بریڈفورڈ ، برطانیہ
آج کل پاکستان سمیت وہ تمام ممالک جہاں پاکستانی بڑی تعداد میں آباد ہیں، وہاں علامہ اقبال کا دن نہایت عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے۔ اور ایسا ہونا بھی چاہیے، کیونکہ اپنے محسنوں کی یاد رکھنا ہماری قومی شناخت اور اجتماعی ضرورت ہے۔ ہر سال یہی جوش و خروش، یہی تقاریر اور محافل کا اہتمام دیکھنے کو ملتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اگر کسی چیز کی کمی رہتی ہے تو وہ اقبال کے افکار پر عمل کی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آ کر ہماری پیش رفت رک جاتی ہے۔ یوں اقبال کو ایک بار پھر اگلے سال تک کے لیے ذاتی، ادبی
اور لائبریریوں کے کتب خانوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔
یہ طرزِ عمل صرف اقبال کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہماری سوسائٹی کا عمومی رواج بن چکا ہے۔ چاہے بات قائداعظم کی ہو یا فیض احمد فیض کی، صوفی تبسم کی ہو یا حفیظ جالندھری کی ، حبیب جالب کی ہو یا احمد ندیم قاسمی کی — سب کے ساتھ ہمارا رویّہ تقریباً ایک سا ہے۔ یہی ہماری قوم کا المیہ ہے کہ ہم عشق کا دعویٰ تو کسی اور سے کرتے ہیں، مگر وفا کا حق کسی اور کے قدموں میں نچھاور کر دیتے ہیں۔
اس موقع پر میرے ذہن میں ماہر القادری کے چند معروف اشعار گونجنے لگے ہیں، جو انہوں نے قرآن کی فریاد کے حوالے سے تخلیق کہے تھے:
طاقوں میں سجایا جاتا ہوں، آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں
اور آگے چل کر وہ بڑے درد سے لکھتے ہیں:
دل سوز سے خالی رہتے ہیں، آنکھیں ہیں کہ نم ہوتی ہی نہیں
کہنے کو میں اک اک جلسے میں، پڑھ پڑھ کے سنایا جاتا ہوں
جو قوم قرآن کے ساتھ ایسا رویّہ اپنانے سے باز نہیں آتی، وہ اقبال کے ساتھ مختلف برتاؤ کیسے کر سکتی ہے؟
اقبال، قائد اعظم اور اپنے دیگر محسنوں کے دن ضرور منائیں لیکن ہماری زندگیوں کی پیش رفت میں ان کے پیغامات کی جھلک بھی ملنی چاہئے
ایک سوچ ، ایک فکر