اسلام آباد (نیوز ڈیسک) – وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک میں جاری توانائی کے بحران اور تاجر برادری کے کاروباری اوقات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک بن چکا ہے جہاں بازار دوپہر کے بعد کھلتے اور نصف رات کے بعد بند ہوتے ہیں۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ کئی بار اس مسئلے کو ہر سطح پر اٹھایا گیا، لیکن تاجروں کی سیاسی اور معاشی طاقت کے سامنے حکومتیں ہمیشہ بے بس نظر آتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف برسوں سے بجلی کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے، تو دوسری طرف بجلی چوری کو اپنا حق سمجھ کر استعمال کیا جاتا ہے۔
وزیر دفاع نے سورج کی قدرتی روشنی سے فائدہ نہ اٹھانے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
“اللہ تعالیٰ نے ہمیں بارہ مہینے بھرپور سورج کی روشنی سے نوازا ہے، لیکن ہم اس پر بضد ہیں کہ اپنا کاروبار رات کے اندھیرے میں مصنوعی بجلی کی روشنی میں ہی کریں گے۔”
خواجہ آصف نے عالمی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں مغرب کے بعد بازار بند کر دیے جاتے ہیں اور ہفتے میں ایک مکمل چھٹی کا قانون نافذ ہے، مگر پاکستان میں ایسی مارکیٹیں موجود ہیں جہاں مبینہ طور پر ‘رزقِ حلال’ چوری کی بجلی سے کمائی جا رہی ہے۔