جب ایمان اور عقل الگ ہو جائیں

تحریر: ڈاکٹر اکرام اللہ خان

0

باجوڑ: آج کی دنیا، بالخصوص مسلم معاشرے، ایک گہرے فکری بحران سے گزر رہے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ مذہبی اور سائنسی علم کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ بدقسمتی سے مذہب اور سائنس کو اکثر ایک دوسرے کی ضد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جیسے ایک وہاں ختم ہو جاتا ہو جہاں دوسرا شروع ہوتا ہے۔ یہ سوچ نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ فرد اور معاشرے دونوں کی ترقی کے لیے نقصان دہ بھی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مذہب انسان کو مقصدِ حیات، اخلاقی سمت اور روحانی بنیاد فراہم کرتا ہے، جبکہ سائنس مادی دنیا کو سمجھنے، مسائل کے حل اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں مدد دیتی ہے۔ حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب مذہب کی اخلاقی رہنمائی اور سائنس کی عملی مہارت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر آگے بڑھیں۔ مگر آج یہ توازن کمزور پڑ چکا ہے۔
ہمارے مذہبی ادارے اکثر روحانیت تک محدود ہو گئے ہیں اور جدید سائنسی و سماجی چیلنجز کو نظرانداز کر رہے ہیں، جبکہ جدید تعلیمی نظام اخلاقی اور روحانی تربیت سے تقریباً خالی ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو یا تو مذہبی تو ہے مگر عصری دنیا کے تقاضوں سے ناواقف ہے، یا جدید علوم میں ماہر تو ہے مگر اخلاقی شعور سے محروم۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلم تہذیب کا سنہرا دور مذہب اور سائنس کے امتزاج پر قائم تھا۔ اس دور کے مسلم علماء نے دینی علوم کے ساتھ ساتھ فلسفہ، طب، فلکیات اور دیگر سائنسی شعبوں میں بھی غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ امام غزالیؒ نے روحانی بصیرت کو عقلی فکر کے ساتھ جوڑا اور احیاء علوم الدین میں عقل و ایمان کے باہمی تعلق کو واضح کیا۔ ابنِ سینا کی القانون فی الطب صدیوں تک یورپ میں طب کی مستند کتاب رہی۔ ابنِ رشد نے مذہب اور فلسفے کو حقیقت تک پہنچنے کے دو ہم آہنگ راستے قرار دیا، جبکہ برصغیر میں شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے دینی اصلاح کے ساتھ معاشرتی شعور کو بھی مرکزی حیثیت دی۔
یہ تمام مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ حقیقی دینداری کبھی عقل یا سائنس سے دوری کا تقاضا نہیں کرتی۔ بلکہ ایمان اور عقل، دونوں مل کر انسانیت کی بہتر خدمت کر سکتے ہیں۔
یہ تصور صرف مسلم مفکرین تک محدود نہیں۔ مغربی دنیا میں بھی کئی دانشوروں نے اخلاقیات اور سائنسی ترقی کے توازن پر زور دیا ہے۔ برٹرینڈ رسل نے اپنی کتاب Religion and Science میں لکھا کہ مذہب اور سائنس کے درمیان تصادم ناگزیر نہیں، جبکہ کیرن آرمسٹرانگ نے The Case for God میں واضح کیا کہ جدید معاشرے اکثر مذہب اور عقل کے تعلق کو غلط سمجھتے ہیں۔ مذہبی ہوں یا سیکولر، مسلم ہوں یا غیر مسلم، سنجیدہ مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ روحانی اور سائنسی علم کو الگ کرنا معاشرتی زوال کا سبب بنتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم سے غلطی کہاں ہوئی؟ نوآبادیاتی اور بعد از نوآبادیاتی ادوار میں ہمارا تعلیمی نظام دو حصوں میں بٹ گیا۔ مدارس صرف مذہبی تعلیم تک محدود ہو گئے، جبکہ جدید تعلیمی اداروں نے مذہب کو ذاتی معاملہ سمجھ کر نظرانداز کر دیا۔ اس تقسیم نے معاشرے کو روایت اور جدت، اقدار اور افادیت کے درمیان الجھا دیا۔
آگے بڑھنے کے لیے ہمیں اس فکری خلیج کو پاٹنا ہوگا۔ اسکولوں اور جامعات میں مذہبی اور سائنسی علوم کو ایک دوسرے کے مخالف کے بجائے تکمیلی حیثیت میں پڑھایا جانا چاہیے۔ قرآن خود غور و فکر، مشاہدے اور تدبر کی دعوت دیتا ہے—کائنات، زمین اور انسان کے اپنے وجود پر سوچنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ ایمان کے ساتھ عقل کی بھی قدر کرتا ہے۔
قرآنی اخلاقیات کو سائنسی تحقیق کے ساتھ جوڑ کر ہم ایسی نسل تیار کر سکتے ہیں جو حکمت اور مہارت دونوں سے لیس ہو۔ ساتھ ہی تنقیدی سوچ کو فروغ دینا ہوگا، کیونکہ اندھی تقلید—چاہے مذہب میں ہو یا سائنس میں—ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
علماء کو ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تبدیلی اور سماجی انصاف جیسے جدید مسائل پر رہنمائی فراہم کرنی چاہیے، جبکہ سائنسدانوں کو اخلاقی اصولوں کو اپنی تحقیق اور ایجادات کا حصہ بنانا ہوگا۔ میڈیا اور عوامی مکالمے کو بھی مذہب اور سائنس کے تصادم کے بجائے ان کی ہم آہنگی کو اجاگر کرنا چاہیے، تاکہ ایسے کردار سامنے آئیں جو دونوں کا حسین امتزاج ہوں—اخلاقی سائنسدان، روحانی شعور رکھنے والے ڈاکٹر اور عصری مسائل سے آگاہ دینی رہنما۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی پہلی وحی کا آغاز لفظ “اقرأ” سے ہوا—مگر یہ حکم محض پڑھنے کا نہیں بلکہ “اپنے رب کے نام سے پڑھنے” کا تھا۔ اس میں واضح پیغام ہے کہ علم کو ایمان سے جدا نہیں ہونا چاہیے۔
حقیقی ترقی صرف زیادہ مشینیں، زیادہ دولت یا زیادہ ڈگریاں حاصل کرنے کا نام نہیں۔ حقیقی ترقی تب ہے جب ہم بہتر انسان بنیں—روحانی طور پر باشعور اور سائنسی طور پر باصلاحیت۔
آئیے، مذہب اور سائنس کے درمیان توازن کو دوبارہ قائم کریں اور ایسا مستقبل تعمیر کریں جہاں دل اور دماغ مل کر انسانیت کی بھلائی کے لیے کام کریں۔

مصنف خیبر پختونخوا کے قبائلی خطے میں بطور سرکاری ملازم خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اس اداریے میں پیش کیے گئے خیالات مصنف کی ذاتی آراء کی عکاسی کرتے ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے کی ادارتی پالیسی سے مطابقت رکھتے ہوں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.