باجوڑ اجتماع کے مالیاتی حجم کا تحقیقی و معاشی ماڈل (حصہ دوم)

0

ڈاکٹر اکرام اللہ

جب 75 سے 80 ہزار انسان ایک محدود رقبے پر 20 گھنٹے سے زائد وقت کے لیے قیام کرتے ہیں، تو ان کی بنیادی انسانی ضروریات—خوراک، پانی، چائے، روشنی، خیمے اور نقل و حمل—ایک مختصر المدتی مگر انتہائی متحرک معاشی دنیا کو جنم دیتی ہیں۔

اجتماع گاہ کے گرد و نواح میں اچانک ایک پاپ اپ مارکیٹ (Pop-up Market) وجود میں آ گئی، جہاں میرے اور نور الوہاب کے فیلڈ سروے کے مطابق مختلف اشیاء کے 100 سے زائد چھوٹے بڑے اسٹالز سجے ہوئے تھے۔ 28 ستمبر کی رات، ہم نے اس عارضی معیشت کی نبض پر ہاتھ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ تحقیقی اخلاقیات اور تاجروں کی نجی شناختی حفاظت (Anonymity) کو برقرار رکھتے ہوئے دکانداروں کے فرضی نام استعمال کیے گئے ہیں، لیکن تمام اعداد و شمار حقیقی ہیں۔ معاشی تحقیقات میں کل خام فروخت (Gross Turnover)، خالص منافع (Net Margin) اور شرکاء کے بنیادی لاجسٹک اخراجات (Operational Expenses) کو الگ الگ پرکھنا ضروری ہے۔

میدانی مشاہدے کے دوران بازار کا جائزہ لیتے ہوئے ہم نے مختلف دکانداروں سے گفتگو کی۔ پھل چاٹ کا اسٹال لگانے والے عبدالوحید کے پاس دو بڑی ٹرے تھیں جن میں مجموعی طور پر 500 پیالوں کی گنجائش تھی؛ 50 اور 100 روپے کی اوسط قیمت (75 روپے) کے تحت ان کی کل خام فروخت 37,500 روپے بنتی تھی۔ اسی طرح وہاب نے چولائی اور لوبیا بیچ کر ایک دن میں 60,000 روپے کی فروخت کی جس میں 20,000 روپے خالص منافع حاصل ہوا، جبکہ گنے کے رس کے تاجر غلام خان نے ایک ہی دن میں 40,000 روپے کا رس بیچا اور 10 سے 12 ہزار روپے منافع کمایا۔ دینی و مذہبی سامان کے اسٹالز پر شفیق نے 100 مسواکیں، 100 تسبیحیں اور 100 ٹوپیاں فروخت کر کے 29,000 روپے کی خام فروخت کی، اور ایک عطر فروش نے تقریباً 10,000 روپے کا عطر فروخت کیا۔ خشک میوہ جات کے تاجر نے 4 من (160 کلو) اخروٹ بیچ کر 80,000 روپے کی فروخت پر 9,600 روپے تجارتی مارجن حاصل کیا۔ سوہن حلوہ فروخت کرنے والے کفایت اللہ نے 150 کلو حلوہ بیچ کر 15,000 روپے خالص منافع کمایا، دینی کتب کے تاجر انور نے 15 سے 30 ہزار روپے کی کتابیں بیچ کر 30 فیصد منافع حاصل کیا، اور چائے کے ہوٹل پر اسحاق نے ایک ہی دن میں 1,000 کپ چائے بیچی جہاں 50 روپے فی کپ پر تمام اخراجات نکال کر 10,000 روپے (20 فیصد) خالص منافع حاصل ہو رہا تھا۔ رحمت اللہ نے ایک دن میں 15 ہزار روپے کے کجھوریں فروخت کی، جس سے اس کے مطابق 4000 کا منافع ہوا۔

ان 100 سے زائد اسٹالز کی خریداریاں ایک طرف، مگر اس عارضی معیشت کا سب سے بڑا اور بنیادی حجم شرکاء کے اپنے قیام و طعام اور لاجسٹکس پر ہونے والے اخراجات پر مشتمل تھا۔ اس معاشی ماڈل میں یہ ایک انتہائی اہم نقطہ ہے کہ شرکاء کا یہ لاجسٹک خرچ بازار کی عام خرید و فروخت سے بالکل جدا ہے۔ ہمارے اپنے بیس افراد کے گروپ کے اعداد و شمار کے مطابق، ہمارا فی کس خرچ 1,034 روپے آیا۔ اس 1,034 روپے میں صرف 28 ستمبر کے رات کا کھانا، 29 ستمبر کا ناشتہ، گیس کے سلنڈر، برتنوں کا کرایہ اور خیمے کا کرایہ شامل تھا—اس میں 28 ستمبر کے دوپہر کا کھانا، دیگر ذاتی ضروریات یا سفر کا کرایہ شامل نہیں تھا۔

