ندیم تنولی
اسلام آباد: پاکستان میں غریب اور کم آمدنی والی برادریوں کے لیے سیلاب صرف اس وقت تک کا بحران نہیں ہوتا جب تک پانی اتر نہیں جاتا۔ اصل آزمائش اکثر اس کے بعد شروع ہوتی ہے، جب متاثرہ خاندان اپنے تباہ شدہ گھروں، روزگار اور اثاثوں کو دوبارہ کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔
ایک نئی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ 2022 اور 2025 کے سیلابوں نے کم آمدنی والے علاقوں کو نسبتاً زیادہ متاثر کیا، جبکہ ان علاقوں میں بحالی کا عمل نہ صرف سست رہا بلکہ بار بار آنے والی قدرتی آفات نے پہلے سے محدود وسائل کو مزید کم کر دیا۔
تحقیق کے مطابق جب ایک سیلاب کے بعد خاندان اپنی بچی کھچی بچت، مویشیوں، زرعی آلات اور دیگر اثاثوں کو بحالی کے لیے استعمال کر رہے ہوں اور اسی دوران ایک اور سیلاب آ جائے تو ان کے پاس دوبارہ بحالی شروع کرنے کے لیے وسائل بہت کم رہ جاتے ہیں۔ محققین نے اس صورتحال کو ‘مجموعی کمزوری’ (Cumulative Vulnerability قرار دیا ہے۔
دولت اور بحالی میں واضح فرق
”پاکستان میں سیلاب کے بعد بحالی میں عدم مساوات: سیٹلائٹ ڈیٹا اور نسبتی دولت کے اشاریے کے ذریعے 2022 اور 2025 کے مون سون سیلابوں کے شواہد” کے عنوان سے ہونے والی یہ تحقیق Environmental and Sustainability Indicators میں شائع ہوئی ہے۔
سُغرا، سریپورن ڈارنکاچاتارن اور یوشیو کاجیتانی کی جانب سے کی گئی تحقیق میں پاکستان بھر کے 85,533 گرڈ سیلز کا جائزہ لیا گیا۔ ہر گرڈ سیل اوسطاً تقریباً 4.4 مربع کلومیٹر پر مشتمل تھا۔ ان میں سے شدید سیلاب سے متاثر ہونے والے 15,794 علاقوں کا موازنہ ایسے علاقوں سے کیا گیا جو سیلاب سے متاثر نہیں ہوئے تھے لیکن دیگر حوالوں سے مماثل تھے۔
محققین نے نسبتی دولت کے اشاریے کے ساتھ ساتھ رات کے وقت نظر آنے والی روشنی، نباتات اور آبادی کے سیلابی خطرے سے دوچار ہونے جیسے سیٹلائٹ پر مبنی پیمانوں کو استعمال کیا تاکہ سیلاب کے اثرات اور بحالی کی رفتار کا اندازہ لگایا جا سکے۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ دولت، بنیادی ڈھانچے اور وسائل تک رسائی میں فرق اس بات پر اثر انداز ہوتا ہے کہ مختلف برادریاں سیلاب کے فوری نقصان سے کس طرح نمٹتی ہیں اور بعد میں کتنی تیزی سے بحال ہوتی ہیں۔
2022 کا سیلاب، پھر 2025 کی واپسی
2022 کے سیلاب پاکستان کی تاریخ کے بدترین سیلابی واقعات میں شمار ہوئے۔ تحقیق کے مطابق اس آفت سے تقریباً 33 ملین افراد متاثر، 1,739 افراد جاں بحق اور تقریباً 1.7 ملین گھر متاثر یا تباہ ہوئے۔ صرف زرعی شعبے میں نقصانات کا تخمینہ 3.7 ارب ڈالر سے زیادہ لگایا گیا۔
متاثرہ خاندان ابھی اپنے گھروں، کھیتوں اور روزگار کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش ہی کر رہے تھے کہ 2025 کے مون سون نے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
تحقیق کے مطابق 2025 کے سیلاب سے تقریباً 6.9 ملین افراد متاثر اور 3 ملین افراد بے گھر ہوئے۔ پنجاب میں تقریباً 1.12 ملین ہیکٹر زرعی رقبہ زیرِ آب آیا، جبکہ تقریباً 230,000 گھر اور 4,700 دیہات بھی متاثر ہوئے.
