سینیٹ کمیٹی میں انکشاف، دو سال میں ادویات کی قیمتوں میں 100 فیصد تک اضافہ

0

سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران مختلف ادویات کی قیمتوں میں 100 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔

اجلاس کے دوران کمیٹی ارکان نے ملک میں ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر سخت تنقید کی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2024 میں نگران حکومت کے دور میں ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا گیا، جس کے بعد کمپنیاں اپنی مرضی سے قیمتیں مقرر کر رہی ہیں۔

حکام کے مطابق قانون کے تحت ڈریپ صرف جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کو ریگولیٹ کر سکتی ہے۔ جبکہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں کمی یا اضافے میں وزارتِ صحت کا کوئی کردار نہیں۔

کمیٹی نے ڈریپ کے سربراہ سے ادویات کی قیمتیں مقرر کرنے کا فارمولا طلب کر لیا ہے جبکہ ادارہ شماریات کے حکام کو بھی آئندہ اجلاس میں طلب کیا گیا ہے۔

کمیٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فارماسیوٹیکل کاروبار سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار بنتا جا رہا ہے اور کمپنیوں کو کھلی چھوٹ دینا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ ارکان کے مطابق موجودہ قانون پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

ڈریپ کے سربراہ ڈاکٹر عبیداللہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں 659 ادویات ساز کمپنیاں کام کر رہی ہیں جبکہ 394 ادارے بیرونِ ملک سے ادویات اور ویکسین درآمد کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی ادویات 51 ممالک کو برآمد کی جا رہی ہیں جبکہ گزشتہ سال پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کی مجموعی فروخت ایک کھرب 32 کروڑ روپے رہی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.