باجوڑ: ضلع باجوڑ میں غذائی تحفظ کی صورتحال نہ صرف معاشی حالات بلکہ ماحولیاتی تغیرات سے بھی گہری طور پر متاثر ہو رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں قدرتی وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ اور موسمی بے ترتیبی نے عوام کی خوراک تک رسائی کو ایک سنجیدہ چیلنج بنا دیا ہے۔
یو این ایف اے او کے ائی پی س

ی رپورٹ کے مطابق ضلع باجوڑ میں نومبر 2024 سے مارچ 2025 کے دوران غذائی تحفظ کی صورتحال درج ذیل رہی۔ سال 2024 میں کل آبادی 13,24,152 افراد پر مشتمل تھی، جن میں سے 5,95,868 افراد (45 فیصد) فیز ون یعنی نسبتاً بہتر غذائی تحفظ میں تھے۔
فیز ٹو (درمیانی غذائی عدم تحفظ) میں 4,63,453 افراد شامل تھے جو 35 فیصد بنتے ہیں۔ فیز تھری (سنگین غذائی عدم تحفظ) میں 1,98,623 افراد تھے جو 15 فیصد ہیں، جبکہ فیز فور (شدید غذائی عدم تحفظ) میں 66,208 افراد شامل تھے جو 5 فیصد بنتے ہیں۔ فیز فائیو یعنی تباہ کن غذائی عدم تحفظ میں کوئی فرد رپورٹ نہیں ہوا۔
https://urdu.thepenpk.com/?p=7144
اسی طرح سال 2025 میں ضلع باجوڑ کی کل آبادی میں سے 9,20,979 افراد ریکارڈ کیے گئے۔ ان میں سے 4,14,441 افراد (45 فیصد) فیز ون میں تھے یعنی نسبتًا بہتر غذائی تحفظ میں تھے، جبکہ 2,76,294 افراد (30 فیصد) فیز ٹو (درمیانی غذائی عدم تحفظ) میں شامل رہے۔ فیز تھری یعنی (سنگین غذائی عدم تحفظ) میں 1,38,147 افراد تھے جو 15 فیصد بنتے ہیں، اور فیز فور (شدید غذائی عدم تحفظ) میں 92,098 افراد شامل تھے جو 10 فیصد ہیں۔ فیز فائیو یعنی تباہ کن غذائی عدم تحفظ میں سال 2025 میں بھی کوئی فرد رپورٹ نہیں ہوا۔
ایک ہی سال میں یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگر چہ بڑی تعداد نسبتاً بہتر غذائی تحفظ اور درمیانی غذائی عدم تحفظ میں آتی ہے، تاہم سنگین اور شدید غذائی عدم تحفظ میں بھی قابل ذکر شرح رپورٹ ہوئی ہے جو یہاں پر غذائی عدم تحفظ کی سنگینی کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے۔
ضلع باجوڑ میں غذائی عدم تحفظ کے بنیادی عوامل میں موسمیاتی تبدیلی سرفہرست ہے، جس کے باعث بے وقت بارشیں، سیلاب، خشک سالی اور درجۂ حرارت میں اضافہ فصلوں کی پیداوار کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ پانی کی قلت، زمین کی زرخیزی میں کمی اور قدرتی آفات نے کسانوں کی آمدن گھٹا دی ہے، جس سے خوراک تک رسائی محدود ہو رہی ہے۔ اس مسئلے کی سدباب کے لیے موسمیاتی موافق زراعت، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام، خشک سالی برداشت کرنے والی فصلوں کے بیج، شجرکاری، اور کسانوں کی تکنیکی تربیت ناگزیر ہے، تاکہ مستقبل میں غذائی تحفظ کو پائیدار بنیادوں پر یقینی بنایا جا سکے.