اتحادیوں نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں ساتھ نہ دیا تو نیٹو کا مستقبل برا ہوگا، ٹرمپ

0

واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اتحادی ممالک نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے امریکی کوششوں کا ساتھ نہ دیا تو نیٹو کا مستقبل “انتہائی برا” ہو سکتا ہے۔

فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی پر ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے تقریباً سات ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اہم تجارتی گزرگاہ کو کھلا رکھنے کے لیے اپنے جنگی جہاز بھیجیں۔

صدر ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، تاہم امریکا اپنی تیل کی ضروریات کے لیے اس راستے پر انحصار نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطے کے ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے آگے آئیں۔

ٹرمپ نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اپنی ضرورت کا تقریباً 90 فیصد تیل اسی راستے سے حاصل کرتا ہے، اس لیے متعلقہ ممالک کو چاہیے کہ وہ یہاں مائن سویپرز اور فوجی دستے تعینات کریں تاکہ ساحلی علاقوں میں موجود خطرات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

امریکی صدر نے یہ بھی اشارہ دیا کہ موجودہ کشیدگی کے باعث چینی صدر کے ساتھ رواں ماہ کے آخر میں متوقع سربراہی ملاقات مؤخر ہو سکتی ہے۔

ایران کی عسکری صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ایرانی ڈرون سازی کی صنعت کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس وقت جنگ ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے پر تیار نہیں، تاہم وہ اس مرحلے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ٹرمپ نے ایرانی حکومت پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے غلط معلومات اور جعلی تصاویر پھیلانے کا الزام بھی عائد کیا۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ متعدد ممالک نے اپنے جہازوں کے محفوظ گزرنے کے لیے تہران سے رابطہ کیا ہے، جس کے بارے میں حتمی فیصلہ ایرانی فوج کرے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کا راستہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے علاوہ دیگر ممالک کے لیے کھلا رکھا ہے۔ عباس عراقچی کے مطابق اس جنگ کا آغاز 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں سے ہوا، اس لیے فی الحال مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.