کراچی: ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز پر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، جس کے جواب میں پاکستان نے بحیرہ احمر کے راستے خام تیل کی درآمد کا آغاز کر دیا ہے۔ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کے جہاز سعودی عرب کی یانبو اور متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ سے تیل لوڈ کر کے کراچی کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔ماہرین کے مطابق، آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے اور اس کی بندش سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی برآمد متاثر ہوئی ہے۔ اس بحران کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر کے نئے ریٹ پیٹرول 321.17 روپے اور ڈیزل 335.86 روپے فی لیٹر مقرر کر دیے گئے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر کے راستے تیل کی درآمد پاکستان کے لیے توانائی کی بلا تعطل فراہمی کی ایک عارضی “لائف لائن” ہے اور یہ عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے دوران توانائی کے تحفظ کے لیے متنوع راستوں پر انحصار کی اہمیت ظاہر کرتی ہے۔