مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب پر امریکی تجزیہ کاروں نے ٹرمپ پالیسی پر سوال اٹھا دیے

0

تہران (ویب ڈیسک) — امریکی تجزیہ کاروں نے ایران میں سید مجتبیٰ خامنہ ای کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسیوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا ادارے الجزیرہ کے مطابق تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد قیادت ان کے بیٹے کو منتقل ہونی تھی تو حالیہ امریکی اور اسرائیلی اقدامات بے معنی ہو گئے ہیں، کیونکہ نظام میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔

مشہور امریکی تجزیہ کار باربرا سلاوِن نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے خاندان کے تقریباً تمام افراد کو جنگ کے دوران نشانہ بنایا گیا، اور ان کے قتل کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای صلح جوئی کے بجائے مزید سخت اور جارحانہ موقف اختیار کر سکتے ہیں، جو امریکہ اور اسرائیل کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ توقع کرتی تھی کہ خامنہ ای کے بعد ایرانی نظام بکھر جائے گا، لیکن مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایران کی ریاستی مشینری اب بھی فعال ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.