بچوں کا تحفظ فرد نہیں، پورے معاشرے کی ذمہ داری
باجوڑ میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ نے 123 میں سے 111 کیسز حل کیے، سماجی و نفسیاتی معاونت جاری
نثار الحق
باجوڑ: خیبرپختونخوا حکومت کے تحت قائم چائلڈ ویلفیئر کمیشن کی کاوشوں کے نتیجے میں باجوڑ میں بچوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ 2023 میں قائم ہونے والے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ نے اب تک بچوں کے استحصال اور حقوق کی پامالی کے 123 کیسز رجسٹر کیے، جن میں سے 111 کامیابی سے حل ہو چکے ہیں، جبکہ 12 کیسز تاحال زیرِ کارروائی ہیں۔
یونٹ بنیادی طور پر تین نکات پر اپنی حکمتِ عملی استوار کرتا ہے:
- روک تھام کی سرگرمیاں، جیسے تنظیم سازی اور آگاہی مہمات،
- متاثرہ بچوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے فوری ردعمل، اور
- سماجی و نفسیاتی معاونت۔
اس حکمتِ عملی کے تحت ضلع کی گیارہ ویلیج کونسلوں میں چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں، جن میں خواتین کی کمیٹیاں بھی شامل ہیں۔ ان کمیٹیوں کو بچوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کے حوالے سے تربیت دی گئی ہے، جبکہ کمیونٹی سطح پر ایک سوشل سروس ورک فورس بھی متحرک کی گئی ہے جو متاثرہ بچوں تک رسائی اور مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
یونٹ نہ صرف کیسز کی نشاندہی اور جانچ پڑتال کرتا ہے بلکہ کیس پلاننگ کے بعد متاثرہ بچوں کو متعلقہ محکموں کو ریفر بھی کرتا ہے۔ اس پورے عمل میں بچوں کو سماجی اور نفسیاتی سہولت فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ ذہنی دباؤ سے نکل کر اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ ضلعی سطح پر مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی بہتر بنانے کے لیے ایک ضلعی فورم بھی قائم کیا گیا ہے، جس میں تمام محکموں کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔
چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کی براہِ راست خدمات میں بچوں اور والدین کی کونسلنگ شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک ماہرِ نفسیات دستیاب ہے جو ضرورت کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو معاونت فراہم کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں یونٹ نے بے گھر افراد اور سیلاب زدگان کے متاثرہ بچوں تک بھی رسائی حاصل کی۔ کیمپوں اور گھروں میں جا کر آگاہی فراہم کی گئی اور متاثرہ بچوں کی کونسلنگ کی گئی۔ ضلعی فورم کے ذریعے ان خاندانوں کی ضروریات پوری کرنے کی بھی کوششیں کی گئیں، جو بڑی حد تک بارآور ثابت ہوئیں۔
تاہم بجٹ کے حوالے سے ضلعی چائلڈ پروٹیکشن آفیسر نے بتایا کہ یونٹ کے لیے کوئی سالانہ بجٹ مختص نہیں ہوتا، بلکہ سرگرمیوں پر آنے والے اخراجات ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے بلز جمع ہونے پر ادا کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود یونٹ کی سرگرمیاں بچوں کے تحفظ کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو رہی ہیں۔
یہ اقدامات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بچوں کا تحفظ صرف والدین یا حکومت کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ باجوڑ میں قائم چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کی کوششیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ایک بچے کی مسکراہٹ محفوظ کرنا ہی دراصل ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جو ہمیں اپنی بساط کے مطابق اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ڈالنے پر آمادہ کرتا ہے۔
چائلڈ پروٹیکشن یونٹ باجوڑ کی ایک کہانی
ارباب ایک عام سا لڑکا تھا جو باجوڑ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں اپنے والدین، بڑے بھائی اکرم اور چند کزنز کے ساتھ رہتا تھا۔ عمر تو صرف چودہ برس تھی مگر خواب بہت بڑے تھے۔ مگر ان خوابوں کو حقیقت بنانے کا کوئی راستہ اسے دکھائی نہیں دیتا تھا۔
اسکول جانا اسے کبھی پسند نہ تھا۔ “کتابیں بور کرتی ہیں، اور امتحان تو جان ہی لے لیتے ہیں”، وہ اکثر اپنے دوستوں سے کہتا۔ تعلیم میں دلچسپی کم ہوتی گئی اور پچھلے سال نومبر میں ارباب نے آٹھویں جماعت ہی میں اسکول چھوڑ دیا۔
