہے۔ وفاقی حکومت نے اس بڑے بحران کے پیش نظر ہیلتھ ایمرجنسی اور ایگریکلچر ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
یہ سیلاب جہاں فوری انسانی المیے کا باعث بنا ہے، وہاں ہماری کمزور معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ بالخصوص زراعت، جو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، شدید متاثر ہوئی ہے۔ آئندہ دنوں میں غذائی قلت، بے روزگاری اور معاشی سست روی مزید بڑھنے کے خدشات ہیں۔
ایسے وقت میں پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کا شعبہ غیر معمولی اہمیت اختیار کرتا ہے۔ ملک میں اس وقت ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے تسلیم شدہ 274 جامعات اور ان کے 140 سے زائد کیمپسز مختلف شہروں اور دیہی علاقوں میں قائم ہیں۔ یہ ادارے صرف تعلیم کے مراکز نہیں بلکہ تحقیق، نوجوانوں کی توانائی اور کمیونٹی انگیجمنٹ کے بڑے مراکز بھی ہیں۔ اگر ان وسائل کو صحیح سمت میں بروئے کار لایا جائے تو یہ سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔
جامعات اپنے طلبہ اور اساتذہ کو رضاکارانہ طور پر میدانِ عمل میں اتار کر متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء، پانی اور ادویات کی تقسیم میں معاونت فراہم کر سکتی ہیں۔ میڈیکل جامعات صحت کیمپ قائم کر کے علاج اور ویکسینیشن کی سہولت دے سکتی ہیں۔ زرعی اور انجینئرنگ جامعات تحقیق کے ذریعے سیلاب برداشت کرنے والی فصلوں اور آفات سے محفوظ انفراسٹرکچر کی تیاری میں معاون ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح یہ ادارے ماحولیاتی تبدیلی، آفات سے بچاؤ اور سماجی لچک پر عوامی شعور اجاگر کرنے کا پلیٹ فارم بھی فراہم کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: https://urdu.thepenpk.com/?p=7059
یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف جامعات ہی اس بڑے بحران سے نمٹ نہیں سکتیں۔ مؤثر بلدیاتی اداروں کا کردار بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بلدیاتی ادارے عوام کے قریب ترین ہوتے ہیں اور ان کی حقیقی ضروریات کا بہتر اندازہ لگا سکتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں کئی مقامات پر بلدیاتی اداروں کی کمزوری یا غیر موجودگی نے امدادی کاموں میں تاخیر اور بے ضابطگی پیدا کی ہے۔ ایک مضبوط بلدیاتی نظام، اگر جامعات، سول سوسائٹی اور سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے تو بروقت اور منظم امداد ممکن ہو سکتی ہے۔
اس تناظر میں او آئی سی-کامسٹیک (COMSTECH) کی قیادت میں جاری امدادی سرگرمیاں ایک بہترین مثال ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک کی خصوصی ہدایات پر کامسٹیک کا ایک ریلیف مشن جنوبی پنجاب کے متاثرہ علاقوں چنیوٹ، وہاڑی اور خیرپور ٹامیوالی گیا تاکہ متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا جا سکے اور انہیں فوری امداد پہنچائی جا سکے۔
اس وفد کی قیادت راقم نے کی، جبکہ یہ مشن کومسیٹس یونیورسٹی وہاڑی کیمپس اور مقامی تنظیموں کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔ ریلیف قافلے میں کھانے پینے کی اشیاء، صاف پانی، ادویات اور دیگر ضروری سامان شامل تھا، جنہیں رضاکاروں نے شفاف اور منظم انداز میں متاثرہ خاندانوں تک پہنچایا۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ او آئی سی کی حمایت سے کامسٹیک ہر حال میں پاکستانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور متاثرین کی بحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
اس سے پہلے کامسٹیک نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے تعاون سے دریائے چناب کے قریب چنیوٹ کے مضافاتی سیلاب زدہ علاقوں میں دو میڈیکل کیمپس قائم کیے جہاں درجنوں خاندانوں کو راشن بیگز، صاف پانی، کھانے پینے کی اشیاء اور طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ پروفیسر ڈاکٹر رؤف اعظم، وائس چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، خود متاثرہ علاقوں میں موجود رہے اور اپنی ٹیم کے ہمراہ ریلیف سرگرمیوں کی قیادت کی، جس سے اساتذہ اور طلبہ کو زبردست حوصلہ ملا۔
مزید پڑھیں: https://urdu.thepenpk.com/?p=6811
یہ سرگرمیاں اور کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسیلنس کے رکن اداروں کی شمولیت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ جامعات صرف علمی مراکز نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کے ادارے بھی ہیں۔
اگرچہ فوری امداد ناگزیر ہے لیکن اصل امتحان متاثرہ علاقوں کی طویل المدتی بحالی ہے۔ جامعات حکومت کو ماحولیاتی تبدیلی اور آفات سے بچاؤ کی پالیسی سازی میں مدد دے سکتی ہیں، کسانوں اور مقامی برادریوں کی تربیت کر سکتی ہیں، اور جی آئی ایس اور ڈیٹا سائنس کے ذریعے حساس علاقوں کی نشاندہی اور وارننگ سسٹم تیار کر سکتی ہیں۔
آرکیٹیکچر اور انجینئرنگ کے شعبے متاثرہ خاندانوں کے لیے کم لاگت اور ماحول دوست مکانات ڈیزائن کر سکتے ہیں۔ اس طرح کی کوششیں نہ صرف موجودہ بحران کو کم کر سکتی ہیں بلکہ مستقبل میں آنے والی ماحولیاتی آفات کے اثرات کو بھی کم کر سکتی ہیں۔
سیلاب 2025 ہمیں یہ سبق دے رہا ہے کہ پاکستان مزید تاخیر اور غفلت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ 500 ارب روپے سے زائد کے نقصان کے پیشِ نظر ایک جامع قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنا کردار تو ادا کریں گی، لیکن اس جدوجہد میں جامعات، بلدیاتی ادارے اور کامسٹیک جیسے ادارے بھی مؤثر اور متحرک کردار ادا کریں۔
ہماری جامعات کو اپنے علمی مشن کے ساتھ ساتھ انسانی خدمت کو بھی اپنا شعار بنانا ہوگا۔ بلدیاتی اداروں کو مقامی سطح پر مؤثر بنایا جائے تاکہ بروقت امداد ممکن ہو۔ کامسٹیک نے یہ مثال قائم کی ہے کہ علمی ادارے آزمائش کے وقت روشنی کے مینار بن سکتے ہیں۔
اب یہ اجتماعی ذمہ داری ہے کہ حکومت، جامعات، بلدیاتی ادارے، سول سوسائٹی اور عالمی شراکت دار سب مل کر متاثرین کی زندگیوں کو دوبارہ بسانے، ان کا وقار بحال کرنے اور ایک محفوظ و مستحکم مستقبل کی راہ ہموار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
نوٹ: دی پین پی کے ڈاٹ کام کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونادی پین پی کے ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