صدر زرداری کا چینی سفارتخانے کا مبینہ خفیہ دورہ، مشرق وسطیٰ صورتحال پر اہم اجلاس طلب
اسلام آباد: سفارتی ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے مبینہ طور پر اسلام آباد میں چینی سفارت خانے کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔ یہ دورہ وفاقی دارالحکومت میں چار ملکی مذاکرات کے اختتام کے بعد کیا گیا۔
صدارتی دفتر کی جانب سے اس حوالے سے نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید، جبکہ ترجمان کا کہنا ہے کہ عموماً ایسی ملاقاتوں کے بعد پریس ریلیز اور ویڈیو جاری کی جاتی ہے، تاہم اس معاملے میں کوئی باضابطہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔دوسری جانب صدر زرداری نے مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال اور پاکستان کے ممکنہ ثالثی کردار کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، سینئر وفاقی وزرا، اعلیٰ عسکری قیادت اور صوبائی وزرائے اعلیٰ کی شرکت متوقع ہے۔اجلاس میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور اس کے خطے پر اثرات، خصوصاً خلیجی ممالک کی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار شرکاء کو حالیہ سفارتی رابطوں اور پیش رفت پر بریفنگ دیں گے۔اجلاس میں ملک کے پٹرولیم ذخائر، سپلائی کی صورتحال، کفایت شعاری اقدامات اور موٹر سائیکل و رکشہ ڈرائیورز کے لیے ممکنہ سبسڈی جیسے اہم امور بھی زیر غور آئیں گے۔ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان بیک چینل مذاکرات میں مخلصانہ کردار ادا کر رہا ہے، تاہم اس کا نتیجہ غیر یقینی ہے۔ غیر رسمی گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی بھرپور کوشش کر رہا ہے جبکہ “باقی اللہ کے ہاتھ میں ہے”۔ذرائع کے مطابق پاکستان اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں سہولت فراہم کر رہا ہے، جب براہ راست مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ سفارتی ماہرین کے مطابق یہ کردار خطے میں امن کے فروغ اور پاکستان کے دونوں ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کے باعث خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