نیوز ڈیسک
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہے۔ حکومتی عہدیداروں کے حالیہ بیانات اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک غیر مصدقہ نقشے نے ملک میں ممکنہ انتظامی تقسیم کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
نئے صوبوں کے قیام کا خیال پاکستان میں نیا نہیں۔ یہ معاملہ ماضی میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہا ہے۔ اس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں بہتر طرز حکمرانی، مؤثر انتظامی نظام اور عوام تک سرکاری سہولیات کی آسان رسائی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ نئے صوبے بنانے کے بجائے موجودہ اداروں، خصوصاً مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ اصل مسئلہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مؤثر حکمرانی کا ہے۔
نئے انتظامی یونٹس کی تجویز
یہ بحث اس وقت دوبارہ سامنے آئی جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ موجودہ حکومتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور سیاسی جماعتوں کو مل کر نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر غور کرنا چاہیے۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے مسائل کے حل کے لیے انتظامی اصلاحات ضروری ہیں اور نئے انتظامی ڈھانچے اس عمل کا حصہ بن سکتے ہیں۔
ان بیانات کے بعد کئی سیاسی رہنماؤں نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کی۔ وفاقی وزیر اور استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے مؤقف اختیار کیا کہ عوام کو سرکاری خدمات تک آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے بڑے صوبوں کو مزید چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں عبدالعلیم خان نے کہا کہ اکثر شہریوں کو سرکاری معاملات کے لیے صوبائی دارالحکومتوں تک پہنچنے میں سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق چھوٹے انتظامی یونٹس عوامی مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بھی اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کو چار سے پانچ، سندھ کو تین سے چار اور خیبر پختونخوا کو تین انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، اس لیے وہاں بھی انتظامی تقسیم پر غور کیا جا سکتا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایسے کسی بھی فیصلے میں عوامی رائے کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔
وائرل نقشے نے بحث کو مزید تیز کر دیا
نئے صوبوں کے حوالے سے جاری بحث کے دوران سوشل میڈیا پر ایک نقشہ بھی وائرل ہوا جس میں پاکستان کو 18 انتظامی اکائیوں میں تقسیم دکھایا گیا تھا۔
اس نقشے میں پنجاب کو چھ یونٹس، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو چار، جبکہ سندھ کو تین مجوزہ صوبوں میں تقسیم دکھایا گیا۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کو الگ انتظامی علاقوں کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔
تاہم کسی سرکاری ادارے نے اس نقشے کی تصدیق نہیں کی، اور یہ صرف ایک غیر مصدقہ تجویز کے طور پر آن لائن گردش کر رہا ہے۔
سیاسی جماعتوں کا ردعمل
نئے صوبوں کے قیام کی تجویز پر سیاسی جماعتوں کا ردعمل مختلف رہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی تاریخی طور پر جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی حمایت کرتی رہی ہے، تاہم سندھ کی تقسیم کے مطالبات کی مخالفت کرتی ہے۔
مسلم لیگ (ن) سمیت بعض سیاسی جماعتوں نے خیبر پختونخوا میں ہزارہ صوبے کے قیام کی حمایت کی ہے، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی اس تجویز کی مخالفت کرتی رہی ہے۔
وفاقی وزیر خواجہ آصف نے بھی نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسے فیصلے لسانی یا نسلی بنیادوں پر نہیں بلکہ قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کراچی اور گوادر کو وفاقی انتظام کے تحت لانے کی تجویز بھی پیش کی۔
نئے صوبے یا بہتر حکمرانی؟
نئے صوبوں کے قیام کی بحث نے یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ کیا انتظامی تقسیم واقعی پاکستان کے گورننس کے مسائل کا حل بن سکتی ہے؟
کچھ شہریوں اور ماہرین کا خیال ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں صحت، تعلیم اور دیگر عوامی خدمات کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ دوسری جانب بعض حلقے سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا نئے صوبے بنانے سے بدعنوانی، کمزور اداروں اور ناقص حکمرانی جیسے بنیادی مسائل حل ہو سکیں گے؟
کئی ماہرین کے مطابق اصل ضرورت صوبوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کی ہے۔
صحافی نعمت خان نے بھی اس حوالے سے کہا کہ نئے صوبوں کی بحث کے دوران کئی سینئر صحافیوں نے بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا تھا۔ ان کے مطابق مضبوط مقامی حکومتیں اضافی سیاسی ڈھانچے قائم کیے بغیر عوامی مسائل بہتر انداز میں حل کر سکتی ہیں۔
سابق سینیٹر مشاہد حسین نے بھی نئے صوبوں کی تجویز کو مؤثر حل قرار نہیں دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ حکمرانی کا معیار ہے۔ ان کے مطابق میرٹ پر تقرریاں، مضبوط ادارے اور مقامی حکومتوں کو اختیارات کی منتقلی ملک کے بڑے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
آئین نئے صوبوں کے بارے میں کیا کہتا ہے؟
پاکستان کا آئین نئے صوبوں کے قیام اور موجودہ صوبوں کی حدود میں تبدیلی کا طریقہ کار واضح کرتا ہے، تاہم اس کے لیے ایک پیچیدہ آئینی عمل مکمل کرنا ضروری ہے۔
آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوتی ہے۔ ایسی ترمیم کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔
یوں نئے صوبوں کا قیام صرف سیاسی خواہش کا معاملہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ آئینی اور پارلیمانی عمل سے مشروط ہے۔
