اسلام آباد: اسرائیلی دستوں نے صمود فلوٹیلا کے رکن اور جماعتِ اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد کو رہا کر دیا ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنی پوسٹ پر تصدیق کی کہ مشتاق احمد خان اب عمان میں پاکستان کے سفارت خانے میں محفوظ اور بخیریت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ صحت مند اور حوصلے سے بھرپور ہیں اور سفارت خانہ ان کی خواہشات اور سہولت کے مطابق وطن واپسی میں مکمل تعاون فراہم کرے گا۔
وزیر خارجہ نے تمام اُن دوست ممالک کا شکریہ بھی ادا کیا جو اس معاملے میں فعال کردار ادا کر کے پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ تعاون کرتے رہے۔
یاد رہے کہ سابق سنیٹر اس قافلے کا حصہ تھے جو غزہ کے محصور لوگوں تک انسانی امداد پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے متعدد اراکین کو ڈی پورٹ کیا اور انہیں اردن بھیج دیا۔
رہائی کے بعد مشتاق احمد نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ فلسطین کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ قید کے دوران اُن کے ساتھ بدسلوکی ہوئی — ہاتھ پیچھے باندھے گئے، پاؤں میں بیڑیاں پڑی گئیں، آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی گئیں، کتے چھوڑے گئے اور اُن پر بندوقیں تان دی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں تین دن تک بھوک ہڑتال کرنی پڑی، ہوا، پانی اور ادویات تک رسائی نہیں دی گئی اور وہ شدید تشدد کا نشانہ بنے۔
سابق سنیٹر نے عزم دہرا دیا کہ وہ غزہ کا محاصرہ توڑتے رہیں گے اور جنہوں نے وہاں انسانی نقصان کیا اُنہیں انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