خیبر پختونخوا میں قیادت کی تبدیلی — سیاسی اختلافات یا حکمتِ عملی؟

نیوزڈیسک

0

پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنا دستخط شدہ استعفیٰ گورنر فیصل کریم کنڈی کو ارسال کر دیا۔
گزشتہ روز انہوں نے وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔
اپنے بیان میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وزارتِ اعلیٰ کا عہدہ بانی پی ٹی آئی کی امانت تھا، جسے وہ ان کی ہدایت پر واپس کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ آئین کے آرٹیکل ایک سو تیس کے تحت استعفیٰ دے رہے ہیں۔ ان کے بقول، جب انہوں نے عہدہ سنبھالا تو صوبہ مالی بحران اور دہشت گردی کا شکار تھا، تاہم ان کی حکومت نے تمام مشکلات کے باوجود اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کو جاری رکھا۔
دوسری جانب، خیبر پختونخوا کی بدلتی سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر اپوزیشن جماعتوں نے آج اجلاس طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اسمبلی میں ہوگا جس میں صوبے کی حالیہ سیاسی تبدیلیوں پر مشاورت کی جائے گی۔
ادھر، علی امین گنڈاپور کی سوشل میڈیا ٹیم بھی پشاور سے روانہ ہو گئی۔
ترجمان کے مطابق، ٹیم نے انیس ماہ تک وزیراعلیٰ کے ساتھ خدمات انجام دیں، چاہے اسلام آباد دھرنا ہو یا پارٹی کے جلسے — ٹیم نے ہر موقع پر متحرک کردار ادا کیا۔
اب ٹیم ڈی آئی خان منتقل ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان کی ہدایت پر علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد، قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے رہنما سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ پارٹی نے وزارتِ اعلیٰ کی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ خیبر پختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی اور نئی پالیسی حکمتِ عملی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سہیل آفریدی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاق سے فاصلہ رکھتے ہوئے خودمختار صوبائی پالیسی اپنائیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی اختیار کی جا سکے۔
سلمان اکرم کے مطابق، اسمبلی میں سہیل آفریدی کی اکثریت یقینی ہے اور وزارتِ اعلیٰ کی منتقلی میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔
ادھر، پارٹی کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے علی امین گنڈاپور کی برطرفی سے متعلق افواہوں کو بے بنیاد قرار دیا اور واضح کیا کہ یہ فیصلہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر کیا گیا۔
نومنتخب وزیراعلیٰ کے امیدوار سہیل آفریدی کا تعلق ضلع خیبر سے ہے۔ وہ پی کے-70 سے پہلی مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔
سہیل آفریدی ماضی میں انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن خیبر پختونخوا کے صدر رہے ہیں اور موجودہ حکومت میں معاون خصوصی برائے کمیونیکیشن اینڈ ورکس اور بعد ازاں وزیر برائے ہائر ایجوکیشن کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، علی امین گنڈاپور اور علیمہ خان کے درمیان سیاسی اختلافات بھی اس تبدیلی کا ایک ممکنہ سبب بنے۔
اگرچہ یہ واضح نہیں کہ وزارتِ اعلیٰ کی تبدیلی پارٹی حکمتِ عملی کا حصہ ہے یا داخلی اختلافات کا نتیجہ، تاہم قیادت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دہشت گردی کے خلاف ایک نئی سمت میں پیش رفت ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.