یوں بہت سے علاقوں میں سیلاب ایک وقتی آفت کے بجائے مسلسل بحران کی شکل اختیار کر گیا۔
سبزہ واپس آیا، معیشت پیچھے رہ گئی
تحقیق میں بتایا گیا کہ 2022 کے سیلاب کا ابتدائی اثر خاص طور پر نباتات پر شدید تھا۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نباتات کے نقصان کی شرح موازنے کے لیے منتخب علاقوں کے مقابلے میں تقریباً 29 فیصد پوائنٹس زیادہ رہی، جبکہ سندھ اور بلوچستان کے زرعی علاقوں میں نقصان زیادہ نمایاں تھا۔
2022 میں سیلاب سے متاثرہ گرڈ سیلز میں رہنے والی تقریباً 37.3 فیصد آبادی براہ راست سیلابی پانی کی زد میں آئی۔ محققین نے واضح کیا کہ یہ تناسب آبادی کے سیلابی پانی سے متاثر ہونے کی نمائندگی کرتا ہے، اسے سیلاب سے ہونے والے مجموعی نقصان کا الگ تخمینہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
معاشی سرگرمیوں میں کمی کا اندازہ رات کے وقت نظر آنے والی روشنی کی شدت سے لگایا گیا۔ تاہم تحقیق نے یہ اہم احتیاط بھی بیان کی کہ دیہی اور کم آمدنی والے زرعی علاقوں میں معاشی سرگرمیاں پہلے ہی کم نمایاں ہوتی ہیں، اس لیے صرف رات کی روشنی کے اعداد و شمار زرعی اور گھریلو نقصانات کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔
2023 اور 2024 میں متاثرہ علاقوں میں رات کی روشنی میں کچھ بحالی دیکھی گئی، لیکن محققین نے خبردار کیا کہ ان تبدیلیوں کو مکمل طور پر 2022 کے سیلاب کا براہ راست نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ متاثرہ اور غیر متاثرہ علاقوں کے رجحانات سیلاب سے پہلے بھی ایک جیسے نہیں تھے۔
پھر 2025 کے سیلاب نے بحالی کے اس عمل کو دوبارہ متاثر کیا۔
تحقیق کے ایک تجزیے کے مطابق 2025 کے سیلاب سے منسلک رات کے وقت کی روشنی میں کمی کا تخمینہ 2.12 سے 2.86 فیصد پوائنٹس کے درمیان رہا۔
نباتات کی بحالی تیز، معاشی بحالی سست
تحقیق میں ایک دلچسپ تضاد بھی سامنے آیا۔ قدرتی نباتات نے معاشی سرگرمیوں کے مقابلے میں نسبتاً تیزی سے بحالی دکھائی۔
اپریل 2023 تک سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نباتات کی سطح اپنی سابقہ حالت کے تقریباً **80 فیصد** تک واپس آ چکی تھی۔ موازنے کے لیے منتخب علاقوں کے مقابلے میں بھی نباتات کی بحالی کا فرق مثبت رہا اور اکتوبر 2023، اپریل 2024 اور اکتوبر 2024 میں یہ رجحان برقرار رہا۔
لیکن 2025 کے سیلاب نے اس پیش رفت کا ایک حصہ دوبارہ ختم کر دیا اور نباتات میں مزید 10.902 فیصد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ ہوئی۔
یہ فرق اس بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زمین اور سبزہ نسبتاً تیزی سے واپس آ سکتے ہیں، لیکن گھروں، سڑکوں، منڈیوں، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کو بحال ہونے میں کہیں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
غریب علاقے زیادہ دیر تک بحران میں کیوں رہتے ہیں؟
تحقیق نے دولت اور سیلاب کے اثرات کے درمیان ایک مستقل تعلق کی نشاندہی کی۔ مجموعی طور پر نسبتاً غریب علاقوں نے زیادہ منفی اثرات یا کم بحالی کا سامنا کیا۔
