چین کا روبوٹ جو جانیں بچانے کے لیے تیار 

0

نیوز ڈیسک

بیجنگ: تصور کریں کہ کوئی روبوٹ چاقو بردار حملہ آور کے سامنے آ جائے، حادثے میں گاڑی کے نیچے پھنسے شخص کو نکالنے میں مدد دے یا تیزی سے آتی ہوئی گاڑی کے راستے سے کسی راہ گیر کو بچا لے۔ یہ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں، بلکہ چین کی روبوٹ ساز کمپنی یونٹری کی جانب سے پیش کی گئی ایک نئی تشہیری ویڈیو کا حصہ ہے۔

چین کی معروف کمپنی یونٹری نے اپنے نئے ہیومنائڈ روبوٹ H2-X کو ایک ایسی مشین کے طور پر پیش کیا ہے جسے سیکیورٹی، خطرات سے نمٹنے اور ہنگامی امدادی کارروائیوں میں استعمال کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ کمپنی نے اس روبوٹ کو ’کنگ فو لیجنڈ: گارجین‘ کا نام دیا ہے، جبکہ ویڈیو میں اس کی جسمانی قوت، تیز حرکات اور خطرناک حالات میں مداخلت کرنے کی صلاحیتوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔

یہ مظاہرے ایک اہم سوال بھی اٹھاتے ہیں: کیا مستقبل میں انسانوں جیسے روبوٹس محض صنعتی کارکن یا تفریحی مشینیں نہیں رہیں گے، بلکہ ایسے حالات میں بھی انسانوں کی جگہ لے سکیں گے جہاں جان کو خطرہ لاحق ہو؟

حملہ آور کو قابو کرنے سے لے کر حادثے میں امداد تک

یونٹری کی تشہیری ویڈیو میں H2-X کو مختلف فرضی ہنگامی صورتِ حال میں کارروائی کرتے دکھایا گیا ہے۔ ایک منظر میں روبوٹ چاقو سے مسلح شخص سے ایک خاتون کو بچاتا ہے، جبکہ دوسرے منظر میں وہ گاڑی کا ایک حصہ اٹھا کر اس کے نیچے پھنسے شخص کو نکالنے میں مدد دیتا ہے۔

ویڈیو کے ایک اور حصے میں روبوٹ تیزی سے آتی ہوئی گاڑی کے راستے سے ایک راہ گیر کو ہٹا کر اسے ممکنہ حادثے سے بچاتا ہے۔ اسی طرح ایک منظر میں اسے گاڑی کا دروازہ توڑتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔

یہ مناظر اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مستقبل میں ہیومنائڈ روبوٹس کو ایسے مقامات پر تعینات کیا جا سکتا ہے جہاں انسانی مداخلت خطرناک ہو، مثلاً حادثات کے مقامات، آتش زدگی کے واقعات، سیکیورٹی کے ہنگامی حالات اور تباہی سے متاثرہ علاقے۔

تاہم، ان مناظر کو روبوٹ کی حقیقی دنیا میں ثابت شدہ صلاحیتوں کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ مظاہروں میں روبوٹ نے خودمختار مصنوعی ذہانت کے ذریعے فیصلے کیے، پہلے سے پروگرام شدہ ہدایات پر عمل کیا یا اسے کسی انسانی آپریٹر نے دور بیٹھ کر کنٹرول کیا۔

یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ کسی مخصوص منظر میں کامیاب حرکت کرنا اور غیر متوقع حالات میں خود فیصلہ کرکے محفوظ انداز میں کارروائی کرنا دو مختلف صلاحیتیں ہیں۔

روبوٹ کی جسمانی قوت کتنی ہے؟

H2-X کو یونٹری کے پہلے ہیومنائڈ روبوٹ H2 کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ *ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ* کے مطابق، اصل H2 روبوٹ کا قد تقریباً 1.8 میٹر اور وزن لگ بھگ 70 کلوگرام ہے۔

روبوٹ میں حرکت کے لیے 31 ڈگریز آف فریڈم (Degrees of Freedom) موجود ہیں۔ اس اصطلاح سے مراد جسم کے مختلف جوڑوں اور حصوں کی حرکت کے ممکنہ انداز ہیں۔ زیادہ تعداد میں حرکتی درجات روبوٹ کو نسبتاً پیچیدہ جسمانی حرکات انجام دینے کی صلاحیت فراہم کر سکتے ہیں۔

