نیوز ڈیسک
کراچی: سندھ میں خواجہ سرا برادری نے محفوظ رہائش، تعلیم، روزگار، صحت اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں مؤثر اقدامات کے لیے حکومت کے سامنے پانچ نکاتی ایجنڈا پیش کر دیا۔
یہ مطالبات ’سندھ ٹرانس جینڈر سمٹ‘ کے دوران پیش کیے گئے، جس کا انعقاد لیگل ایڈ سوسائٹی (LAS) نے جینڈر انٹرایکٹو الائنس (GIA) کے اشتراک سے ’آواز II‘ پروگرام کے تحت کیا۔ پروگرام کی قیادت کیئر پاکستان (CARE Pakistan) نے کی جبکہ اسے برطانیہ کی حکومت کے ’یو کے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ‘ کی مالی معاونت حاصل ہے۔
سمٹ میں سندھ حکومت، نادرا، سندھ ہیومن رائٹس کمیشن، سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن، خواجہ سرا برادری کے نمائندوں، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں برادری کو درپیش مسائل، موجودہ قانونی حقوق اور پالیسیوں پر عمل درآمد میں موجود خلا کا جائزہ لیا گیا۔
خواجہ سرا برادری کی جانب سے ارادھیا خان نے پانچ نکاتی چارٹر پیش کیا، جس میں حکومت سے فوری اور عملی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔
چارٹر کے پہلے نکتے میں دھمکیوں، تشدد یا بے گھری کا سامنا کرنے والے خواجہ سرا افراد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ’سیف ہومز‘ قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ برادری نے زور دیا کہ ان پناہ گاہوں کا انتظام خواجہ سرا افراد کی زیرِ قیادت تنظیموں کے ذریعے کیا جائے۔
دوسرے مطالبے میں سندھ کی ٹرانس جینڈر ایجوکیشن پالیسی پر مکمل عمل درآمد، وظائف کی فراہمی اور تعلیمی اداروں میں امتیازی سلوک سے تحفظ یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔
روزگار کے حوالے سے برادری نے سرکاری ملازمتوں میں 0.5 فیصد کوٹے پر عمل درآمد اور طبی سرٹیفیکیشن سے متعلق امتیازی شرائط ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
چوتھے نکتے میں سرکاری ہسپتالوں میں خواجہ سرا افراد کے لیے مخصوص وارڈز اور صنفی حساسیت پر مبنی باعزت طبی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔
پانچویں مطالبے میں رجسٹرڈ خواجہ سرا افراد کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) اور دیگر سماجی تحفظ کے منصوبوں میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ ضرورت مند افراد کے لیے فوری مالی معاونت کی فراہمی پر زور دیا گیا۔
سندھ کے سیکریٹری سوشل ویلفیئر منور علی مٹھانی نے قانونی وعدوں اور برادری کو درپیش عملی مسائل کے درمیان موجود خلا کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سمٹ میں سامنے آنے والے پانچ اہم شعبوں پر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت، غیر سرکاری تنظیموں، سول سوسائٹی اور خواجہ سرا برادری کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ قانونی حقوق کو محفوظ مقامات، تعلیم، مہارتوں کی ترقی اور روزگار سمیت حقیقی مواقع میں تبدیل کیا جا سکے۔
لیگل ایڈ سوسائٹی کی وکیل ملیحہ ضیاء کی زیرِ صدارت پینل مباحثے میں خواجہ سرا برادری کے تجربات اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
پینلسٹس شہزادی رائے، کامی چوہدری، صنم فقیر، ڈاکٹر سارہ گل، ریحان مقدم اور ارادھیا خان نے اصلاحات کے لیے آٹھ اہم شعبوں کی نشاندہی کی۔ ان میں ہنگامی پناہ گاہوں کا قیام، تعلیم، روزگار، صحت، بی آئی ایس پی تک رسائی اور پولیس کی حساسیت میں اضافہ شامل تھے۔
شرکا نے ہر ضلع میں خواجہ سرا برادری کے لیے فوکل پرسنز مقرر کرنے، ’گرو‘ نظام کو قانونی حیثیت دینے اور منظم پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کے لیے براہ راست حکومتی فنڈنگ کی بھی سفارش کی۔
نادرا کے ڈائریکٹر جنرل عامر علی خان نے کہا کہ نادرا سندھ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ان مسائل اور خامیوں کی نشاندہی کرے گا جو خواجہ سرا برادری کو متاثر کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نادرا اپنی پالیسیوں کا جائزہ لینے کے ساتھ رجسٹریشن اور مختلف خدمات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے گا تاکہ ادارے کی خدمات مزید قابلِ رسائی اور مؤثر بنائی جا سکیں۔
کیئر پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر عادل شیراز نے کہا کہ سمٹ قانون میں تسلیم شدہ حقوق اور ان کے عملی نفاذ کے درمیان موجود خلا کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ان کے مطابق پائیدار تبدیلی کے لیے خواجہ سرا برادری کی آواز سننا، ادارہ جاتی احتساب مضبوط کرنا اور حکومتی وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
سمٹ کا آغاز جینڈر انٹرایکٹو الائنس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بندیا رانا نے کیا، جبکہ جی آئی اے کی ثنا احمد نے ’وائسز آف ریزیلینس‘ کے عنوان سے خطاب کیا۔ ’خوابِ رقص‘ اور ’ٹرانسنڈ تھیٹر‘ کی جانب سے پیش کیے گئے تھیٹر ڈرامے ’اسٹوریز فرام دی مارجنز‘ میں بھی خواجہ سرا برادری کے حقیقی زندگی کے تجربات کو اجاگر کیا گیا۔
اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لیگل ایڈ سوسائٹی کی سی ای او حیا ایمان زاہد نے ’کمٹمنٹ ٹریکر‘ کو روڈ میپ کے طور پر استعمال کرنے پر زور دیا تاکہ متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ لیگل ایڈ سوسائٹی خواجہ سرا برادری کے ساتھ مل کر مسلسل نگرانی، قانونی معاونت اور وکالت کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
حیا ایمان زاہد کے مطابق سمٹ میں سامنے آنے والے حقائق اور شواہد سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور ایل اے ایس اس وقت تک برادری کے ساتھ کام جاری رکھے گی جب تک کیے گئے وعدے قابلِ پیمائش عملی اقدامات میں تبدیل نہیں ہو جاتے۔
سمٹ کے اختتام پر سندھ بھر میں خواجہ سرا برادری کے لیے قانونی تحفظات اور ان کے عملی نفاذ کے درمیان موجود خلا ختم کرنے کے لیے مسلسل اور مؤثر ادارہ جاتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