محققین کے مطابق اس کی کئی ممکنہ وجوہات ہیں۔ کم آمدنی والے خاندانوں کو رسمی مالیاتی نظام اور قرضوں تک محدود رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ ان کا روزگار زراعت پر زیادہ منحصر ہوتا ہے، ان کے رہائشی ڈھانچے نسبتاً کمزور ہو سکتے ہیں اور بعض مخصوص امدادی پروگراموں تک ان کی رسائی بھی محدود رہتی ہے۔
ایک آفت کے بعد ایک خاندان اپنی بچت، مویشی یا دیگر اثاثے فروخت کر کے دوبارہ زندگی شروع کر سکتا ہے۔ لیکن اگر اگلی آفت اسی عمل کے مکمل ہونے سے پہلے آ جائے تو یہی وسائل دوبارہ ختم ہو جاتے ہیں۔
یوں ہر نیا سیلاب صرف نئے نقصان کا باعث نہیں بنتا بلکہ گزشتہ نقصان کے اثرات کو بھی بڑھا دیتا ہے۔
ہر صوبے کی کہانی مختلف
تحقیق نے صوبوں کے درمیان بھی بحالی کے مختلف رجحانات کی نشاندہی کی۔
پنجاب میں رات کے وقت روشنی سے ظاہر ہونے والی معاشی سرگرمی میں نسبتاً مضبوط بحالی دیکھی گئی۔ تحقیق کے مطابق پیمائش شدہ اثر 2022 میں تقریباً 3.3 فیصد پوائنٹس سے بڑھ کر 2024 تک 10 فیصد پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ زرعی بحالی بھی نسبتاً مستحکم رہی۔
محققین نے ممکنہ طور پر مضبوط بنیادی ڈھانچے، نسبتاً زیادہ دولت اور بہتر ادارہ جاتی صلاحیت کو اس رجحان سے جوڑا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ عوامل اس تحقیق کے ذریعے براہ راست ثابت نہیں ہوئے۔
سندھ میں صورتحال اس کے برعکس رہی۔ رات کے وقت روشنی کے اشاریے میں 2022 میں منفی 6.2 فیصد پوائنٹس کا اثر سامنے آیا۔ 2023 میں معمولی بحالی کے بعد 2024 اور 2025 میں دوبارہ منفی نتائج سامنے آئے۔
سندھ میں آبادی کے سیلاب سے متاثر ہونے اور نباتات کے نقصان کی شدت بھی نمایاں رہی۔ تحقیق کے مطابق 2022 میں نباتات کے نقصان سے متعلق پیمائش **52.4 فیصد پوائنٹس** تک رہی۔
خیبر پختونخوا میں بھی معاشی اور قدرتی بحالی کے درمیان نمایاں فرق دیکھا گیا۔ رات کی روشنی کا اشاریہ 2022 میں منفی 1.3 فیصد پوائنٹس سے کم ہو کر 2025 میں منفی 7.1 فیصد پوائنٹس تک پہنچ گیا، جبکہ نباتات کی بحالی 13.7 سے 13.8 فیصد پوائنٹس کے درمیان مثبت رہی۔
محققین کے مطابق یہ فرق اس بات کی مثال ہے کہ قدرتی نباتات معاشی سرگرمیوں کے مقابلے میں تیزی سے بحال ہو سکتی ہیں، کیونکہ معاشی سرگرمیاں سڑکوں، بنیادی ڈھانچے، منڈیوں، کاروبار اور رسمی روزگار جیسے عوامل پر منحصر ہوتی ہیں۔
بلوچستان میں معاشی سرگرمیوں میں کمی بتدریج نمایاں ہوئی۔ 2022 میں صورتحال تقریباً برقرار رہی، تاہم رات کی روشنی کا اشاریہ 2024 میں منفی 4.0 اور 2025 میں منفی 4.4 فیصد پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
صوبے میں 2022 کے دوران نباتات کے نقصان کی شرح 66 فیصد پوائنٹس کے ساتھ سب سے زیادہ رہی اور بعد میں نباتات کی بحالی کے اشاریے بھی مسلسل منفی رہے۔ محققین نے صوبے کی خشک آب و ہوا، کمزور مٹی اور آبپاشی کے محدود ذرائع کو ممکنہ عوامل کے طور پر بیان کیا۔
سندھ، بار بار آنے والے سیلاب کی زد میں
تحقیق میں کمبر شہداد کوٹ، جیکب آباد، کشمور، لاڑکانہ، دادو اور شکارپور کو زیریں سندھ کے ایسے نسبتاً کم دولت والے اضلاع کے طور پر شناخت کیا گیا ہے جہاں بار بار آنے والے سیلابوں کے باعث ہدفی بحالی اور موسمیاتی لچک میں سرمایہ کاری کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
