مٹی میں نمی کے سینسر سے کسانوں کی زندگی میں انقلاب

صنم جونیجو

0

اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا کئی سالوں سے خشک سالی اور سیلاب کے شدید اثرات کا شکار ہے۔ اس سال مون سون کے دوران معمول کی بارش کے ساتھ ساتھ غیر متوقع طور پر شدید بارش اور سیلاب نے ملک کے مختلف حصوں میں تباہی مچا دی ہے۔ گاؤں، بستیاں اور شہر جھیلوں کی شکل اختیار کر گئے ہیں، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے میٹھے پانی کے ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں اور بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کی غیر مساوی تقسیم اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے

حال ہی میں انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (IWMI) کے نمائندے صحافیوں کے ہمراہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں گئے۔ IWMI کے ڈائریکٹر محسن نفیس نے کہا کہ پانی کی قلت کسانوں کی روزی روٹی، خوراک کی فراہمی اور دیہی علاقوں کی زندگیوں پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں شہری علاقوں خصوصاً دریائے سندھ کے اطراف پانی کی قلت بڑھنے کا خدشہ ہے، اس لیے آبی وسائل کے بہتر انتظام کی ضرورت انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

IWMI کے سینئر ریسرچ آفیسر نقاش تاج عباسی نے بتایا کہ FCDO اور CGIAR کے تعاون سے پنجاب میں فصلوں میں پانی کے استعمال پر تحقیق کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید فلیکس ٹاور سسٹم نصب کیے گئے ہیں، جو زمین اور ہوا کے درمیان توانائی، پانی اور کاربن کے تبادلے کی مسلسل پیمائش کرتے ہیں۔ یہ نظام CO2 اور H2O کے تجزیہ کار اور نیٹ ریڈیو میٹر کے ذریعے پانی کے بہاؤ، توانائی کی کھپت اور فصلوں سے کاربن کے اخراج کا درست ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ اس ڈیٹا کی مدد سے پالیسی ساز اور محققین موسمیاتی تبدیلیوں کا بروقت جواب دے سکتے ہیں اور زرعی منصوبہ بندی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

IWMI کے کمیونیکیشن آفیسر امجد جمال نے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی پہلی بار ملک میں متعارف کرائی گئی ہے اور دسمبر 2023 میں اوکاڑہ، رحیم یار خان، چکوال اور فیصل آباد میں چار فلیکس ٹاورز نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ مردان اور مانسہرہ میں جولائی 2025 میں مزید دو ٹاورز لگائے گئے۔ ان ٹاورز سے حاصل کردہ ڈیٹا آن لائن دستیاب ہے، جسے سیاستدان اور ماہرین موسمیاتی تبدیلی اور آبی وسائل کے بہتر انتظام کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔چکوال کے کاشتکار اطہر جاوید خان نے بتایا کہ انہوں نے اپنی زمینوں میں زیتون، ایوکاڈو، نیکٹیرین، بلیک بیری اور مختلف سبزیاں اگائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ IWMI کی فراہم کردہ مٹی میں نمی کے سینسر کی وجہ سے وہ اب صحیح وقت اور مقدار کے مطابق زمین کو پانی فراہم کر سکتے ہیں، جس سے پانی کی بچت ہوتی ہے، فصلیں بہتر ہوتی ہیں اور منافع میں اضافہ ہوتا ہے۔

IWMI کے سینئر افسر ڈاکٹر ابوبکر نے کہا کہ مٹی میں نمی کے سینسر کا استعمال آسان اور مؤثر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں 80 فیصد خواتین زراعت سے وابستہ ہیں اور انہیں بھی تربیت دی گئی ہے کہ کس فصل کو کتنی بار اور کس مقدار میں پانی دینے کی ضرورت ہے۔ مختلف فصلوں کے لیے پانی کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں اور سینسر کی مدد سے فصل کی ضرورت کے مطابق پانی فراہم کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کے مؤثر استعمال، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور درست منصوبہ بندی کے بغیر پاکستان میں پانی کا بحران بڑھتا جائے گا، اور اس کے اثرات عام شہریوں اور کسانوں کی زندگیوں پر سب سے زیادہ پڑیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.