اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ شادی کے موقع پر دلہن کو ملنے والے تمام زیورات، سونا اور دیگر تحائف اس کی ذاتی اور خصوصی ملکیت ہیں، جن پر شوہر یا سسرال کے کسی فرد کا کوئی قانونی حق یا دعویٰ نہیں بنتا۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے تفصیلی تحریری فیصلے میں کہا کہ خواہ دلہن کو سونے کے زیورات اور تحائف اس کے والدین کی جانب سے ملے ہوں یا سسرال والوں کی طرف سے، ان تمام اشیا کی قانونی ملکیت صرف خاتون کے پاس ہوگی۔
تین رکنی بینچ نے جسٹس شکیل احمد کی سربراہی میں یہ فیصلہ جاری کیا، جس میں واضح کیا گیا کہ دلہن کے زیورات اور تحائف کی واپسی سے متعلق تنازعات کی سماعت کا اختیار فیملی کورٹس کے پاس ہے، جو قانون کے مطابق ایسے مقدمات کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔
عدالت نے سسرال والوں کی جانب سے دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر خاتون کے زیورات یا دیگر ذاتی سامان اس کے قبضے سے لے لیے جائیں تو وہ فیملی کورٹ سے رجوع کرکے اپنی ملکیت واپس لینے کی حقدار ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر کوئی خاتون اپنے زیورات یا تحائف کی واپسی کے لیے دعویٰ دائر کرتی ہے تو متعلقہ فیملی کورٹ اس مقدمے کی سماعت اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی پابند ہوگی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس اصول کی توثیق کی کہ شادی کے موقع پر دلہن کو ملنے والے زیورات اور تحائف اس کی ذاتی ملکیت ہیں اور اس کی رضامندی کے بغیر ان پر کوئی دوسرا شخص حقِ ملکیت یا تصرف کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
