اسلام آباد
اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ (EIU) کی جانب سے جاری کردہ گلوبل لائیو ایبلٹی انڈیکس 2026 میں کراچی کو ایک بار پھر دنیا کے کم ترین رہائش پذیر شہروں میں شمار کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 173 شہروں کی فہرست میں کراچی 170ویں نمبر پر رہا۔
سالانہ رپورٹ میں دنیا بھر کے 173 شہروں کا جائزہ پانچ اہم شعبوں کی بنیاد پر لیا گیا، جن میں استحکام، صحت کی سہولتیں، ثقافت اور ماحول، تعلیم اور بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کراچی سے نیچے صرف تین شہر موجود ہیں، جن میں تہران، کیف اور دمشق شامل ہیں، جبکہ ڈنمارک کا دارالحکومت کوپن ہیگن مسلسل دوسرے سال دنیا کا سب سے زیادہ رہائش پذیر شہر قرار پایا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ کوپن ہیگن نے استحکام، بنیادی ڈھانچے اور تعلیم کے شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ شہر کو معیاری عوامی خدمات، مؤثر ٹرانسپورٹ نظام اور اعلیٰ معیارِ زندگی کی بدولت یہ مقام حاصل ہوا۔
اس سے قبل 2022 سے 2024 تک مسلسل سرفہرست رہنے والا آسٹریا کا دارالحکومت ویانا اس سال دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ آسٹریلیا کے میلبورن اور سڈنی بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر پر رہے۔
رپورٹ کے مطابق 2026 کے 10 سب سے زیادہ رہائش پذیر شہر یہ ہیں:
- کوپن ہیگن، ڈنمارک
- ویانا، آسٹریا
- میلبورن، آسٹریلیا
- سڈنی، آسٹریلیا
- زیورخ، سوئٹزرلینڈ
- جنیوا، سوئٹزرلینڈ
- اوساکا، جاپان
- ایڈیلیڈ، آسٹریلیا
- وینکوور، کینیڈا
- ٹوکیو، جاپان
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوسط اسکور میں معمولی کمی کے باوجود مغربی یورپ دنیا کا سب سے بہتر کارکردگی دکھانے والا خطہ رہا، جبکہ ایشیا میں بالخصوص چین کے شہروں میں صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
چین کے شہر فوزو نے صحت کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری، حکومتی سرمایہ کاری میں اضافے اور طویل مدتی طبی سہولتوں کے باعث سات درجے ترقی کرتے ہوئے 93ویں پوزیشن حاصل کی۔
امریکا میں نیویارک عوامی تحفظ اور استحکام میں بہتری کے بعد تین درجے ترقی کر کے 66ویں نمبر پر آ گیا، جبکہ ہونولولو 25ویں نمبر کے ساتھ ملک کا سب سے زیادہ رہائش پذیر شہر قرار پایا۔ وینکوور شمالی امریکا کا واحد شہر تھا جو عالمی ٹاپ 10 میں جگہ بنانے میں کامیاب رہا۔
مشرق وسطیٰ کے شہروں کی درجہ بندی میں کمی دیکھی گئی۔ رپورٹ کے مطابق علاقائی عدم استحکام کے باعث ابوظہبی 76ویں، دبئی 79ویں، کویت سٹی 105ویں، دوحہ 108ویں، منامہ 116ویں اور مسقط 123ویں نمبر پر رہے۔
برطانیہ میں مانچسٹر 52ویں نمبر کے ساتھ ملک کا سب سے زیادہ رہائش پذیر شہر قرار پایا، جبکہ لندن 54ویں اور ایڈنبرا 64ویں نمبر پر رہے۔
اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی انڈسٹری ڈائریکٹر اینا نکولس کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں عالمی سطح پر رہائش پذیری کے مجموعی اسکور میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔ ان کے بقول مشرق وسطیٰ میں استحکام کی صورتحال میں کمی نے ایشیا میں صحت کے شعبے میں ہونے والی بہتری کے اثرات کو متوازن کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایشیا میں مسلسل بہتری کے باعث اب دنیا کے 20 سب سے زیادہ رہائش پذیر شہروں میں نو ایشیائی اور سات یورپی شہر شامل ہیں۔