اس میدانی حقیقت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جن شرکاء نے 28 ستمبر کی دوپہر سے ہی قیام کیا تھا، ان کا دوپہر کا کھانا اور دیگر اخراجات ملانے سے فی کس لاجسٹک خرچ کہیں زیادہ بنتا ہے۔ اگر محض رات کے قیام، گیس، خیمے، رات کے کھانے اور ناشتے کے اس 1,034 روپے کے بنیادی ماڈل کو بنیاد بنایا جائے اور اجتماع میں رات قیام کرنے والے 60,000 سے 64,000 افراد پر لاگو کیا جائے، تو صرف اتنے محدود انتظام کی مد میں باجوڑ کی مقامی معیشت میں 6 کروڑ 20 لاکھ سے 6 کروڑ 60 لاکھ روپے کی مالیاتی گردش ہوئی۔ اگر اس میں 28 ستمبر کے دوپہر کے کھانے کے اخراجات، دیگر ذاتی خرید و فروخت اور مقامی ٹرانسپورٹ کو بھی شامل کر لیا جائے، تو باجوڑ کی مقامی سروسز اور معیشت میں منتقل ہونے والا مجموعی معاشی تحرک 7.5 کروڑ سے 8.5 کروڑ روپے سے تجاوز کر جاتا ہے۔

اس پورے معاشی منظرنامے کا ایک اور انتہائی اہم اور بنیادی ستون منتظمین اور شوریٰ کے وہ انتظامی اخراجات (Capital & Organizational Outlay) ہیں جو اس زمین کو قابلِ استعمال بنانے پر صرف ہوئے۔ اگرچہ یہ اخراجات ہمارے براہِ راست نمونہ جاتی مشاہدے کا حصہ نہیں تھے، مگر ان کا معاشی حجم کروڑوں روپے پر محیط تھا۔ منتظمین نے تقریباً دو ماہ قبل سے اس میدان کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ اس کے اندر ناہموار زمین کو بلڈوزرز اور ہیوی مشینری کے ذریعے ہموار کرنا، سینکڑوں عارضی واش رومز اور وضو خانوں کی تعمیر، پائپ لائنز بچھانا، اور پورے پنڈال کو روشن رکھنے اور پانی کی مسلسل فراہمی کے لیے بڑے کمرشل جنریٹرز کا انتظام شامل تھا۔

ان تمام انتظامات پر لاکھوں اور کروڑوں روپے کا براہِ راست سرمایہ خرچ ہوا۔ اس عمل کی معاشی خوبصورتی یہ بھی تھی کہ بنیادی انفراسٹرکچر پر تو خطیر رقم صرف ہوئی، لیکن اس کے لیے درکار محنت (Labor Forces) کی اکثریت ان بے لوث رضاکاروں پر مشتمل تھی جنہوں نے محض ثواب کی نیت سے دو ماہ تک مفت خدمات انجام دیں۔ اگر اس رضاکارانہ افرادی قوت کی مالیاتی قیمت (Market Cost of Labor) کا الگ سے جائزہ لیا جائے تو یہ معاشی بوجھ مزید کئی گنا بڑھ جاتا ہے، جسے محبت اور عقیدت کے ایثار نے سنبھال لیا۔

یہ رقم کسی ایک جگہ جمع نہیں ہوئی بلکہ خیمہ سپلائرز، گیس فروشوں، مشینری مالکان، مقامی کسانوں، چھوٹے ٹرانسپورٹرز اور دہاڑی دار مزدوروں میں تقسیم ہوئی۔ 29 ستمبر کی صبح جب دعا کے بعد یہ عارضی شہر رخصت ہوا، تو میدان خاموش ہو گیا—مگر اس تحقیقی مطالعے نے یہ ثابت کر دیا کہ ایک مذہبی اجتماع اپنے روحانی اور اخلاقی مقاصد کی تکمیل کے ساتھ ساتھ غیر رسمی معیشت کو کروڑوں روپے کی مالیاتی طاقت فراہم کرتا ہے۔ اگر ایسے اجتماعات کو سالانہ بنیادوں پر منظم انداز میں انعقاد کی سہولت دی جائے، تو یہ پسماندہ اضلاع کی مقامی تجارت اور معاشی تحرک کے لیے ایک پائیدار ایندھن ثابت ہو سکتے ہیں۔

Read Part-I: https://urdu.thepenpk.com/?p=10073

Leave A Reply

Your email address will not be published.