پشاور: حج محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایسا روحانی سفر ہے جو انسان کی شخصیت، سوچ، اخلاق اور ایمان پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ ہر سال دنیا کے مختلف ممالک، ثقافتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں مسلمان ایک ہی مقصد کے تحت مقدس سرزمین پر جمع ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور مساوات اور بندگی کی عملی تصویر پیش کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مجھے 2026 میں حج کی سعادت نصیب ہوئی۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے میرے ایمان کو مزید مضبوط کیا اور مجھے دنیا کے سب سے بڑے، منظم اور پیچیدہ سالانہ اجتماعات میں سے ایک کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی فراہم کیا۔
حج کا سفر مکہ مکرمہ پہنچنے سے بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ ایک حاجی جسمانی، ذہنی اور روحانی طور پر خود کو اس عظیم عبادت کے لیے تیار کرتا ہے۔ مناسکِ حج کا علم حاصل کرنا، استغفار، صبر، برداشت اور عاجزی جیسی صفات کو اپنانا اسی تیاری کا حصہ ہیں، جو پورے سفر میں اس کے بہترین ساتھی ثابت ہوتی ہیں۔
خانہ کعبہ پر پہلی نظر ڈالنے کا لمحہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ کے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر انسان جن جذبات سے گزرتا ہے، انہیں صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ کعبہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی حضرت ابراہیمؑ، حضرت ہاجرہؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم قربانیوں اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کی یاد تازہ کر دیتے ہیں۔
حج کا ہر مرحلہ اپنے اندر ایک گہرا سبق سموئے ہوئے ہے۔ منیٰ میں قیام سادگی، نظم و ضبط اور اجتماعی زندگی کا درس دیتا ہے، جبکہ عرفات میں وقوف انسان کو قیامت کے اس عظیم دن کی یاد دلاتا ہے جب ہر شخص اپنے رب کے سامنے بغیر کسی مال، منصب یا نسب کے کھڑا ہوگا۔ مزدلفہ کی رات کھلے آسمان تلے عاجزی، قناعت اور شکر کا عملی مظہر بنتی ہے، جبکہ جمرات کو کنکریاں مارنا اور قربانی دینا اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور برائی سے انکار کی علامت ہیں۔
میرے نزدیک حج کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ صرف عبادت کا سفر نہیں بلکہ نظم و نسق، منصوبہ بندی، قیادت اور عوامی انتظامیہ کا ایک عملی نمونہ بھی ہے۔ ہر عبادت کا ایک مقررہ وقت اور مقام ہے، اور لاکھوں افراد ان تمام مناسک کو ایک منظم نظام کے تحت ادا کرتے ہیں۔
چونکہ میرا تعلق منصوبہ بندی اور پبلک ایڈمنسٹریشن کے شعبے سے ہے، اس لیے میں نے حج کو اس بات کی غیر معمولی مثال پایا کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی، مؤثر منصوبہ بندی، مضبوط سیکیورٹی اور انسانی تعاون مل کر انتہائی بڑے پیمانے پر ایک پیچیدہ نظام کو کامیابی سے چلا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ بہترین منصوبہ بندی بھی صبر کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی، اور صبر ایمان کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔
تنظیمی اعتبار سے حج 2026 کے انتظامات مجموعی طور پر انتہائی مؤثر اور قابلِ تحسین تھے۔ محدود وقت اور محدود جغرافیائی حدود میں لاکھوں عازمین کی موجودگی کے باوجود صفائی کے انتظامات مثالی تھے، زمزم کا پانی وافر مقدار میں دستیاب تھا، طبی سہولیات آسانی سے میسر تھیں، سیکیورٹی کا نظام مؤثر تھا، جبکہ ہزاروں رضاکار مسلسل حجاج کی خدمت میں مصروف رہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور مربوط ٹرانسپورٹ نظام نے بھی حجاج کے لیے سفر کو کافی آسان بنایا۔
تاہم، اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے کسی بھی انتظامی نظام میں بہتری کی ہمیشہ گنجائش موجود رہتی ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق مشاعر ٹرین (میٹرو) میں سوار ہونے کے دوران بعض مقامات پر ہجوم کے انتظام میں مشکلات پیش آئیں۔ بالخصوص بڑی عبادات کی تکمیل کے بعد کچھ اسٹیشنوں پر شدید رش دیکھنے میں آیا، جس سے بزرگ حجاج، خواتین اور صحت کے مسائل سے دوچار افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر قطاروں کے انتظام، مرحلہ وار بورڈنگ اور بزرگ افراد کے لیے علیحدہ سہولت کا مزید مؤثر نظام وضع کیا جائے تو اس عمل کو مزید محفوظ اور آسان بنایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح مسجد الحرام کے اندر مختصر آرام کے لیے مخصوص مقامات کی دستیابی پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ طواف، نماز اور مسلسل پیدل چلنے کے بعد بہت سے حجاج، خصوصاً بزرگ، بیمار اور کمزور افراد کو کچھ دیر آرام کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اگرچہ سیکیورٹی اہلکار پیدل راستوں پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتے، جو ہجوم کے انتظام کے لیے ضروری بھی ہے، تاہم حرم کے اندر یا اس کے اطراف مناسب مقامات پر محدود آرام گاہوں کا قیام زائرین کے لیے بڑی سہولت ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ نقل و حرکت بھی متاثر نہیں ہوگی۔
یہ مشاہدات ہرگز تنقید نہیں بلکہ تعمیری تجاویز ہیں۔ مملکت سعودی عرب دنیا کے سب سے بڑے سالانہ مذہبی اجتماع کے کامیاب انعقاد پر بھرپور تحسین کی مستحق ہے۔ کامیاب نظاموں کی اصل خوبی یہی ہوتی ہے کہ وہ مسلسل بہتری کی گنجائش کو تسلیم کرتے ہیں، اور بعض اوقات معمولی اصلاحات بھی لاکھوں لوگوں کے لیے نمایاں سہولت کا باعث بن جاتی ہیں۔
حج انسان کو یہ بھی سکھاتا ہے کہ دنیاوی شناختیں، عہدے، دولت اور قومیت سب عارضی ہیں۔ احرام کا سفید لباس ہر ظاہری امتیاز کو مٹا دیتا ہے اور انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔ یہی وہ سبق ہے جس کی آج کی دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
میں حج سے صرف یادیں لے کر واپس نہیں آیا، بلکہ ایک نئے جذبۂ ایمان، زیادہ عاجزی، صبر، نظم و ضبط اور انسانیت کی خدمت کے عزم کے ساتھ لوٹا ہوں۔ اس سفر نے مجھے یہ احساس دلایا کہ اصل کامیابی صرف عبادات کی ادائیگی میں نہیں بلکہ ان اسباق کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے میں ہے۔
سفر ختم ہوتے ہی میرا سامان یقیناً ہلکا ہو گیا، لیکن دل پہلے سے کہیں زیادہ بھر چکا تھا۔ یہی حج کا سب سے قیمتی تحفہ ہے۔
