ڈاکٹر اکرام اللہ
پشاور: دنیا میں ہر روز نئے نام پیدا ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ چند دنوں کے لیے خبروں کی زینت بنتے ہیں، کچھ سوشل میڈیا پر لاکھوں لوگوں کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں، اور کچھ اپنی دولت، طاقت یا شہرت کی وجہ سے لوگوں کی نظروں میں آ جاتے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے اکثر نام خاموشی سے مٹ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس کچھ ایسے انسان بھی ہیں جنہیں دنیا سے رخصت ہوئے صدیاں بیت چکی ہیں، لیکن آج بھی ان کا ذکر احترام سے کیا جاتا ہے، ان کی زندگیوں پر تحقیق ہوتی ہے اور ان کے کردار سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ یہی لوگ تاریخ کے زندہ کردار ہیں۔
یہ سوال ہمیشہ ذہن میں آتا ہے کہ آخر وقت نے کچھ لوگوں کو کیوں فراموش کر دیا، جبکہ کچھ کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا؟ اس کا جواب نہ ان کی دولت میں ہے، نہ اقتدار میں، نہ شہرت میں۔ تاریخ نے ہمیشہ ایک ہی چیز کو دوام بخشا ہے، اور وہ ہے کردار۔ انسان کی اصل عظمت اس کے عہدے یا وسائل سے نہیں بلکہ اس اصول سے پہچانی جاتی ہے جس پر وہ مشکل ترین حالات میں بھی قائم رہتا ہے۔
آج کا نوجوان ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہا ہے جہاں معلومات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، لیکن حقیقی رول ماڈلز کی پہچان پہلے سے زیادہ مشکل ہو گئی ہے۔ چند لمحوں میں کوئی بھی شخص مشہور ہو سکتا ہے اور چند دن بعد بھلا بھی دیا جاتا ہے۔ اس تیز رفتار ماحول میں نوجوان اگر صرف وقتی شہرت کو کامیابی سمجھنے لگے تو وہ تاریخ سے اپنا رشتہ کھو بیٹھتا ہے، کیونکہ تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے دوسروں کے لیے جینا سیکھا۔
اسلامی تاریخ ہمیں ایسے زندہ کردار عطا کرتی ہے جن کی مثال دنیا کی کسی بھی تاریخ میں کم ملتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی سیرت سے یہ ثابت کیا کہ اخلاق، عدل، رحم اور دیانت ہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک عظیم معاشرہ تعمیر ہوتا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے صداقت اور وفاداری کو زندگی کا معیار بنایا، حضرت عمر فاروقؓ نے انصاف کو حکمرانی کی روح بنایا، حضرت عثمان غنیؓ نے سخاوت اور حیا کو اپنی پہچان بنایا، اور حضرت علیؓ نے علم، حکمت اور شجاعت کو عمل کے ساتھ جوڑ کر دکھایا۔
اسلامی تاریخ کے یہ روشن باب صرف خلفائے راشدین تک محدود نہیں۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ نے ثابت کیا کہ اخلاص، قربانی اور ثابت قدمی کسی بھی عظیم تحریک کی بنیاد ہوتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے بتایا کہ تجارت صرف دولت کمانے کا نام نہیں بلکہ امانت، دیانت اور سخاوت کا راستہ بھی ہے۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ نے نوجوانی میں آسائشوں کو چھوڑ کر علم، دعوت اور مقصدِ حیات کو اختیار کیا اور یہ پیغام دیا کہ انسان کی اصل پہچان اس کے لباس یا مال سے نہیں بلکہ اس کے مشن سے ہوتی ہے۔ بعد کی صدیوں میں صلاح الدین ایوبیؒ نے عدل، بردباری اور اعلیٰ کردار سے دشمنوں تک کا احترام حاصل کیا، جبکہ سلطان محمد الفاتحؒ نے نوجوانی ہی میں علم، نظم و ضبط، بلند حوصلے اور اللہ پر کامل یقین کے ساتھ قسطنطنیہ فتح کر کے ثابت کیا کہ مضبوط کردار عمر کا محتاج نہیں ہوتا۔
اگر آج کا نوجوان ان عظیم شخصیات کی زندگیوں کا مطالعہ کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ ان سب میں ایک قدر مشترک تھی۔ وہ سب مختلف زمانوں، مختلف حالات اور مختلف ذمہ داریوں میں تھے، لیکن ان کے فیصلوں کی بنیاد سچائی، دیانت، علم، انصاف، قربانی اور خدمتِ خلق تھی۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی بھی انسان کو وقت کی قید سے آزاد کر کے تاریخ کا زندہ کردار بنا دیتے ہیں۔
بدقسمتی سے آج ہم نے کامیابی کا معیار بدل دیا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو یہ تو سکھاتے ہیں کہ اچھی ڈگری حاصل کرو، اچھی ملازمت اختیار کرو اور مالی طور پر مضبوط بنو، مگر یہ کم بتاتے ہیں کہ ایک اچھا انسان کیسے بنا جاتا ہے۔ ہم تاریخ کو امتحان کا مضمون بنا دیتے ہیں، حالانکہ تاریخ کا اصل مقصد انسان کے اندر کردار پیدا کرنا ہے، معلومات کا بوجھ بڑھانا نہیں۔
پاکستان کا مستقبل صرف جدید عمارتوں، سڑکوں یا ٹیکنالوجی سے روشن نہیں ہوگا۔ ایک مضبوط پاکستان کے لیے ایسے نوجوان درکار ہیں جو اپنے شعبے میں ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ دیانت دار بھی ہوں، انصاف پسند بھی ہوں، وعدے کے پابند بھی ہوں اور اپنے وطن و معاشرے کے لیے فائدہ مند بھی ہوں۔ قومیں صرف ذہانت سے ترقی کرتی ہیں، مگر کردار سے ہمیشہ قائم رہتی ہیں۔
ہر نوجوان کو روزانہ اپنے آپ سے ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے: اگر پچاس برس بعد میرا نام لیا جائے تو لوگ مجھے کس وجہ سے یاد کریں گے؟ میری شہرت کی وجہ سے، میرے عہدے کی وجہ سے، یا میرے کردار کی وجہ سے؟ یہی ایک سوال انسان کی ترجیحات بدل سکتا ہے، اور یہی سوال اسے تاریخ کے زندہ کرداروں کی صف میں کھڑا کر سکتا ہے۔
وقت کا پہیہ مسلسل گھوم رہا ہے۔ آج کے ہیرو کل ماضی کا حصہ ہوں گے، لیکن تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کے نام روشن رکھے گی جنہوں نے اپنی زندگی کو دوسروں کے لیے فائدہ مند بنایا، جنہوں نے طاقت کو انصاف، علم کو خدمت، دولت کو امانت اور کامیابی کو عاجزی کے ساتھ جوڑا۔
تاریخ کا دروازہ آج بھی کھلا ہے۔ ہر نسل کو اس میں اپنا باب لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ فیصلہ آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم وقتی شہرت کا حصہ بنیں یا دائمی عزت کا۔ اگر آج سے پچاس برس بعد ہمارا نام لیا جائے تو لوگ ہمیں کس وجہ سے یاد کریں گے؟ کیونکہ آخرکار تاریخ انسان کی عمر نہیں، اس کے کردار کو محفوظ رکھتی ہے۔
اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات مصنف کی اپنی رائے ہیں، جن کا تنظیم کی ادارتی پالیسی سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
