بھٹوں کی سرخ مٹی میں جلتا ہوا بچپن: نادرہ اور گُڈو کی کہانیاں

فیصل سلیم

0

خانیوال: بھٹے کی سرخ مٹی میں صرف اینٹیں ہی نہیں پکتی ہوتیں، یہاں بچپن بھی جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔ صبح کی دھند میں جب مزدور قطار در قطار کام پر لگتے ہیں، تو ان کے درمیان چند کمسن لڑکیاں بھی ہوتی ہیں جو بھٹہ مزدور کہلاتی ہیں۔ مگر حقیقت میں یہ لڑکیاں ایک ایسے استحصالی چکر کا حصہ ہیں جہاں ان کی عمر، جنس اور غربت سب ان کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔

نادرہ اس نظام کی زندہ مثال ہے۔ سترہ سالہ نادرہ دکھنے میں لاغر اور نحیف ہے۔ اس کی شادی چند ماہ قبل 45 سالہ مظہر سے ہوئی، اور یہ نادرہ کی تیسری شادی ہے۔ پہلی شادی اس کی محض 12 سال کی عمر میں، دوسری 13 سال کی عمر میں، اور تیسری 17 سال کی عمر میں ہوئی۔ مظہر کی بھی یہ تیسری شادی ہے۔ نادرہ کی پہلی دو شادیوں میں انہیں طلاق دی گئی، جس کی وجہ ان کے گھریلو کاموں میں سستی اور ذہنی توازن کو بتایا گیا، لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔ آل پاکستان بھٹہ مزدور ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد حسین کھوکھر کے مطابق، بھٹہ مزدروں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے جیسے غریب لوگوں کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں، اور نادرہ اسی استحصال کا شکار رہی۔

محمد حسین کھوکھر بتاتے ہیں کہ نادرہ کے والد شروع سے بھٹہ مزدور نہیں تھے بلکہ ایک چھوٹے درجے کے کاشتکار تھے۔ مسلسل قرضوں کے بوجھ تلے دبنے کے بعد انہیں اپنا پیشہ بدل کر بھٹے پر رہائش اختیار کرنا پڑی۔

نادرہ اکیلی نہیں ہے۔ گُڈو کی کہانی بھی کم دردناک نہیں۔ گُڈو پانچ سال کی عمر میں اپنے والد اور والدہ کے سائے سے محروم ہو گئی۔ اس کے چچا نے اپنے بھائی کے قتل کے الزام کے تحت گُڈو اور اس کے چھوٹے بھائی کی کسٹڈی کا مطالبہ کیا، اور راضی نامے کے دوران گُڈو کی والدہ مجبور ہو کر اس کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئیں۔

سات سال کی عمر میں گُڈو کو چچا کے گھر گزارنے پڑے، جہاں وہ شراب نوشی اور منشیات کے ماحول میں رہی۔ بعد میں قریبی رشتہ دار منیر نے قانونی کارروائی کے ذریعے گُڈو کی والدہ کو کسٹڈی دلائی، لیکن اس کے بدلے 80 ہزار روپے یا شادی کے دباؤ کا مطالبہ کیا۔ مجبور والدہ نے بچی کی مرضی کے بغیر شادی کر دی، اور رخصتی کے بعد گُڈو نے انکشاف کیا کہ اس کے چچا نے اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

محمد حسین کھوکھر کے مطابق یہ واقعات محض انفرادی نہیں بلکہ نظام کا حصہ ہیں۔ بھٹہ مزدور خاندانوں میں پیسوں کے لین دین میں بچیوں کو ان کی مرضی کے بغیر قربان کر دیا جاتا ہے۔

قانونی پہلو اور تحفظ

چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ (پنجاب ترمیم) کے تحت لڑکی کی شادی کی عمر 16 سال مقرر ہے۔ دیگر صوبوں اور وفاق میں یہ حد 18 سال ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کے مطابق نابالغ بچی سے جنسی تعلق ریپ کے زمرے میں آتا ہے، چاہے نکاح ہوا ہو یا نہ ہوا۔ انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت اور بچیوں کو لین دین کے عوض دینا بھی قابلِ تعزیر جرم ہے۔بھٹوں کی سرخ مٹی میں جلتا ہوا بچپن: نادرہ اور گُڈو کی کہانیاںڈسٹرکٹ وومن پروٹیکشن آفیسر منیزہ بٹ کے مطابق، وائلنس اگینسٹ وومن سنٹر ملتان پنجاب حکومت کا مربوط ادارہ ہے جو خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے مقدمات میں ون ونڈو سہولت فراہم کرتا ہے۔ وومن پروٹیکشن آفیسر سلوت شافی کے مطابق، رواں سال 16 سال سے کم عمر لڑکیوں کی جبری شادی کے 17 کیسز اور 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کے 71 کیسز رپورٹ ہوئے۔

سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (سپارک) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر آسیہ عارف کے مطابق، سپارک نے 2016 تا 2020 پنجاب کے مخصوص اضلاع میں عوامی آگاہی اور قانونی کارروائی کے ذریعے اس نوعیت کی شادیوں کا تدارک کیا۔ موجودہ دور میں ملتان و خانیوال میں 25 نان فارمل ایجوکیشن سنٹرز میں بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ بچیوں کی جبری شادیوں کے بارے میں آگاہی بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

قومی بحران

نادرہ اور گُڈو کی کہانیاں محض انفرادی المیوں کا عکس نہیں، بلکہ غربت، جنسی تعصب اور استحصالی طاقتوں کے نظام کا زندہ ثبوت ہیں۔ یونیسیف کے مطابق پاکستان میں تقریباً ہر چھ میں سے ایک لڑکی کی شادی 18 سال سے قبل ہو جاتی ہے اور 48 لاکھ لڑکیاں 15 سال کی عمر سے پہلے شادی کے بندھن میں بندھ چکی ہیں۔

یہ مسئلہ صرف خاندانوں تک محدود نہیں بلکہ ایک قومی بحران ہے، جس کے سنگین اثرات تعلیم، صحت، اور بچیوں کے نفسیاتی مستقبل پر پڑتے ہیں۔ اگر فوری اور مربوط معاشرتی، قانونی اور پالیسی اقدامات نہ کیے گئے تو ہزاروں مزید نادرہ اور گُڈو جیسی بچیاں نہ صرف بچپن کھو دیں گی بلکہ اپنی خود مختاری اور حقوق بھی ہمیشہ کے لیے قربان کر دیں گی۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.