نیوز ڈیسک
کراچی: سندھ میں مسیحی عائلی قوانین میں مجوزہ اصلاحات پر قانون سازی کا عمل مزید مشاورت تک مؤخر کر دیا گیا ہے، کیونکہ سندھ اسمبلی کی اقلیتی امور کی قائمہ کمیٹی نے مسیحی برادری، گرجا گھروں، تنظیموں اور دیگر متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
قائمہ کمیٹی نے ’مجوزہ سندھ کرسچن فیملی لاز ایکٹ‘ پر غور اس وقت ملتوی کیا جب مسیحی برادری کے مختلف نمائندوں نے مسودے کی بعض شقوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ قانون کو حتمی شکل دینے سے قبل تمام متعلقہ حلقوں کی رائے لینا ضروری ہے۔
یہ مجوزہ قانون سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید نے بطور پرائیویٹ ممبر بل پیش کیا ہے، جس کا مقصد مسیحی عائلی قوانین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ موجودہ مسیحی عائلی قوانین بڑی حد تک تقریباً 150 سال پرانے قانونی ڈھانچے پر مبنی ہیں۔
سندھ اسمبلی نے بل کو تفصیلی غور و خوض اور سفارشات کے لیے قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا تھا۔ تاہم، مسیحی برادری کے مختلف نمائندوں اور تنظیموں کی جانب سے اعتراضات سامنے آنے کے بعد کمیٹی نے فوری طور پر قانون سازی آگے بڑھانے کے بجائے مزید مشاورت کا فیصلہ کیا۔
قائمہ کمیٹی کا اجلاس ڈاکٹر کھٹو مل جیون کی زیر صدارت ہوا، جس میں انتھونی نوید، محکمہ اقلیتی امور کے خصوصی معاون شام سندر ایڈوانی اور کمیٹی کے دیگر ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس میں مسیحی رکن اسمبلی روما مشتاق سمیت دیگر شرکاء نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، جبکہ سندھ اسمبلی کی رکن ماروی راشدی نے مجوزہ قانون میں ترامیم کی تجاویز پیش کیں۔
کمیٹی ارکان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تقریباً 150 سال پرانے مسیحی عائلی قوانین میں وقت کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات کی ضرورت ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ اس عمل میں جلد بازی سے گریز کیا جائے۔
ارکان کے مطابق شادی، طلاق، ازدواجی معاملات، رجسٹریشن اور دیگر خاندانی امور سے متعلق قانون سازی براہِ راست مسیحی برادری کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتی ہے، اس لیے اصلاحات کا عمل برادری کے مؤثر اور بامعنی مشورے کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں تمام گرجا گھروں، مسیحی برادری کی تنظیموں اور دیگر متعلقہ فریقین کے نمائندوں کو مدعو کیا جائے گا۔ مشاورت کے دوران بالخصوص ان شقوں پر توجہ دی جائے گی جن پر مسیحی نمائندوں نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔
کمیٹی ارکان نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ مشاورتی عمل مکمل ہونے تک بل کی منظوری میں جلد بازی نہیں کی جائے گی، خواہ اس عمل میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے۔
انتھونی نوید نے کہا کہ مشاورت کے دوران سامنے آنے والے تمام اعتراضات کو سنا جائے گا اور ان پر غور کیا جائے گا۔
یوں مجوزہ قانون اب ایک وسیع تر مشاورتی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں اصل چیلنج صرف پرانے مسیحی عائلی قوانین کو جدید بنانا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ نئے قانونی ڈھانچے میں مسیحی برادری کے حقوق، خدشات اور موجودہ ضروریات کی مؤثر عکاسی ہو۔
