کیا 2026 میں پرانے وائرس ہمیں دوبارہ دھوکہ دے سکتے ہیں؟

نیوز ڈیسک

0

اسلام آبا: صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 میں عالمی سطح پر سب سے بڑا خطرہ کسی نئے وائرس سے نہیں بلکہ پرانے وائرس سے ہو سکتا ہے، جنہیں ہم پہلے سے جانتے ہیں مگر اب وہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، دنیا بھر میں بڑھتا ہوا سفر اور انسانوں اور جانوروں کے قریب آنے کے عوامل ان وائرسوں کو دوبارہ فعال کر رہے ہیں۔ تاہم، کئی ممالک اچانک پھیلنے والی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے ابھی بھی پوری طرح تیار نہیں ہیں۔
انفلوئنزا اے وائرس سب سے زیادہ تشویش کا سبب ہے۔ یہ وائرس بہت تیزی سے اپنی شکل بدلتا ہے اور پرندوں، جانوروں اور انسانوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ 2009 کے سوائن فلو نے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی جان لی تھی، اور اس وقت بھی خطرہ موجود ہے، خاص طور پر برڈ فلو کی وجہ سے، جو پرندوں سے دیگر جانوروں اور بعض جگہوں پر مویشیوں تک منتقل ہو چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ وائرس انسانوں میں آسانی سے منتقل ہونا شروع ہو جائے تو ایک نئی عالمی وبا جنم لے سکتی ہے اور موجودہ ویکسینز مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکتیں۔
ایک اور خطرہ ایمپوکس (سابقہ مکی پوکس) ہے۔ یہ بیماری کبھی صرف افریقہ تک محدود تھی مگر 2022 کے بعد یہ دنیا کے کئی ممالک میں پھیل چکی ہے۔ اب یہ وائرس انسان سے انسان میں بھی منتقل ہو رہا ہے اور بعض علاقوں میں اس کی زیادہ خطرناک اقسام سامنے آ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 میں ایمپوکس کی نئی لہریں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ کم معروف مگر خطرناک زکا وائرس بھی ہے، جو مچھر اور دیگر چھوٹے حشرات کے ذریعے پھیلتا ہے۔ عام علامات میں بخار، سر درد اور جسم درد شامل ہیں۔ یہ وائرس اب تک لاطینی امریکہ اور کیریبین تک پھیل چکا ہے، اور ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اس کو نئے علاقوں تک لے جا سکتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کچھ علاقوں میں چکن گنیاں بڑھ رہی ہیں، ویکسین نہ لگوانے کی وجہ سے خسرہ واپس آ سکتا ہے، اور بعض ممالک میں کمزور صحت کے نظام کی وجہ سے ایچ آئی وی کے کیسز بڑھ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وباؤں سے بچاؤ کے لیے وقت پر تیاری اور بیماریوں پر مسلسل نگرانی کا نظام انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی جڑی ہوئی دنیا میں بیماریاں سرحدیں نہیں مانتیں، اس لیے صحت کی حفاظت کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.