مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے اسرائیل کے خلاف اپنی عسکری کارروائیوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے تل ابیب پر میزائل حملہ کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے پہلی بار کلسٹر بموں سے لیس ‘خیبر شکن’ میزائل کے ذریعے تل ابیب کو نشانہ بنایا، جس کے بعد شہر میں کئی مقامات پر زوردار دھماکے سنائی دیے اور مختلف علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ذرائع کے مطابق ایران نے تل ابیب سمیت اسرائیل کے مختلف شہروں کی جانب درجنوں ڈرونز اور میزائل داغے، جن کے نتیجے میں متعدد مقامات پر آگ لگ گئی اور شعلے دور دور تک دکھائی دیے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اردن کی فضائی حدود میں بھی بڑی تعداد میں ایرانی میزائلوں کو گزرتے ہوئے دیکھا گیا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی لائیو کوریج کے دوران ان میزائل حملوں کے مناظر براہِ راست نشر کیے۔ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق جاری جنگ کے دوران اب تک اسرائیل پر ہزاروں بیلسٹک اور کروز میزائل داغے جا چکے ہیں، جو دشمن کی جارحیت کا جواب ہیں۔عسکری ماہرین کے مطابق خیبر شکن میزائل کا کلسٹر بموں سے لیس ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ میں زیادہ تباہ کن ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے اور جنگ کے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