گوتریس نے امریکہ، ایران کے درمیان ثالثی میں پاکستان کے کردار کو سراہا

0

اسلام آباد

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کے لیے پاکستان کے ممکنہ ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فریقوں کی جانب سے اسلام آباد پر اعتماد پاکستان کے عالمی سفارتی مقام کی اہم عکاسی کرتا ہے۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے واشنگٹن اور تہران کی جانب سے پاکستان کو مذاکرات کے لیے ایک ممکنہ پل کے طور پر دیکھنے کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی کے ماحول میں فریقین کا کسی ملک پر مذاکرات اور رابطے کے لیے اعتماد انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ عالمی ادارے میں پاکستان کا ایک خصوصی کردار ہے اور ملک نے بات چیت، کثیرالجہتی تعاون اور عالمی امن کے فروغ کی کوششوں میں مسلسل اپنا کردار ادا کیا ہے۔

گوتریس نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی مرد و خواتین نے دنیا کے مختلف حصوں میں تعیناتی کے دوران غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی اپنی جدوجہد کے باوجود عالمی امن کے لیے اس کا کردار نمایاں رہا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے افغان مہاجرین کی باوقار واپسی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطے برقرار رکھنے پر پاکستانی قیادت کو سراہا۔

تنازعات کا حل صرف مذاکرات سے ممکن ہے

گوتریس نے زور دیا کہ عالمی سطح پر پیچیدہ ترین تنازعات کا پائیدار حل بالآخر مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ تنازعات کے حل کے لیے ممالک کی مدد کو تیار ہے اور موجودہ عالمی کشیدگی کے باوجود سفارتی راستوں کو کھلا رکھنا ضروری ہے۔

ان کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان امریکہ، ایران، خلیجی ممالک اور وسیع تر مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی پیچیدہ صورتحال کے درمیان اپنے سفارتی تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

فلسطین کو عالمی ایجنڈے سے غائب نہیں ہونے دینا چاہیے، گوتریس

فلسطین کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔

انہوں نے غزہ امن منصوبے پر فوری عمل درآمد پر زور دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی عوام کی مسلسل مشکلات اور انسانی تکالیف کا ازالہ کیا جائے۔

گوتریس نے خبردار کیا کہ یوکرین اور خلیجی خطے میں جاری جنگوں اور کشیدگی کے دوران فلسطین کے مسئلے کو عالمی ایجنڈے سے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے حماس کے 7 اکتوبر کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ساتھ ہی فلسطینی شہریوں کی تکالیف کے خاتمے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

زیادہ اخراج کرنے والے ممالک فوری اقدامات کریں، گوتریس

موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے گوتریس نے عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بڑے اخراج کنندہ ممالک کے غیر متناسب کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے اخراج میں کمی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات پر زور دیا۔

انہوں نے پاکستان کے ساتھ اقوام متحدہ کی یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ملک میں دوبارہ آمد پر خوشی کا اظہار کیا۔

اپنے 2022 کے دورہ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے گوتریس نے کہا کہ اس وقت ملک تباہ کن سیلابوں سے دوچار تھا، جن کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔

انہوں نے عالمی فیصلہ سازی کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور سوال اٹھایا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افریقہ کو اب تک مناسب نمائندگی کیوں حاصل نہیں ہوسکی۔

ڈار نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا سوال اٹھا دیا

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گوتریس کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہوچکی ہے، جس میں ایران، امریکہ، حوثیوں اور آبنائے باب المندب سے متعلق متعدد چیلنجز شامل ہیں۔

اسحاق ڈار نے بین الاقوامی نظام کی ایک بنیادی کمزوری کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی منظوری اور ان پر عملی عملدرآمد کے درمیان نمایاں خلا موجود ہے۔

انہوں نے بالخصوص مسئلہ کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تنازع سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے ایران پر اسرائیلی حملے کی فوری مذمت کی تھی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا تھا۔

ڈار نے اقوام متحدہ کے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ایک مؤثر بین الاقوامی میکنزم تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا، جس میں خلاف ورزیوں پر سزاؤں اور تعاون پر مراعات پر مبنی احتسابی نظام شامل ہو۔

انہوں نے کہا کہ مؤثر نفاذ اور احتساب کے بغیر بین الاقوامی قراردادیں محض کاغذی دستاویزات بن کر رہ جاتی ہیں اور تنازعات کے حل میں اپنا مطلوبہ کردار ادا نہیں کرتیں۔

پاکستان کے لیے نیا سفارتی امتحان

گوتریس اور اسحاق ڈار کے بیانات نے عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار کو مزید نمایاں کردیا ہے۔

امریکہ اور ایران دونوں کی جانب سے اسلام آباد کو مذاکرات کے لیے ممکنہ پل کے طور پر تسلیم کیے جانے سے پاکستان کے لیے یہ موقع پیدا ہوا ہے کہ وہ اپنے سفارتی روابط اور اعتماد کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں استعمال کرے۔

تاہم اسلام آباد کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ واشنگٹن اور تہران سمیت ایک دوسرے کے حریف عالمی اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھتے ہوئے خود کو ایک قابل اعتماد اور نسبتاً غیر جانب دار سفارتی رابطے کے طور پر پیش کرے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.