نیوز ڈیسک
لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سری لنکا کے خلاف آئندہ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے 14 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں تین نئے کھلاڑیوں کو پہلی مرتبہ ٹیسٹ ٹیم میں شامل کرکے ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی دکھانے والے بیٹرز کو قومی سطح پر صلاحیتیں منوانے کا موقع دیا گیا ہے۔
بابر اعظم ٹیم کی قیادت برقرار رکھیں گے، جبکہ سابق کپتان شان مسعود اسکواڈ میں جگہ بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
اسکواڈ کا نمایاں پہلو محمد طحہ، محمد سلیمان اور سمیر منہاس کی شمولیت ہے، جنہوں نے حالیہ ڈومیسٹک مقابلوں اور انڈر 19 کرکٹ میں اپنی کارکردگی سے سلیکٹرز کی توجہ حاصل کی۔ ان تینوں کھلاڑیوں کی شمولیت کو قومی ٹیسٹ ٹیم میں نئے ٹیلنٹ کو آزمانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رنز کے انبار لگانے والوں کو انعام
محمد طحہ نے پریذیڈنٹس ٹرافی گریڈ ون میں غیر معمولی بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سات میچوں میں 730 رنز بنائے۔ ان کی کارکردگی میں تین سنچریاں اور 225 رنز کی بہترین انفرادی اننگز شامل ہے، جس نے انہیں ٹورنامنٹ کے نمایاں بیٹرز میں شامل کر دیا۔
محمد سلیمان بھی رنز بنانے میں پیچھے نہیں رہے۔ انہوں نے سات میچوں میں 652 رنز اسکور کیے اور بیٹنگ فہرست میں پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ ان کے ریکارڈ میں بھی تین سنچریاں شامل ہیں۔
تیسرے نئے کھلاڑی سمیر منہاس کے لیے یہ انتخاب اہم پیش رفت ہے۔ وہ اپنا پہلا فرسٹ کلاس سیزن کھیل رہے ہیں اور سات میچوں میں 405 رنز بنا چکے ہیں۔ پاکستان کی انڈر 19 ٹیم کے لیے ان کی سابقہ کارکردگی نے بھی ان کی صلاحیتوں کو نمایاں کرنے میں کردار ادا کیا۔
تینوں کھلاڑیوں کی شمولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل اچھی کارکردگی قومی ٹیم میں جگہ بنانے کا راستہ فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم، ٹیسٹ کرکٹ کی مختلف نوعیت میں ان کی کارکردگی کا امتحان سری لنکا کے خلاف سیریز میں ہوگا۔
قومی اسکواڈ میں کون شامل، کون باہر؟
پی سی بی کے اعلان کردہ 14 رکنی اسکواڈ میں کپتان بابر اعظم کے علاوہ عبداللہ فضل، عرفات منہاس، اذان اویس، محمد عباس، رضااللہ، سعود شکیل، غازی غوری، سعد بیگ، سلمان علی آغا اور علی عثمان بھی شامل ہیں۔ محمد طحہ، محمد سلیمان اور سمیر منہاس کو پہلی بار ٹیسٹ اسکواڈ میں جگہ ملی ہے۔
وکٹ کیپنگ کے لیے غازی غوری اور سعد بیگ کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ لیفٹ آرم اسپنر علی عثمان بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب، شان مسعود، امام الحق، عبداللہ شفیق اور محمد رضوان ابتدائی اسکواڈ میں شامل نہیں ہیں۔ فاسٹ بولرز عامر جمال، خرم شہزاد اور محمد علی کے علاوہ اسپنر ساجد خان کو بھی جگہ نہیں مل سکی۔
نئے کھلاڑیوں کی شمولیت کے ساتھ اسکواڈ میں تبدیلیاں اس سیریز کو تجربہ کار اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے اہم موقع بناتی ہیں، جہاں سلیکٹرز کی توقعات پر پورا اترنا نئے کھلاڑیوں کے لیے بڑا چیلنج ہوگا۔
وارم اپ میچ میں بھی نئے کھلاڑیوں کو موقع
پی سی بی نے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل تین روزہ وارم اپ میچ کے لیے 13 رکنی پیٹرنز الیون کا اعلان بھی کیا ہے۔ وکٹ کیپر بیٹر سعد بیگ اس ٹیم کی قیادت کریں گے۔
پیٹرنز الیون میں عبداللہ فضل، علی عثمان، اذان اویس، محمد سلیمان، محمد طحہ اور سمیر منہاس کے علاوہ محمد سلمان، شعیب اختر جونیئر، علی شبیر، ثاقب خان، محمد طیب عارف اور عبید شاہ شامل ہیں۔
پیٹرنز الیون اور سری لنکا کے درمیان وارم اپ میچ 4 سے 6 نومبر تک اسلام آباد کلب میں کھیلا جائے گا۔ اس میچ کے بعد پیٹرنز اسکواڈ میں شامل دو فاسٹ بولرز قومی ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بن جائیں گے، جس سے سیریز سے قبل بولنگ کے شعبے میں مزید انتخاب کی گنجائش پیدا ہوگی۔
راولپنڈی سے لاہور تک ٹیسٹ کرکٹ کا مقابلہ
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز 9 نومبر سے ہوگا۔ پہلا ٹیسٹ 9 سے 13 نومبر تک راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جبکہ دوسرا ٹیسٹ 17 سے 21 نومبر تک لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں شیڈول ہے۔
نئے کھلاڑیوں کے لیے یہ سیریز اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کا موقع ہوگی، جبکہ قومی ٹیم کی قیادت کرنے والے بابر اعظم کے لیے اسکواڈ کو متوازن انداز میں میدان میں اتارنا اہم ہوگا۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز بنانے والے بیٹرز کی ٹیسٹ سطح پر کارکردگی اور ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے ان کی صلاحیتیں اس سیریز کے اہم پہلوؤں میں شامل ہوں گی۔
