نیوز ڈیسک
لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی محمد رضوان نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے جاری کیے گئے سوالنامے کا جواب جمع کرا دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ انہیں کسی مخصوص آن لائن جوئے کی سرگرمی یا ایسے کسی واقعے سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا جس سے انہیں مبینہ طور پر منسلک کیا جا رہا ہے۔
رضوان نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کی ہے، تاہم انہیں نہ تو کسی مخصوص آن لائن جوئے کے واقعے کی تفصیلات فراہم کی گئیں اور نہ ہی ان میں اپنی مبینہ شمولیت سے متعلق کوئی معلومات دی گئیں۔
قومی کرکٹر کے مطابق، NCCIA کے سامنے پیشی کے دوران انہوں نے متعدد مرتبہ اپنے خلاف عائد الزامات کی تفصیلات جاننے کی درخواست کی، لیکن ان کے بقول درخواست کے باوجود انہیں مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
رضوان نے مؤقف اپنایا کہ کرکٹرز کے خلاف بدعنوانی سے متعلق الزامات اور تحقیقات بین الاقوامی کرکٹ کونسل (ICC) کے اینٹی کرپشن یونٹ (ACU) کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایک فعال بین الاقوامی کرکٹر ہیں، اس کے باوجود مبینہ الزامات سے متعلق کوئی رپورٹ ICC کے اینٹی کرپشن یونٹ کو نہیں کی گئی۔ رضوان نے سوال اٹھایا کہ ایسی صورت میں NCCIA اس معاملے کی تحقیقات کیوں کر رہی ہے۔
قومی کرکٹر نے زور دیا کہ کرکٹ میں بدعنوانی سے متعلق شکایات اور الزامات کی تحقیقات ICC کے اینٹی کرپشن یونٹ کے ذریعے ہونی چاہئیں۔
رضوان نے NCCIA سے درخواست کی کہ انہیں ان کے خلاف موجود الزامات اور متعلقہ معاملے کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ وہ تحقیقات میں مؤثر انداز میں اپنا مؤقف پیش کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان کے خلاف کوئی باقاعدہ الزام موجود ہے تو معاملہ بلا تاخیر ICC کے اینٹی کرپشن یونٹ کو بھیجا جانا چاہیے۔
