تہران (ویب ڈیسک): ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان ممالک کو آبنائے ہرمز سے آزادانہ گذر کی اجازت دے گا جو امریکی اور اسرائیلی سفیروں کو نکال دیں گے۔
IRGC کے ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ صرف ایران کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے کی سلامتی یا تو سب کے لیے ہوگی یا کسی کے لیے بھی نہیں۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو وہ خطے سے ایک قطرہ بھی تیل برآمد نہیں ہونے دیں گے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن کانفرنس میں کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کرے گی۔ انہوں نے پہلے بھی کہا تھا کہ حالات کے مطابق امریکی نیوی کو تجارتی جہازوں کے ساتھ وہاں تعینات کیا جا سکتا ہے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس پر بھی چیلنج کیا کہ اگر امریکی نیوی کے پاس ہمت ہے تو وہ ہرمز میں تیل سے بھرے جہازوں کی حفاظت دکھائیں۔
پس منظر:
آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، اور اس پر کسی بھی ملک کا کنٹرول عالمی توانائی مارکیٹ اور خطے کی سیاسی صورتحال پر بڑا اثر ڈال سکتا ہے