تحقیق کے مطابق جائزہ لیے گئے تمام گرڈ سیلز میں سے تقریباً **12.4 فیصد، یعنی 10,637 گرڈ سیلز**، 2022 اور 2025 دونوں کے سیلابوں سے متاثر ہوئے۔ بار بار متاثر ہونے والے یہ علاقے زیادہ تر دریائے سندھ کے زیریں طاس میں واقع تھے۔
محققین کے مطابق ایسے علاقوں میں ہر نئی آفت گزشتہ نقصان کے اثرات کو مزید گہرا کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں خاندان اور مقامی معیشتیں مستقل بحالی کے بجائے بار بار ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں مصروف رہتی ہیں۔
بحالی کے لیے نئی حکمت عملی کی ضرورت
تحقیق میں سفارش کی گئی ہے کہ آفات سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل پہلے سے تیار رکھے جائیں اور ایسے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی جائے جو بحالی کے دورانیے کو کم کر سکے۔
محققین کا کہنا ہے کہ سیلاب کے بعد بحالی کی نگرانی صرف معاشی سرگرمیوں کے ایک پیمانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ رات کے وقت کی روشنی، نباتات اور نسبتی دولت کے اشاریے جیسے مختلف سیٹلائٹ ڈیٹا کو ملا کر ان علاقوں کی بہتر نشاندہی کی جا سکتی ہے جہاں نقصان زیادہ اور بحالی سست ہے۔
تاہم تحقیق نے اپنے نتائج کی حدود بھی واضح کی ہیں۔ محققین کے مطابق سیلاب زدہ اور غیر سیلاب زدہ علاقوں میں 2022 سے پہلے موجود مختلف رجحانات کے باعث مطالعے کے نتائج کو ہر مشاہدہ شدہ فرق کی براہ راست وجہ کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ اسی طرح رات کے وقت روشنی کے اعداد و شمار زرعی نقصانات کو کم ظاہر کر سکتے ہیں، جبکہ 2025 کے سیلاب سے متعلق بعض تخمینے مزید بعد از آفت سرکاری معلومات آنے تک عارضی رہیں گے۔
پانی کہاں پہنچا، یہ کافی نہیں
تحقیق کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ سیلاب کی تباہی کو صرف اس بات سے نہیں سمجھا جا سکتا کہ پانی کہاں پہنچا اور کتنی زمین زیرِ آب آئی۔
اصل سوال یہ بھی ہے کہ متاثرہ لوگوں کے پاس دوبارہ کھڑے ہونے کے لیے کتنے وسائل موجود تھے۔
ایک نسبتاً خوشحال خاندان اپنے گھر کی مرمت، مویشیوں کی دوبارہ خریداری یا کاروبار کی بحالی کے لیے مالی وسائل حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس ایک غریب خاندان کے لیے ایک ہی سیلاب اس کی برسوں کی جمع پونجی، گھر، مویشی اور روزگار سب کچھ ختم کر سکتا ہے۔ اگر دوسرا سیلاب بحالی مکمل ہونے سے پہلے آ جائے تو نقصان محض دو الگ واقعات کا مجموعہ نہیں رہتا بلکہ ایک طویل بحران بن جاتا ہے۔
محققین کے مطابق مستقبل کی تحقیق میں سیٹلائٹ مشاہدات کو گھریلو سطح کے سروے کے ساتھ جوڑنے سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ بار بار آنے والے سیلاب کس طرح خاندانوں، روزگار اور معاش کو انفرادی سطح پر متاثر کرتے ہیں۔
پاکستان جیسے ملک میں، جہاں ایک ہی خطے کو چند برسوں کے اندر متعدد بڑے سیلابوں کا سامنا ہو سکتا ہے، یہ سوال اب صرف بحالی کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ غریب خاندان اگلی آفت آنے سے پہلے خود کو دوبارہ سنبھال بھی پاتے ہیں یا نہیں۔
