ڈھاکہ سے کراچی تک ایک پرواز، جو صرف فاصلہ نہیں تاریخ بھی سمیٹے گی

0

جنوری میں جب بنگلہ دیش کی قومی ایئرلائن بیمان ایئر کی پرواز ڈھاکہ سے کراچی کے لیے روانہ ہوگی تو یہ محض ایک فضائی روٹ کی بحالی نہیں ہوگی، بلکہ یہ ان گنت بچھڑے رشتوں، ادھورے سفر اور معطل روابط کی ایک نئی شروعات کی علامت بنے گی۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہ راست فضائی رابطہ کئی دہائیوں سے معطل تھا۔ اس دوران دونوں ممالک کے شہریوں کو ایک دوسرے تک پہنچنے کے لیے دبئی، دوحہ، کولمبو یا کوالالمپور جیسے تیسرے ممالک کے ذریعے طویل، مہنگا اور تھکا دینے والا سفر کرنا پڑتا تھا۔ براہ راست پروازوں کا آغاز اس خلا کو پُر کرنے کی ایک عملی اور دیرینہ ضرورت تھی۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی ایشیا میں عوامی روابط اور علاقائی تعاون کی اہمیت پر دوبارہ توجہ دی جا رہی ہے۔ اگرچہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کی تاریخ پیچیدہ اور حساس رہی ہے، مگر ماہرین کے مطابق عوامی، ثقافتی اور تجارتی سطح پر روابط کی گنجائش ہمیشہ موجود رہی ہے۔

بچھڑے خاندان، آسان سفر

براہ راست پروازوں سے سب سے زیادہ فائدہ عام شہریوں کو پہنچنے کی توقع ہے، خصوصاً وہ خاندان جن کے رشتے سرحدوں کے آر پار بٹے ہوئے ہیں۔ برسوں سے یہ افراد اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے طویل ٹرانزٹ اور اضافی اخراجات برداشت کرتے آ رہے تھے۔

کراچی کے رہائشی محمد عمران، جو حال ہی میں اپنی والدہ کے ہمراہ بنگلہ دیش میں عزیز و اقارب سے ملاقات کر کے واپس آئے، بتاتے ہیں کہ بزرگ شہریوں کے لیے متعدد پروازیں اور طویل انتظار جسمانی و ذہنی طور پر انتہائی مشقت طلب ہوتا ہے۔ ان کے مطابق براہ راست پرواز بزرگ مسافروں کے لیے ایک بڑی سہولت ثابت ہوگی۔

اسی طرح کراچی سے تعلق رکھنے والی صحافی ام کلثوم کے خاندان کے کئی افراد آج بھی ڈھاکہ اور باریسال میں مقیم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد خاندان دو حصوں میں بٹ گیا تھا۔ اب ویزہ پالیسی میں نرمی اور براہ راست پروازوں کے آغاز نے ان کے والدین میں ایک بار پھر اپنے ماضی اور رشتوں سے جڑنے کی امید جگا دی ہے۔

طلبہ، مریض اور مختصر دورانیے کے مسافر

یہ سہولت صرف خاندانوں تک محدود نہیں رہے گی۔ طلبہ، مریض اور مختصر دورانیے کے سفر پر جانے والے افراد بھی براہ راست پروازوں سے نمایاں فائدہ اٹھا سکیں گے۔ وقت اور اخراجات میں کمی کے باعث یہ سفر پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ قابلِ عمل ہو جائے گا۔

تجارت اور معیشت کو نئی راہ

تجارتی حلقوں میں بھی اس فیصلے کو خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی معیشتوں میں ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات، دواسازی اور لائٹ انجینئرنگ جیسے شعبے نمایاں ہیں۔

ٹیکسٹائل شعبے سے وابستہ سابق چیئرمین ٹاول مینوفیکچرز ایسوسی ایشن محمد ہارون شمسی کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کاروباری تعلقات محض معاہدوں سے نہیں بلکہ براہ راست رابطوں اور اعتماد سے مضبوط ہوتے ہیں، اور براہ راست پروازیں اس اعتماد کو فروغ دے سکتی ہیں۔

تعلیم اور تحقیق کے نئے امکانات

وفاقی اردو یونیورسٹی کے محقق اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہر محمد فاروق سمیع کے مطابق ڈھاکہ اور کراچی دونوں بڑے تعلیمی مراکز ہیں، جہاں ہزاروں غیر ملکی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ براہ راست پروازوں سے تعلیمی تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور اکیڈمک تعاون کے امکانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

طبی سہولیات تک آسان رسائی

ڈاکٹر ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ طبی شعبے میں بھی یہ پیش رفت اہم ہے۔ دونوں شہروں میں بڑے ہسپتال اور طبی مراکز موجود ہیں جہاں علاج کے لیے سرحد پار سے مریض آتے رہے ہیں۔ براہ راست پروازوں سے خاص طور پر ہنگامی حالات میں طبی سفر آسان ہو جائے گا۔

ایک پرواز، کئی معنی

29 جنوری کو جب بیمان ایئر کی پرواز ڈھاکہ سے کراچی کے لیے اڑان بھرے گی تو یہ صرف ایک طیارہ نہیں ہوگا جو فضا میں بلند ہوگا، بلکہ یہ برسوں کے تعطل کے بعد ایک نئے اعتماد، نئے رابطے اور ایک بہتر مستقبل کی سمت ایک قدم ہوگا۔

براہ راست پروازوں کا آغاز بظاہر ایک انتظامی فیصلہ ہے، مگر درحقیقت یہ ایک علامتی قدم بھی ہے—ایسا قدم جو فاصلے کم کرنے، روابط بحال کرنے اور عام لوگوں کی زندگی کو قدرے آسان بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.