اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی میں پاکستان کی ماحولیاتی تیاری اور موسمیاتی فنڈنگ میں کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جہاں سینیٹر شیری رحمٰن نے حکومت کی ترجیحات پر سوالات اٹھا دیے۔
اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی شدید گرمی کی لہروں، تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز، بے ترتیب بارشوں، پانی کی قلت اور شہری آلودگی جیسے سنگین ماحولیاتی خطرات کا سامنا کر رہا ہے، مگر ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وسائل میں اضافہ کرنے کے بجائے کمی کی جا رہی ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت 2.478 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہیں۔ اس سے قبل بھی فنڈنگ 3.5 ارب روپے سے کم ہو کر 2.7 ارب روپے تک آ چکی ہے۔
سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ “موسمیاتی خطرات بڑھ رہے ہیں مگر فنڈز کم ہو رہے ہیں”، اور خبردار کیا کہ محدود وسائل کے ساتھ بڑھتے ہوئے موسمیاتی بحران سے مؤثر طور پر نمٹنا ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ کئی منصوبوں میں مختص فنڈز کا مکمل استعمال نہیں کیا جا سکا، جو ایک اضافی انتظامی مسئلہ ہے۔
اجلاس میں نئی قائم ہونے والی کلائمیٹ اتھارٹی کے کردار پر بھی بحث ہوئی۔ سینیٹر نے سوال اٹھایا کہ جب موسمیاتی وزارت پہلے سے موجود ہے تو اضافی ادارہ کیوں بنایا جا رہا ہے، اور کہا کہ مؤثر حکمرانی کے لیے اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی ضروری ہے، نہ کہ اضافی بیوروکریسی۔
انہوں نے سرکاری اداروں (SOEs) کے بھاری نقصانات پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اربوں روپے کے نقصانات کے باوجود وسائل کا بڑا حصہ ان اداروں پر خرچ کیا جا رہا ہے، جبکہ ماحولیاتی تحفظ جیسے اہم شعبے نظر انداز ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے چیئرمین انعام حیدر ملک نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید موسموں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور موسمی حدود پہلے سے جلد عبور ہو رہی ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں کے پیٹرن تیزی سے غیر متوقع ہو رہے ہیں، جس کے باعث بعض علاقوں میں خشک سالی جبکہ دیگر میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں تقریباً 3.5 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ بخارات کی شرح میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے شمالی علاقوں میں گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (GLOF) کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
سینیٹر شیری رحمٰن نے طویل مدتی آبی تحفظ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گلیشیئرز کے سکڑنے کی صورت میں پاکستان کے آبی ذخائر پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مون سون کی بہتر منصوبہ بندی، بارش کے پانی کے ذخائر، زمینی پانی کے ریچارج سسٹم اور خشک سالی سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
کمیٹی نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اور مؤثر حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو زرعی پیداوار میں نمایاں کمی اور صحت عامہ کے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
آخر میں سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ پاکستان کا ماحولیاتی بحران صرف موسمی تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ اس میں ناقص شہری منصوبہ بندی، آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور انتظامی کمزوریاں بھی شامل ہیں، جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
