شرم الشیخ کانفرنس میں مشرق وسطیٰ کے امن کے حوالے سے کیا فیصلے کیے گئے؟

نیوزڈیسک

0

اسلام آباد: مصر کے شہر شرم الشیخ میں عالمی رہنماؤں کی موجودگی میں تاریخی غزہ امن سربراہی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
جس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تاریخی جنگ بندی معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے دستخط کیے۔
تقریب میں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف بھی موجود تھے۔ امریکی صدر نے اس موقع پر کہا کہ یہ دن تاریخ کا اہم لمحہ ہے، کیونکہ جنگ بندی نے مشرق وسطیٰ میں امن کا نیا دور شروع کیا ہے۔
انہوں نے شہباز شریف اور اپنے “فیورٹ فیلڈ مارشل” عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری کی خواہش بھی ظاہر کی۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ غزہ امن منصوبہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی جانب اہم قدم ہے اور صدر ٹرمپ کی کوششوں کی بدولت غزہ میں جاری خونریزی کو روکا گیا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے اصل حقدار قرار دیا۔
مصر کے صدر السیسی نے معاہدے کو فلسطینی عوام کے لیے امید کی کرن اور خطے میں پائیدار امن کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔
ترک صدر اردوان نے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کی کانفرنس میں شرکت منسوخ کرنے پر اعتراض کیا۔
تقریب کے بعد، صدر ٹرمپ نے شہباز شریف کو خطاب کے لیے مدعو کیا جہاں انہوں نے امن معاہدے اور پاکستان-بھارت جنگ بندی میں امریکی صدر کے کردار کو سراہا اور کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت نے لاکھوں جانیں بچائیں۔
کانفرنس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل، فرانس کے صدر، برطانوی وزیراعظم سمیت متعدد عالمی رہنما بھی شریک تھے۔
اس موقع پر امریکی صدر اور شہباز شریف کے درمیان گرمجوشی سے ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے خوشگوار گفتگو کی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.