اسلامی فکر اور پائیدار ترقی: قرآنی تناظر میں جدید ترقیاتی بیانیہ

ڈاکٹر اکرم اللہ

0

ترقی کا تصور انسانی تہذیب کے آغاز سے وابستہ ہے۔ ہر دور میں انسان نے فلاح، امن، اور بہتر معیارِ زندگی کی جستجو میں جدوجہد کی۔ آج دنیا “پائیدار ترقی” (Sustainable Development) کے نظریے کو جدید ترقیاتی فلسفے کی اساس سمجھتی ہے، جس میں معیشت، معاشرت، ماحول، اور انصاف کے توازن کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

 لیکن اگر ہم غیر جانب دارانہ مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نظریے کی فکری جڑیں دراصل قرآنِ حکیم کی اُن تعلیمات میں پوشیدہ ہیں جو انسان کو زمین پر خلافت، عدل، توازن، اور احسان کے اصولوں پر چلنے کی تلقین کرتی ہیں۔

قرآن مجید انسان کو “خلیفۃ الارض” قرار دیتا ہے، یعنی زمین پر اصلاح، عدل اور امانت داری کے ساتھ نظمِ زندگی قائم کرنے کی ذمہ داری سونپتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

“هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا” 

 (ہود: 61) یعنی “اللہ نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور تمہیں اس میں آباد ہونے کا حکم دیا”۔

یہ آیت دراصل انسان کو تخلیقی سرگرمی، منصوبہ بندی، اور زمین کی فلاح کے لیے عمل کا حکم دیتی ہے — وہی بنیاد جس پر آج کی ترقیاتی اصطلاحات مثلاً productivity، innovation، اور sustainable resource use کھڑی ہیں۔

مزید یہ کہ قرآن انسانی ترقی کو محض مادی نہیں بلکہ اخلاقی و روحانی توازن کے ساتھ جوڑتا ہے۔ ارشاد ہے:

“كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا، إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ” (الاعراف: 31) یہ آیت اعتدال اور وسائل کے پائیدار استعمال کی ایسی تعلیم دیتی ہے جو جدید ماحولیات اور معاشی نظم کی اساس ہے۔ آج دنیا “sustainability” کے نام پر جس توازن کی تلاش میں ہے، وہ قرآن نے چودہ سو سال قبل ہی واضح کر دیا تھا۔

جب مجھے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی اہداف (SDGs) پر تربیتی نشستوں میں شرکاء کو لیکچر دینے کا موقع ملا تو یہ احساس مزید گہرا ہوا کہ جدید ترقی کے تقریباً تمام پہلو ، غربت کے خاتمے، معیارِ تعلیم، صحت، صنفی مساوات، صاف پانی، انصاف، اور ماحولیاتی تحفظ تک ، قرآنِ حکیم کی بنیادی تعلیمات سے ہم آہنگ ہیں۔ اگر مسلمان ان اصولوں کو اپنی پالیسیوں، منصوبہ بندی، اور ادارہ جاتی ڈھانچوں میں شامل کر لیں تو ترقی نہ صرف مادی بلکہ اخلاقی و روحانی معنوں میں بھی پائیدار ہو سکتی ہے۔

قرآن کی فکر میں ترقی کا مقصد محض دولت یا پیداوار میں اضافہ نہیں، بلکہ انسانی وقار کا تحفظ ہے۔ ارشاد ہے:

“وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ” (الاسراء: 70) یعنی “ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی”۔

یہ آیت انسانی ترقی کے اُس مرکزی اصول کی نمائندہ ہے جو آج انسانی ترقی (Human Development) کے تصور کی بنیاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی کا وہ ماڈل جو انسان کی عزت، مساوات، اور انصاف سے خالی ہو، قرآن کے نقطۂ نظر سے نامکمل ہے۔

قرآن ہمیں اجتماعی فلاح کے لیے منصوبہ بندی، مشاورت، اور عدل پر مبنی نظم کی دعوت دیتا ہے۔

“وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ” (آل عمران: 159) یہ آیت participatory planning اور inclusive decision-making کے اصول کی اصل تعبیر ہے — وہی اصول جو آج پائیدار ترقی کے لیے لازم سمجھے جاتے ہیں۔ قرآن اجتماعی ذمہ داری، مشاورت، شفافیت، اور عدل پر مبنی نظام کو ایک صالح معاشرے کی بنیاد قرار دیتا ہے۔

بدقسمتی سے، ہم مسلمان بحیثیت امت قرآن کی ان تعلیمات کو اپنی پالیسیوں اور طرزِ حکمرانی میں حقیقی طور پر نافذ نہیں کر سکے۔ اگر ہم قرآن کو صرف تلاوت یا رسم تک محدود نہ رکھتے بلکہ اس کی روح — یعنی عدل، توازن، اور خدمتِ خلق — کو اپنی ترقیاتی منصوبہ بندی کا محور بناتے، تو شاید آج امتِ مسلمہ دنیا کے ترقی یافتہ اور باوقار معاشروں میں شمار ہوتی۔ 

یہ کتاب صرف مذہبی نصیحت نہیں بلکہ انسانی تمدن کی علمی و فکری بنیاد ہے، جس نے جدید سائنسی، سماجی، اور اخلاقی ترقی کے تمام بنیادی اصولوں کو صدیوں پہلے متعین کر دیا تھا۔

اسلامی فکر کی روشنی میں ترقی کا مطلب ہے انسان اور کائنات کے درمیان ہم آہنگی۔ اس تصور میں معیشت اخلاق سے جدا نہیں، سیاست عدل سے الگ نہیں، اور علم عبادت سے بیگانہ نہیں۔ یہی وہ جامع تصور ہے جو قرآن نے پیش کیا، اور آج عالمی سطح پر جسے “integrated development” یا “holistic growth” کے نام سے دوبارہ دریافت کیا جا رہا ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمان محققین، پالیسی ساز، اور تعلیمی ادارے قرآنی اصولوں کو جدید سائنسی و معاشرتی فریم ورک میں ازسرِنو متعارف کرائیں۔ اگر ہم اپنے ترقیاتی بیانیے کو قرآنی فکر سے جوڑ لیں تو یہ نہ صرف مادی خوشحالی بلکہ عالمی امن، انصاف، اور انسانی وقار کی ضمانت بن سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.