ملتان: کئی نسلوں سے آم کے وسیع باغات ملتان کی شناخت کا بنیادی حصہ رہے ہیں، جس کی وجہ سے یہ شہر پاکستان کے “آم کے دارالحکومت” کے طور پر جانا جاتا ہے۔
یہ باغات نہ صرف ملک کے قیمتی پھل کی پیداوار کا ذریعہ ہیں بلکہ یہ قدرتی کاربن جذب کرنے والے نظام، مقامی درجہ حرارت کو معتدل رکھنے والے قدرتی کولنگ زون، اور حیاتیاتی تنوع کے اہم مسکن کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ ہزاروں ہنر مند افراد کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔
تاہم، حالیہ برسوں میں تیزی سے پھیلتی ہوئی ہاؤسنگ اسکیموں اور تجارتی منصوبوں نے اس سبز ورثے کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ شہری توسیع کے نتیجے میں آم کے باغات کے وسیع رقبے تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جس کے اثرات نہ صرف زرعی پیداوار بلکہ ان خاندانوں کی معاشی زندگی پر بھی پڑ رہے ہیں جو نسلوں سے اس شعبے سے وابستہ ہیں۔
نواب پور روڈ کے ایک تجربہ کار باغبان ساجد نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ آم کے درختوں کی دیکھ بھال میں گزارا ہے۔ کٹائی، آبپاشی، بیماریوں کے انتظام اور باغبانی کے دیگر تمام پہلوؤں میں مہارت رکھنے کے باوجود، آج وہ اپنے آس پاس باغات کے خاتمے کے باعث ایک اسکول چپراسی کے طور پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔
وہ کہتے ہیں: “پہلے سال بھر کام ہوتا تھا، اب درخت کاٹے جا رہے ہیں اور زمین ہاؤسنگ کالونیوں میں بدل رہی ہے۔ میرے پاس گھر چلانے کے لیے دوسرا کام کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔”
ان کی کہانی ان ہزاروں مزدوروں کی نمائندگی کرتی ہے جن کی مہارتیں براہِ راست باغبانی سے جڑی ہوئی ہیں۔ دیگر پیشوں کے برعکس، باغبانی ایک خصوصی علم ہے جو آسانی سے کسی اور شعبے میں منتقل نہیں ہو سکتا۔
ایک اور باغبان دانش نے بتایا کہ انہوں نے بچپن ہی سے نرسری اور پیوند کاری جیسی مہارتیں سیکھیں۔ انہی باغات سے حاصل ہونے والی آمدنی نے نہ صرف ان کی تعلیم جاری رکھنے میں مدد دی بلکہ گھر کے اخراجات بھی چلائے۔ مگر اب انہیں خدشہ ہے کہ یہ پیشہ مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے: “زیادہ تر باغبان صرف یہی کام جانتے ہیں۔ جب باغ ہی ختم ہو جائیں گے تو روزگار بھی ختم ہو جائے گا۔ بہت سے لوگ پہلے ہی بے روزگار ہو چکے ہیں یا متبادل روزگار تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق آم کے باغات کا خاتمہ صرف روزگار کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین ماحولیاتی خطرہ بھی ہے۔ یہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے، فضائی آلودگی کم کرنے اور درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جنوبی پنجاب جیسے خطے میں، جہاں پہلے ہی شدید گرمی کی لہریں، غیر یقینی بارشیں اور طویل خشک سالی بڑھ رہی ہے، وہاں سبزہ زاروں کا خاتمہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مزید شدید کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آم کے باغات قدرتی “کولنگ سسٹم” کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی گھنی چھتری زمین کی سطح کا درجہ حرارت کم کرتی ہے اور مٹی میں نمی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ ان کی جگہ جب کنکریٹ ڈھانچے اور پکی سڑکیں لے لیتی ہیں تو شہری “ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ” مزید شدت اختیار کر لیتا ہے، جس سے شہروں میں درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔
یہ صورتحال خاص طور پر تشویشناک اس لیے بھی ہے کہ حالیہ برسوں میں پورے خطے میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہریں اور پانی کی قلت دیکھی گئی ہے، جس کے اثرات زرعی پیداوار اور انسانی صحت دونوں پر پڑ رہے ہیں۔
حیاتیاتی تنوع کے ماہرین بھی خبردار کرتے ہیں کہ آم کے باغات پرندوں، کیڑوں اور دیگر جانداروں کے لیے ایک قدرتی مسکن فراہم کرتے ہیں۔ ان کے خاتمے سے ماحولیاتی توازن متاثر ہوتا ہے اور قدرتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔
زرعی ماہرین اقتصادیات کے مطابق باغات کے رقبے میں مسلسل کمی پاکستان کی آم کی صنعت کے لیے بھی خطرہ ہے، جو نہ صرف برآمدی آمدنی بلکہ دیہی روزگار کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ ملتان کے آم عالمی سطح پر اپنی پہچان رکھتے ہیں، مگر کاشت کے رقبے میں کمی مستقبل کی پیداوار کو متاثر کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن کے لیے مؤثر اور پائیدار شہری منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ اس کے لیے زرعی زمین کے غیر ضروری استعمال پر پابندیاں، باغات کے تحفظ کے لیے مراعات، اور شہری علاقوں میں شجرکاری کے فروغ جیسے اقدامات ضروری ہیں۔
متاثرہ باغبانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری مداخلت کرے تاکہ مزید باغات ختم ہونے سے بچائے جا سکیں۔ ان کے مطابق آم کے باغات کا تحفظ صرف زرعی مسئلہ نہیں بلکہ موسمیاتی موافقت اور معاشی بقا کی حکمت عملی بھی ہے۔
ساجد اور دانش جیسے افراد کے لیے یہ صرف درختوں کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک پوری ثقافت، شناخت اور روزگار کے نظام کا زوال ہے، جو ملتان کی تاریخ اور معیشت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
جیسے جیسے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں اور شہری پھیلاؤ جاری ہے، ملتان کے آم کے باغات کا مستقبل اس سوال کا اہم جواب بن سکتا ہے کہ کیا ترقی ماحولیاتی پائیداری اور انسانی معاشی تحفظ کے ساتھ ساتھ چل سکتی ہے۔
