غزہ امن پلان: 15 نکات میں کیا ہے؟

نیوز ڈیس

0

غزہ کے مستقبل کے لیے جاری کیے گئے نئے 15 نکاتی روڈ میپ میں ایک مرحلہ وار منصوبہ پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد جنگ بندی، دشمنی کے خاتمے، حماس کی عسکری صلاحیتوں سے نمٹنے اور جنگ زدہ علاقے میں ایک نئے انتظامی نظام کے قیام کی راہ ہموار کرنا ہے۔**مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں قائم غزہ امن بورڈ نے مجوزہ فریم ورک پیش کیا ہے، جس کا مقصد جنگ بندی کے بعد کے مرحلے کے لیے سیکیورٹی انتظامات، انسانی امداد کی فراہمی اور سیاسی تنظیم نو کے حوالے سے ایک لائحہ عمل فراہم کرنا ہے۔
منصوبے کے مطابق تمام فریقین کو 14 دن کے اندر معاہدے کی منظوری دینا ہوگی۔ ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پہلے سے کیے گئے وعدوں پر کس حد تک عمل درآمد ہوا ہے۔ اس عمل کی نگرانی کے لیے ایک بین الاقوامی کمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔
روڈ میپ کے اہم نکات میں فوجی کارروائیوں کی مرحلہ وار معطلی، حماس کی عسکری صلاحیتوں میں کمی اور متفقہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کے تدریجی انخلا کا منصوبہ شامل ہے۔
اس تجویز میں غزہ کے انتظامی امور چلانے کے لیے ایک فلسطینی قومی کمیٹی کے قیام کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی شہری معاملات کی نگرانی کرے گی اور “ایک قانون، ایک اختیار اور ایک ہتھیار” کے اصول کے تحت ایک متحد انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔
منصوبے کے مطابق ایک عارضی بین الاقوامی استحکامی فورس بھی تعینات کی جائے گی، جس کا مقصد سیکیورٹی برقرار رکھنا، مقامی پولیس کی تربیت اور انسانی امدادی سرگرمیوں میں معاونت فراہم کرنا ہوگا۔ تاہم یہ فورس براہ راست پولیسنگ کی ذمہ داریاں انجام نہیں دے گی۔
حماس کا ردعمل
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے روڈ میپ کی مشروط حمایت کا عندیہ دیا ہے، تاہم اس کی منظوری کو چند اہم مطالبات سے مشروط کیا ہے۔
ان مطالبات میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا مکمل خاتمہ، اسرائیلی افواج کا انخلا، غزہ کی تعمیر نو اور بین الاقوامی سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی شامل ہیں۔
حماس نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھاری ہتھیاروں کے معاملے کو ایک جامع معاہدے کے تحت حل کیا جانا چاہیے، جس میں غزہ کے مستقبل کے لیے واضح ضمانتیں شامل ہوں۔
امریکی یقین دہانیاں اور اسرائیلی تحفظات
رپورٹس کے مطابق امریکا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد باہمی ذمہ داریوں کی بنیاد پر ہوگا اور واشنگٹن تمام فریقوں کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حماس کی تخفیف اسلحہ پر مبنی معاہدہ ایک وقت میں ناممکن دکھائی دیتا تھا۔
تاہم اس تجویز کو بعض اسرائیلی حکام کی مخالفت کا سامنا بھی ہے۔ اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فوجی کارروائیوں میں کمی سے حماس کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔
ایک سینئر اسرائیلی اہلکار کے مطابق جب تک حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اسرائیلی افواج مکمل انخلا نہیں کریں گی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے تاحال اس منصوبے پر تفصیلی عوامی ردعمل نہیں دیا۔
امن منصوبے کو درپیش چیلنجز
سفارتی کوششوں کے جاری رہنے کے باوجود غزہ کا 15 نکاتی امن روڈ میپ کئی اہم چیلنجز سے دوچار ہے۔ ان میں منصوبے پر عمل درآمد، سیکیورٹی ضمانتوں کا تعین اور تمام فریقوں کے درمیان ایک دیرپا معاہدے تک پہنچنے کی صلاحیت شامل ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ منصوبہ غزہ میں طویل المدتی جنگ بندی اور سیاسی استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے یا نہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.