اکرم بھائی نے کوشش کی کہ ارباب کسی ہنر کی طرف راغب ہو، چنانچہ اسے محلے کے ایک حجام کے پاس کام سیکھنے بھیجا گیا۔ وہاں وہ دن بھر صفائی اور کٹنگ کرتا، اور شام کو تھکا ہارا گھر لوٹتا۔ لیکن لگتا تھا کہ اس کا دل کہیں اور تھا۔ ارباب اکثر فیس بک اور ٹک ٹاک پر ویڈیوز دیکھتا۔ وہاں اسے کچھ ایسے لوگ ملے جو بیرونِ ملک “اچھے روزگار” کا جھانسہ دیتے تھے۔
وہ سمجھ رہا تھا کہ اگر وہ یورپ یا عرب ممالک چلا جائے تو نہ صرف جلدی امیر بن جائے گا بلکہ سب گھر والے بھی اس پر فخر کریں گے۔ کچھ ہی دنوں میں اس کے دو قریبی دوستوں نے بھی ہامی بھر لی۔ تینوں نے ایک منصوبہ بنایا — رات کی تاریکی میں گھر سے نکلنا، کراچی تک بس میں جانا، اور وہاں سے ایجنٹ کے ساتھ بارڈر پار کرنا۔
جب ارباب اور اس کے دوست گھر سے نکلے تو گھر میں کہرام مچ گیا۔ ماں کی حالت غیر تھی، اور بھائی اکرم پریشان۔ “میں نے تو منع کیا تھا!” وہ بس یہی کہتا رہ گیا۔ اکرم اور والد نے پہلے رشتہ داروں اور دوستوں سے پوچھا مگر کوئی سراغ نہ ملا۔ آخرکار انہوں نے علاقے کے ایک معتبر آن لائن صحافتی صفحے پر اعلان پوسٹ کیا۔ یہ اعلان چائلڈ پروٹیکشن یونٹ باجوڑ کو بھی موصول ہوا، جنہوں نے فوراً حرکت میں آ کر تمام قریبی اضلاع اور یونٹس کو الرٹ کر دیا۔
اسی دوران، وہ تینوں بچے کراچی جانے والی ایک مسافر بس میں سوار ہو چکے تھے۔ بس میں ایک شخص، جو فیس بک پر موجود تھا، نے بچوں کی تصویر پہچان لی — وہی اعلان والی تصویر! اس نے فوراً نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ کیا اور بچوں کے ہمراہ بس کا نمبر اور ڈرائیور کا موبائل نمبر فراہم کر دیا۔
چائلڈ پروٹیکشن یونٹ باجوڑ کو اطلاع ملتے ہی انہوں نے وہ معلومات فوراً پنجاب میں موجود اپنے ساتھیوں کو بھیج دیں، اور بس کے ممکنہ راستے پر متعلقہ محکمے متحرک ہو گئے۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب ایک چیک پوسٹ پر بس کو روکا گیا۔ قانونی کارروائی اور بچوں کی کم عمری کا حوالہ دے کر ڈرائیور کو صورتحال سمجھائی گئی۔ خوف زدہ ہو کر ڈرائیور نے بچوں کو قریبی ہوٹل میں اتارا اور مالک کا نمبر چائلڈ پروٹیکشن ٹیم کو دیا۔ مقامی چائلڈ پروٹیکشن یونٹ نے فوری کارروائی کی اور بچوں کو بحفاظت اپنی تحویل میں لیا۔ چند دنوں میں وہ باجوڑ واپس پہنچا دیے گئے، جہاں والدین نے نم آنکھوں سے انہیں گلے لگا لیا۔
واپسی کے بعد جب ارباب سے بات ہوئی تو اس نے ایک تلخ حقیقت کا اعتراف کیا: “گھر والے کھیلنے نہیں دیتے تھے، نہ دوستوں کے ساتھ باہر جانے، نہ کہیں اور۔ میں تو صرف کچھ بننا چاہتا تھا۔”
اکرم نے بھی مانا کہ ارباب کی دلچسپی تعلیم میں کم تھی اور وہ زیادہ وقت حجام کی دکان یا اپنے چند کزنز کے ساتھ گزارتا تھا۔ مگر شاید بات چیت اور اعتماد کی کمی نے اسے ایسی راہوں پر ڈال دیا جہاں صرف نقصان تھا۔ تاہم خاندان اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹ باجوڑ کی بروقت مداخلت نے ارباب اور اس کے دو دوستوں کو بچا لیا۔
یہ کہانی ہمیں زندگی کے کئی اہم پہلوؤں پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ سب سے پہلے، بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اپنانا نہایت ضروری ہے، کیونکہ محض روک ٹوک اور ڈانٹ ڈپٹ سے بچے سنبھلنے کے بجائے بگڑ سکتے ہیں۔ اگر والدین ارباب کے جذبات اور خوابوں کو سنجیدگی سے لیتے اور اس سے کھل کر بات کرتے تو شاید وہ یہ خطرناک قدم نہ اٹھاتا۔
اس کہانی میں سوشل میڈیا نے دوہرا کردار ادا کیا — ایک طرف یہی پلیٹ فارم بچوں کو بیرونِ ملک غیر قانونی ہجرت کے خواب دکھا کر ورغلانے کا ذریعہ بنے، تو دوسری طرف اسی سوشل میڈیا نے ایک مسافر کے ذریعے بچوں کی جان بچانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
مزید برآں، چائلڈ پروٹیکشن یونٹس، خصوصاً باجوڑ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے محکموں نے جس طرح باہمی تعاون سے فوری اور مؤثر کارروائی کی، وہ قابلِ تحسین ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ادارے فعال اور ذمہ دار ہوں تو بڑی تباہیوں سے بچا جا سکتا ہے۔