باجوڑ کا ایک سماجی المیہ

ڈاکٹر اکرم اللہ

0

باجوڑ: پختون ہمیشہ اپنی مہمان نوازی، بہادری اور غیرت کے لیے جانے جاتے رہے ہیں۔ یہ خصوصیات ہمارے اجتماعی تشخص کا حصہ تھیں، مگر افسوس کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں ایک خاموش مگر خطرناک تبدیلی پیدا ہو چکی ہے۔ آج ہمارے رویوں میں منفی سوچ اس قدر سرایت کر چکی ہے کہ ہم دوسروں کے اچھے کام میں خوش ہونے کے بجائے ان میں خامی تلاش کرنے لگے ہیں۔

پوری پختون قوم میں یہ رجحان آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے، مگر باجوڑ میں اس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ میرے ایک سینئر افسر نے ایک بار مزاحیہ انداز میں بڑی حقیقت بھری بات کہی۔ انہوں نے کہا،
“جب ہم خیبر پختونخوا میں داخل ہوتے ہیں تو ایک بورڈ لکھا ہوتا ہے: ‘خوش آمدید، مہمان نوازی کی سرزمین میں۔’ مگر اگر ایسا ہی بورڈ باجوڑ کے لیے لگایا جائے تو اس پر لکھنا چاہیے: ‘خوش آمدید، منفی سوچوں کی سرزمین میں۔’”

اگرچہ یہ بات مذاق میں کہی گئی تھی، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں منفی سوچ کو عام رویہ سمجھا جانے لگا ہے۔ کسی کی کامیابی، ترقی، یا اچھا عمل اب فخر کے بجائے حسد کا باعث بنتا ہے۔

دفاتر میں روزانہ یہی ماحول دیکھا جاتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی ذمہ داریوں اور عوامی خدمت کے بجائے دوسروں پر تنقید اور شکایتیں کرنے میں وقت گزارتے ہیں۔ بجائے ایک دوسرے کی مدد کرنے کے، ہم کوشش کرتے ہیں کہ کوئی آگے نہ بڑھ سکے۔ جو شخص محنت سے کام کرے یا اپنی قابلیت سے ترقی کرے، وہ فوراً منفی گفتگو کا نشانہ بن جاتا ہے۔
ہم میں سے بہت سے لوگ جب کسی اعلیٰ دفتر اپنے جائز کام کے لیے جاتے ہیں تو وہاں بھی دوسروں کے بارے میں منفی باتیں چھوڑ آتے ہیں، جیسے یہ ہمارا معمول بن چکا ہو۔

یہ منفی سوچ صرف دفاتر تک محدود نہیں بلکہ ہمارے گھروں اور خاندانوں میں بھی سرایت کر چکی ہے۔ آج یہ عالم ہے کہ بھائی بھائی سے، کزن کزن سے صرف اس لیے بددل ہو جاتے ہیں کہ کسی ایک نے اپنی محنت اور تعلیم سے بہتر مقام حاصل کر لیا۔ بجائے خوشی منانے کے، حسد اور نفرت جنم لیتی ہے۔ یہ منفی سوچیں ہمارے خاندانی رشتے کمزور کر رہی ہیں اور باہمی اعتماد کو ختم کر رہی ہیں۔

اسی طرح دیہات اور محلوں میں بھی یہی رویہ عام ہے۔ اگر کسی غریب گھرانے کا فرد اپنی محنت سے کسی اچھی پوسٹ یا عزت والے مقام پر پہنچ جائے تو لوگ اسے سراہنے کے بجائے مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کے کردار پر باتیں کرتے ہیں، اس کی قابلیت پر شک کرتے ہیں اور ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ اس کی کامیابی کو داغ دار بنائیں۔ نتیجتاً محنتی لوگ دل برداشتہ ہو جاتے ہیں اور سماج میں ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔

باجوڑ میں بہت سے لوگ خلوصِ نیت سے سماجی خدمت کر رہے ہیں، کسی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں، کسی کے لیے تعلیم یا صحت کی سہولت فراہم کر رہے ہیں، لیکن افسوس ہم ان نیک کاموں کو بھی منفی رنگ دیتے ہیں۔ بجائے ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے، ہم ان کی نیتوں پر شک کرتے ہیں۔ یہی طرزِ فکر سماج میں نیکی کے جذبے کو ختم کر رہا ہے۔

