اسلام آباد/راولپنڈی:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کی ممکنہ پیش قدمی سے قبل اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکیورٹی انتظامات نمایاں طور پر سخت کر دیے گئے ہیں۔ اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں پر پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے، جبکہ متعدد مقامات پر شپنگ کنٹینرز کھڑے کر دیے گئے ہیں۔
حکام کی جانب سے بظاہر یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ پنجاب بھر میں بڑی اور چھوٹی سڑکیں ٹریفک کے لیے کھلی ہیں، تاہم زمینی صورتحال میں اہم راستوں پر کنٹینرز، بھاری پولیس نفری اور سخت چیکنگ یہ ظاہر کرتی ہے کہ انتظامیہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
ڈی چوک کے گرد کنٹینرز کی دیوار
وفاقی دارالحکومت میں سب سے زیادہ توجہ ڈی چوک پر مرکوز ہے، جہاں شپنگ کنٹینرز نصب کرکے علاقے کے داخلی راستوں کو محدود کر دیا گیا ہے۔ حساس مقامات پر اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ اسلام آباد میں داخل ہونے والی گاڑیوں اور افراد کی نگرانی بھی سخت کی گئی ہے۔
ڈی چوک محض ایک اہم چوراہا نہیں بلکہ پاکستان کے سیاسی احتجاجوں کا ایک علامتی مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر یہاں سکیورٹی انتظامات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
فیض آباد: جڑواں شہروں کا اہم گیٹ وے
اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے فیض آباد انٹرچینج پر بھی کنٹینرز نصب کیے گئے ہیں۔ یہ مقام اس لحاظ سے اہم ہے کہ راولپنڈی سے اسلام آباد کی جانب آنے والی بڑی تعداد اسی راستے سے دارالحکومت میں داخل ہوتی ہے۔
حکام کی جانب سے یہاں سکیورٹی بڑھانے کا مقصد بظاہر کسی بڑے احتجاجی ہجوم کو اچانک اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کے ساتھ ساتھ دونوں شہروں کے درمیان معمول کی آمدورفت پر نظر رکھنا ہے۔
اٹک سے اسلام آباد تک سکیورٹی حصار
سکیورٹی اقدامات صرف جڑواں شہروں تک محدود نہیں رہے۔ اٹک-اسلام آباد روٹ پر بھی پولیس نفری تعینات ہے اور مختلف مقامات پر کنٹینرز رکھے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ کے وسط سے موٹر وے اور جی ٹی روڈ سمیت اہم راستوں پر کنٹینرز نصب کیے جا رہے ہیں، جبکہ اٹک پل پر بھی اضافی کنٹینرز رکھے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سکیورٹی انتظامات کے تحت اٹک میں پنجاب پولیس کے 20 سے 30 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
یہ انتظامات اس سوال کو بھی جنم دیتے ہیں کہ اگر احتجاجی قافلے اسلام آباد کی جانب بڑھتے ہیں تو ان کے راستے میں کس حد تک رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی اور اس کے نتیجے میں عام شہریوں کی نقل و حرکت کس حد تک متاثر ہو سکتی ہے۔
جہلم میں بھی دباؤ بڑھ گیا
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی بار بار ناکامی کے بعد جہلم بھی سکیورٹی کے اعتبار سے اہم مقام بن گیا ہے۔
جی ٹی روڈ پر بڑی تعداد میں کنٹینرز کھڑے کیے گئے ہیں جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات ہے۔ ذرائع کے مطابق صورتحال کشیدہ ہونے کی صورت میں جی ٹی روڈ کو بند کیا جا سکتا ہے، تاہم فی الحال شاہراہ ٹریفک کے لیے کھلی ہے۔
یہ صورتحال قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک مشکل توازن کی عکاسی کرتی ہے: ایک طرف احتجاجی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنا اور دوسری جانب عام شہریوں، مسافروں اور تجارتی ٹریفک کی آمدورفت کو ممکنہ حد تک معمول پر رکھنا۔
جڑواں شہر سیاسی کشیدگی کا مرکز کیوں؟
اسلام آباد اور راولپنڈی کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت انہیں موجودہ صورتحال میں مرکزی حیثیت دیتی ہے۔ اسلام آباد پی ٹی آئی کے احتجاج کی ممکنہ منزل ہے، جبکہ راولپنڈی دارالحکومت کی جانب بڑھنے والے مظاہرین کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔
