خامنہ ای پر حملے کا بدلہ لیا جائے گا، ٹرمپ کو قیمت چکانا ہوگی: علی لاریجانی
تہران: ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر حملے کے معاملے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کی قیمت ضرور چکانی پڑے گی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہونے والے علی لاریجانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ وہ اپنے رہنما کی موت کا بدلہ ضرور لیں گے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا، “ہم ٹرمپ کو نہیں چھوڑیں گے، خامنہ ای کی موت کی قیمت ٹرمپ کو چکانی ہوگی۔ حملوں میں ہمارے رہنما سمیت کئی لوگ شہید ہوئے ہیں، یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے اور ہم اس کا مناسب جواب دیں گے۔”
رپورٹس کے مطابق علی لاریجانی نے ایک اور پیغام میں دعویٰ کیا کہ جنگ کے دوران کئی امریکی فوجیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور انہیں جیلوں میں رکھا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ یہ کہہ کر گمراہ کن بیان دے رہے ہیں کہ ایرانی حملوں میں صرف چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ حقیقت میں ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
علی لاریجانی نے مزید کہا کہ بعد میں مختلف حادثات اور فرضی واقعات دکھا کر ہلاکتوں کی تعداد بڑھائی جا سکتی ہے۔
مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے اس موقع پر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ امریکی افواج انہیں قیدی بنا کر لے گئی ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ نے وینزویلا کی طرح ایران میں بھی جلد جنگ ختم کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