میرے ایک قریبی دوست کا ایک واقعہ اس سوچ کی گہرائی واضح کرتا ہے۔ اس دوست کو آنکھوں کی الرجی تھی، ڈاکٹر نے اسے کالا چشمہ لگانے کا مشورہ دیا۔ وہ کہتا ہے:
“جب میں باجوڑ سے باہر ہوتا ہوں تو کالا چشمہ لگاتا ہوں، مگر جیسے ہی باجوڑ میں داخل ہوتا ہوں، چشمہ اتار دیتا ہوں۔ مجھے ڈر لگا رہتا ہے کہ لوگ کہیں الٹا برا نہ سمجھیں، اور مفت میں منفی رویوں کا شکار نہ بن جاؤں۔ پھر لوگ بات کرتے کرتے میرے پردادا تک پہنچ جائیں گے۔”
اور تو اور، ایک اور دوست نے بتایا کہ وہ جب باجوڑ سے باہر ہوتا ہے تو گاڑی میں سیٹ بیلٹ لازمی باندھتا ہے، مگر جیسے ہی باجوڑ میں داخل ہوتا ہے تو بیلٹ کھول دیتا ہے تاکہ لوگ برا نہ مان جائیں کہ “دیکھو فلاں کا بیٹا کتنا خود کو بڑا سمجھتا ہے، کیسے خَرے کرتا ہے۔”
سوچنے کی بات ہے، ہم اس مقام پر آ چکے ہیں کہ صحت یا حفاظت کے لیے کیے گئے درست عمل بھی ہمیں معاشرتی خوف کی وجہ سے چھوڑنے پڑتے ہیں۔

یہ رویہ صرف سماجی کمزوری نہیں بلکہ اخلاقی ناکامی ہے۔ ہمارا دین ہمیں حسد، بدگمانی اور نفرت سے سختی سے روکتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو، قطع تعلقی نہ کرو،
اور ایک دوسرے سے منہ مت پھیرو۔
اور اے اللہ کے بندو! تم آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔”

اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم دوسروں کی کامیابی پر خوش ہوں، ان کے لیے دعا کریں، اور ان کی بہتری میں اپنی خوشی تلاش کریں۔ مگر ہم نے اس تعلیم کو بھلا دیا ہے۔ ہم دوسروں کے عیب ڈھونڈنے میں مصروف ہیں اور اپنے کردار کی اصلاح سے غافل ہیں۔

منفی سوچ ہمیں کہیں نہیں لے جاتی۔ یہ معاشرے کو تقسیم کرتی ہے، اداروں کو کمزور بناتی ہے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ باجوڑ جیسے ضلع، جس میں تعلیم، زراعت، سیاحت اور تجارت کے بے پناہ امکانات ہیں، وہ تب ہی آگے بڑھ سکتا ہے جب ہم اپنی سوچ بدلیں۔

درحقیقت، منفی سوچ کمزوری کی علامت ہے۔ جو لوگ دوسروں پر تنقید میں وقت ضائع کرتے ہیں وہ خود کچھ حاصل نہیں کر پاتے، جبکہ تعمیری ذہن رکھنے والے لوگ اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دیتے ہیں۔ ہمیں ایسے مثبت لوگوں کی ضرورت ہے جو خاموشی سے کام کریں، دوسروں کی حوصلہ افزائی کریں اور معاشرے میں اتحاد پیدا کریں۔

ہمیں خود سے آغاز کرنا ہوگا۔ تبدیلی ہمیشہ اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنی سوچ کو مثبت بنا لیں تو ہمارا ماحول بھی بہتر ہو جائے گا۔ کسی ساتھی کی تعریف کرنا، کسی دوست کو مبارک دینا، کسی جونیئر کی رہنمائی کرنا — یہ چھوٹے چھوٹے عمل باہمی اعتماد اور احترام کی فضا بحال کر سکتے ہیں۔

جب آپ دشمنی کی حقیقت کو کھول دو گے تو یقیناً آپ کو معلوم ہوگا کہ بہت سی دشمنیاں دراصل ان ہی منفی سوچوں اور رویوں کے گرد گھومتی ہیں۔

لہٰذا اب وقت ہے کہ ہم شک کی جگہ سچائی، حسد کی جگہ محبت، اور منفی گفتگو کی جگہ باہمی تعاون کو فروغ دیں۔ باجوڑ کو “منفی سوچوں کی سرزمین” نہیں بلکہ بھائی چارے، مہمان نوازی اور باہمی احترام کی سرزمین کے طور پر پہچانا جانا چاہیے۔

ہمارا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم دوسروں کے بارے میں کیا کہتے ہیں نہیں، بلکہ ان کے لیے کیا کرتے ہیں۔ اگر ہم مثبت سوچ، تعاون اور اتحاد کو اپنالیں تو کوئی وجہ نہیں کہ باجوڑ ترقی کی راہ پر نہ بڑھے۔ تبدیلی کا آغاز ہم سب کو خود سے کرنا ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.