شازیہ محبوب
اسلام آباد: آن لائن پیسہ کمانے کا خواب ایک بار پھر پاکستان کے ہزاروں شہریوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو گیا ہے۔
متعدد آن لائن ایپس اور پلیٹ فارمز، جو بظاہر جائز روزگار یا سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنے کے دعوے کرتے ہیں، دراصل فراڈ اور استحصال کا جال ثابت ہوئے ہیں۔
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی نوجوان گریجویٹ آمنہ احمد نے اپنی کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ “انسٹاگرام پر مجھے ڈیٹا انٹری کی نوکری کی پیشکش ملی۔ چونکہ مجھے فوری پیسوں کی ضرورت تھی، اس لیے میں نے ان سے رابطہ کیا۔ انہوں نے فوراً جواب دیا اور مختلف کام کے پیکجز کی پیشکش کی، جن میں زیادہ محنت کے ساتھ زیادہ آمدن کا وعدہ تھا۔”
آمنہ نے بتایا کہ ابتدا میں سب کچھ سہی لگا۔ “مجھے کہا گیا کہ پہلے رجسٹریشن مکمل کرو، پھر کام شروع ہوگا۔ میں نے فارم بھرے، کچھ رعایتیں لگائیں اور ٹاسک مکمل کیے۔ ابتدا میں انہوں نے واقعی دو تین ماہ تک تنخواہ بھی دی۔”
لیکن جلد ہی صورتحال بدل گئی۔ “انہوں نے ریفرل سسٹم متعارف کرایا، کہ اگر میں کسی کو شامل کروں تو بونس ملے گا۔ میں نے اپنے خاندان کے کچھ افراد کو بھی شامل کیا، مگر بعد میں ادائیگیاں رک گئیں، رعایتیں بدل گئیں، اور آخرکار رابطہ منقطع ہو گیا۔”
آمنہ کے والد نے معاملہ سمجھنے کی کوشش کی، مگر انٹرنیٹ پر موجود جعلی کمپنیوں کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔
ڈیجیٹل فراڈ کا پھیلتا ہوا جال
پاکستان کی نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سی ای آر ٹی) کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت ملک میں خاص طور پر پنجاب کے شہری علاقوں میں آن لائن گھپلے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، “ہم نے متعدد بار عوام کو ‘ہنی ٹریپ’ اور ‘فری لانسنگ’ گھوٹالوں کے بارے میں خبردار کیا ہے، جو زیادہ تر طلباء، نوکری کے متلاشیوں اور فری لانسرز کو نشانہ بناتے ہیں۔”
اہلکار کے مطابق یہ گھپلے عموماً سوشل میڈیا اشتہارات یا واٹس ایپ پیغامات سے شروع ہوتے ہیں جو پرکشش ملازمت یا سرمایہ کاری کے مواقع پیش کرتے ہیں۔ “جب متاثرہ شخص رابطہ کرتا ہے تو اسے جعلی گروپس میں شامل کر لیا جاتا ہے، جہاں فوری منافع یا بیرونِ ملک ملازمتوں کا لالچ دے کر مالی یا ذاتی استحصال کیا جاتا ہے۔”
جب ایزی پیسہ استحصال بن جائے
راولپنڈی کی گریجویشن کرنے والی طالبہ صبا نورین نے بتایا کہ”ایک دن مجھے واٹس ایپ پر نامعلوم نمبر سے کال آئی۔ دوسری طرف ایک عورت تھی جو عجیب انداز میں بات کر رہی تھی۔ کچھ دیر بعد مجھے بلیک میلنگ کے پیغامات آنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ وہ میری ایڈیٹ کی ہوئی ویڈیوز اور تصویریں سوشل میڈیا پر شیئر کر دیں گے۔”
صبا نے مزید کہا، “انہوں نے مجھ سے 50 سے 60 ڈالر مانگے جو میں نے خوف کے مارے ادا کر دیے۔ خوش قسمتی سے انہوں نے کچھ عوامی طور پر پوسٹ نہیں کیا، لیکن وہ تجربہ میری زندگی کا سب سے خوفناک لمحہ تھا۔”
اسلام آباد کے ڈیجیٹل میڈیا ایکسپرٹ فرحان یونس کے مطابق،”اب یہ گھپلے صرف جعلی آن لائن نوکریوں یا مالی فراڈ تک محدود نہیں رہے بلکہ اب ان میں بلیک میلنگ اور ہراسانی بھی شامل ہے، جس میں خاص طور پر نوجوان خواتین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ سماجی اور ثقافتی دباؤ کے باعث خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں کیونکہ وہ خوف یا شرمندگی کے باعث شکایت درج نہیں کرواتیں۔
جب خاندانی شناخت دھوکے میں بدل جائے
ایک چھوٹے کاروبار کی مالک صدف علی نے بتایا، کہ”ایک شخص نے فیس بک پر مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ میرا بھتیجا ہے جو بیرون ملک منتقل ہو گیا ہے۔ اس نے 100,000 روپے کی فوری مدد مانگی۔ چونکہ پروفائل پر میرے بھتیجے کی تصاویر اور معلومات تھیں، میں نے یقین کیا اور رقم ٹرانسفر کر دی۔”
انہوں نے مزید کہا، “رقم بھیجنے کے کچھ دیر بعد ہی اس شخص نے مجھے بلاک کر دیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ جعلی آئی ڈی تھی جو میرے بھتیجے کے نام سے بنائی گئی تھی۔”
جانے پہچانے چہرے، اجنبی نیتیں
ایک اور متاثرہ شہری سہیل آفاق نے بتایا،”مجھے کسی ایسے شخص کی کال آئی جو ایسے بات کر رہا تھا جیسے برسوں سے واقف ہو۔ آواز کراچی میں میرے ایک پرانے دوست عمران جیسی تھی۔ اس نے کہا کہ اسے فوری پیسوں کی ضرورت ہے، لیکن جب میں نے اسے ہمارے پرانے چینل کے ذریعے رابطہ کرنے کا کہا تو اس نے فون کاٹ دیا۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ یہ ایک گھپلا ہے۔”
سائبر کرائم میں خطرناک اضافہ
پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے مطابق، حالیہ برسوں میں آن لائن مالی دھوکہ دہی کے کیسز میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایک بڑے قومی سطح کے آن لائن فراڈ میں تقریباً 20 ارب روپے شامل ہیں، جن میں ہزاروں شہری متاثر ہوئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی آگاہی، سائبر قوانین پر عمل درآمد، اور ڈیجیٹل خواندگی ہی ایسے جرائم کے خلاف مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ آن لائن معیشت کو محفوظ بنانے کے لیے سخت قوانین اور تیز انصاف کے نظام کو یقینی بنائے، ورنہ “ڈیجیٹل خواب” مزید شہریوں کے لیے “ڈیجیٹل ڈراؤنے خواب” میں بدلتے رہیں گے.