کیا اسرائیلی حملے کے خلاف عالمی احتجاج سے انسانی حقوق محفوظ رہیں گے؟

نیوزڈیسک

0

اسلام آباد: اسرائیلی فورسز نے غزہ میں امداد پہنچانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کر کے سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان اور سینتیس ممالک کے تقریباً دو سو انسانی حقوق کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

اس کے باوجود فلوٹیلا کے تقریباً تیس جہاز مشن مکمل کرنے کے لیے غزہ کی طرف رواں دواں ہیں۔ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے تھے اور انہیں جہاز پر اسرائیلی کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا۔

فلوٹیلا کے ترجمان سیف ابو کشیک کے مطابق گرفتار شدگان میں اسپین، اٹلی، ترکی، ملائیشیا سمیت سینتیس ممالک کے کارکن شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشن جاری ہے اور جہاز بحیرۂ روم کے راستے غزہ کے ساحل تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب دنیا بھر میں اس حملے اور گرفتاریوں کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ اٹلی، یونان، اسپین، برازیل، کولمبیا اور ارجنٹینا سمیت کئی ممالک میں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔

پاکستان میں بھی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد محفوظ ہیں اور انہیں اسرائیلی بندرگاہ پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ گلوبل صمود فلوٹیلا کی انتظامیہ نے بھی تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج نے جہازوں پر چڑھائی کی اور کیمروں کو بند کیا۔

فلوٹیلا کے رکن تھیاگو اویلا کا کہنا ہے کہ انتہائی نازک حالات میں بھی کارکن متحد ہیں اور فلسطین کا محاصرہ توڑنے کے لیے اپنے مشن کو جاری رکھیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.