اس کے ٹانگوں کے جوڑوں کا زیادہ سے زیادہ ٹارک 360 نیوٹن میٹر بتایا گیا ہے۔ ٹارک کسی جوڑ کے گرد گھومنے والی قوت کو ظاہر کرتا ہے، تاہم اس پیمانے سے اکیلے یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ روبوٹ حقیقت میں کتنا وزن اٹھا سکتا ہے یا کسی شخص کو کتنی مؤثر انداز میں قابو کر سکتا ہے۔

https://urdu.thepenpk.com/?p=10400

کمپنی کے مطابق، روبوٹ کی بیٹری کی زیادہ سے زیادہ مدت تقریباً آٹھ گھنٹے ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ یہ دورانیہ مسلسل جسمانی سرگرمی، ہلکے کام یا اسٹینڈ بائی کیفیات میں سے کس بنیاد پر بتایا گیا ہے۔ حقیقی حالات میں بیٹری کی کارکردگی روبوٹ کی سرگرمی، وزن اٹھانے اور توانائی کے استعمال سے متاثر ہو سکتی ہے۔

کیا روبوٹ واقعی جانیں بچانے کے لیے تیار ہے؟

اگرچہ ویڈیو میں دکھائے گئے مظاہرے متاثر کن ہیں، لیکن ہنگامی حالات میں روبوٹ کے استعمال کے لیے صرف جسمانی طاقت اور تیز حرکت کافی نہیں۔ اسے ماحول کی درست شناخت، بدلتے حالات میں فوری فیصلہ سازی، انسانی جان کے تحفظ اور غیر متوقع واقعات سے نمٹنے کی صلاحیت بھی درکار ہوگی۔

مثال کے طور پر، کسی حملہ آور کو قابو کرتے ہوئے روبوٹ کو یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ کس وقت مداخلت ضروری ہے اور کس وقت اس کی کارروائی کسی بے گناہ شخص کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسی طرح حادثے میں گاڑی اٹھاتے ہوئے اسے گاڑی کے توازن، متاثرہ شخص کی حالت اور آس پاس موجود افراد کی حفاظت کا خیال رکھنا ہوگا۔

اس لیے روبوٹ کی عملی افادیت جانچنے کے لیے آزادانہ تجربات، حقیقی حالات میں کارکردگی کے شواہد اور حفاظتی معیارات کی جانچ ضروری ہوگی۔

یونٹری نے H2-X کی قیمت اور تجارتی دستیابی کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کیں۔ کمپنی نے خطرناک تبدیلیوں اور غیر مجاز استعمال سے بھی خبردار کیا ہے اور روبوٹ سے کم از کم دو سے تین میٹر کا محفوظ فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے۔

مستقبل میں انسانوں کی جگہ کون لے گا؟

H2-X کی رونمائی ہیومنائڈ روبوٹکس کے اس رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس میں مشینوں کو صرف فیکٹریوں میں بار بار دہرائے جانے والے کاموں تک محدود رکھنے کے بجائے ایسے ماحول کے لیے تیار کیا جا رہا ہے جہاں حرکت، توازن، جسمانی قوت اور حالات کے مطابق ردعمل اہم ہوتے ہیں۔

یونٹری مصنوعی ذہانت کی ایسی ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہی ہے جس کے ذریعے روبوٹس مسلسل سیکھنے اور اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے قابل ہو سکیں۔ اگر یہ صلاحیتیں قابلِ اعتماد انداز میں عملی شکل اختیار کرتی ہیں تو مستقبل میں روبوٹس کو امدادی اداروں، صنعتی مراکز اور خطرناک مقامات پر استعمال کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

تاہم، اس پیش رفت کے ساتھ انسانی نگرانی، جواب دہی، حادثات کی صورت میں ذمہ داری اور روبوٹس کے ممکنہ غلط استعمال جیسے سوالات بھی اہمیت اختیار کرتے ہیں۔ خاص طور پر سیکیورٹی کے شعبے میں یہ طے کرنا ضروری ہوگا کہ کسی روبوٹ کو طاقت استعمال کرنے کا اختیار کس حد تک دیا جا سکتا ہے اور اس کے فیصلوں کی نگرانی کون کرے گا۔

فی الحال H2-X کی تشہیری ویڈیو مستقبل کی ممکنہ ٹیکنالوجی کی ایک جھلک ضرور پیش کرتی ہے، لیکن یہ ثابت کرنے کے لیے مزید شواہد درکار ہیں کہ روبوٹ حقیقی دنیا میں انہی صلاحیتوں کے ساتھ کام کر سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.