غزہ امن معاہدہ اسرائیل میں سیاسی بحران لائے گا؟

0

اسلام آباد: اسرائیل کے دائیں بازو کے انتہاپسند وزیر اتمار بن گویر نے غزہ امن معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس کو مکمل طور پر ختم نہ کیا گیا تو وہ نیتن یاہو کی حکومت گرانے کے لیے ووٹ دیں گے۔

اتمار بن گویر کا کہنا ہے کہ وہ ایسے کسی امن معاہدے کی حمایت نہیں کریں گے جس کے نتیجے میں اُن فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا جن پر اسرائیل نے سنگین الزامات عائد کر رکھے ہیں۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حماس کا وجود برقرار رہا تو ان کی جماعت حکومت سے علیحدہ ہو جائے گی۔

ادھر اسرائیلی کابینہ نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کی منظوری دے دی۔ 

اس اجلاس میں وزیراعظم نیتن یاہو، وزرا کے علاوہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرقِ وسطیٰ اسٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر نے بھی شرکت کی۔

وزیراعظم کے دفتر کے مطابق معاہدے کے تحت تقریباً دو ہزار فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوج کے جزوی انخلا کے بدلے تمام یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ کے اندر نئی پوزیشنز سنبھالے گی جبکہ علاقے کے تقریباً تریپن فیصد حصے پر کنٹرول برقرار رکھے گی۔ حماس کو یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بہتر گھنٹے دیے جائیں گے۔

نیتن یاہو نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دو سال تک اپنے جنگی مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کی، اور ان میں سب سے اہم مقصد یرغمالیوں کی واپسی تھی، جو اب ممکن ہونے جا رہی ہے۔

انہوں نے اس کامیابی کا سہرا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کی غیر معمولی مدد کو دیا۔

دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق غزہ میں مشترکہ ٹاسک فورس قائم کی جائے گی جس میں مصر اور قطر کے اہلکار شامل ہوں گے، تاہم کوئی امریکی فوجی غزہ میں تعینات نہیں کیا جائے گا۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جنگ بندی کے بعد خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کی امید ہے۔ 

ان کے مطابق آج کا دن تاریخی ہے — غزہ اور مغربی کنارے میں خونریزی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.