اسی تناظر میں فیض آباد اور ڈی چوک پر کنٹینرز کی تنصیب، داخلی راستوں پر سخت نگرانی اور اضافی پولیس نفری کی تعیناتی کو محض معمول کی سکیورٹی مشق قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
تاہم انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ شہریوں کی معمول کی سرگرمیوں میں غیر ضروری رکاوٹ پیدا نہیں کی جا رہی اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پنجاب میں دفعہ 144، اجتماعات پر پابندی
صورتحال میں مزید اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب پنجاب کے محکمہ داخلہ نے 6 اکتوبر سے 15 اکتوبر تک صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، جلوس اور مظاہروں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ عوامی مقامات پر اسلحے کی نمائش یا اسے لے کر چلنے کے علاوہ لوگوں کو غیر قانونی اجتماعات میں شرکت پر اکسانے کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق یہ پابندیاں عوامی اجتماعات کو ممکنہ دہشت گرد حملوں سے لاحق خطرات کے پیش نظر عائد کی گئی ہیں، جبکہ ریلیوں، جلسوں، دھرنوں، جلوسوں اور احتجاجی اجتماعات کو ممکنہ ’سافٹ ٹارگٹس‘ قرار دیا گیا ہے۔
تاہم شادی کی تقریبات، نماز جنازہ، تدفین، مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کی سرگرمیوں کو پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ عدالتوں، سرکاری اداروں اور باضابطہ اجازت سے ہونے والی تقریبات بھی اس پابندی سے باہر ہیں۔
محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ امن و امان اور جان و مال کے تحفظ کو درپیش سنگین خطرات کے باعث یہ اقدام ضروری تھا۔
پشاور میں میٹرک امتحانات بھی ملتوی
سیاسی صورتحال کے اثرات اب جڑواں شہروں سے باہر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے پیش نظر پشاور میں 7 سے 10 اکتوبر تک ہونے والے میٹرک کے سالانہ امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
پشاور بورڈ کے کنٹرولر کے مطابق ملتوی ہونے والے امتحانات کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئی تاریخوں کے لیے بورڈ کے سرکاری اعلان کا انتظار کریں۔
پنجاب پولیس کا مؤقف: سڑکیں بند نہیں
دوسری جانب پنجاب کے انسپکٹر جنرل راؤ عبدالکریم کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے اور تمام بڑی اور چھوٹی سڑکیں کھلی ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی پنجاب نے کہا کہ صوبے میں لانگ مارچ کے حوالے سے فی الحال کوئی مسئلہ درپیش نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ناقص کارکردگی کے ذمہ دار افسران کے خلاف قانون اور متعلقہ ضوابط کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
تاہم زمینی سطح پر جڑواں شہروں، اسلام آباد کی جانب جانے والے راستوں اور دیگر اہم شاہراہوں پر کنٹینرز اور بھاری پولیس نفری کی موجودگی ایک مختلف تصویر بھی پیش کرتی ہے۔
اصل سوال: احتیاط یا آنے والی رکاوٹ؟
اس وقت صورتحال بظاہر دو متوازی تصویریں پیش کر رہی ہے۔ ایک طرف حکام کا کہنا ہے کہ سڑکیں کھلی ہیں، ٹریفک معمول کے مطابق چل رہی ہے اور سکیورٹی انتظامات صرف امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہیں۔ دوسری طرف اہم داخلی راستوں پر کنٹینرز، اضافی پولیس نفری، سخت چیکنگ اور دفعہ 144 کا نفاذ اس امکان کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انتظامیہ احتجاجی قافلوں کی ممکنہ پیش قدمی کے لیے پہلے ہی تیاری کر رہی ہے۔
اب بنیادی سوال یہی ہے کہ یہ اقدامات محض احتیاطی سکیورٹی انتظامات تک محدود رہیں گے یا پی ٹی آئی کے لانگ مارچ نے اگر اسلام آباد کی جانب عملی پیش قدمی کی تو یہی انتظامات وسیع پیمانے پر سڑکوں کی بندش اور نقل و حرکت پر مزید پابندیوں میں تبدیل ہو جائیں گے؟
آنے والے چند دن اس سوال کا جواب دینے میں اہم ہوں گے۔
