بھارتی سرحد پر کیا ہو رہا ہے؟ مودی حکومت سے اہم سوالات

0

نیوز ڈیسک

نئی دہلی: شمال مشرقی بھارتی ریاست اروناچل پردیش میں چینی اور بھارتی افواج کے درمیان متعدد مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد بھارتی اپوزیشن نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت سے صورتحال پر وضاحت طلب کر لی ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق، انڈو تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل شترجیت کپور نے راجستھان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اروناچل پردیش میں کئی مقامات پر بھارتی اور چینی افواج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور صورتحال بدستور جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرحدی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تعینات کیے گئے ’شوریہ کمانڈوز‘ نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جب کہ مستقبل قریب میں اس فورس کی ایک مکمل بٹالین تشکیل دی جائے گی۔

بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کے مطابق، اروناچل پردیش کے علاقے تکسنگ کے قریب دونوں ممالک کی افواج جولائی سے آمنے سامنے ہیں۔ رپورٹ میں بھارتی مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ چینی فوجی بھارت کے زیر انتظام علاقے میں تقریباً 6 سے 7 کلومیٹر اندر داخل ہوئے اور وہاں خیمے بھی نصب کیے۔

تاہم، ان اطلاعات اور مبینہ دراندازی کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے آنے تک انہیں بھارتی ذرائع سے منسوب اطلاعات کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

چینی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ، ڈرون ٹیکنالوجی پر توجہ

آئی ٹی بی پی کے سربراہ شترجیت کپور نے کہا کہ چین کی عسکری صلاحیتوں میں مسلسل اضافے کے باعث روایتی طریقوں سے اس کا مقابلہ کرنا پہلے کی نسبت زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔

انہوں نے جدید جنگ میں ڈرون ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ فورس کے بجٹ کا 70 فیصد حصہ ڈرونز کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، جدید ٹیکنالوجی اور بہتر صلاحیتوں کے ذریعے سرحدی چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کانگریس کا مودی حکومت سے جواب دینے کا مطالبہ

دوسری جانب، بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے سرحدی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام کو حقائق سے آگاہ کرے۔

کانگریس رہنماؤں نے زور دیا ہے کہ معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے اور حکومت واضح کرے کہ اروناچل پردیش میں زمینی صورتحال کیا ہے اور سرحد پر جاری کشیدگی سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ادھر بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے مبینہ حالیہ جھڑپوں پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے سفارتی اور عسکری ذرائع سے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اروناچل پردیش پر چین اور بھارت کے درمیان تنازع

واضح رہے کہ چین اور بھارت کے درمیان اروناچل پردیش کی ملکیت کا تنازع طویل عرصے سے جاری ہے۔ چین اس علاقے پر اپنا دعویٰ کرتا ہے اور اسے ’جنوبی تبت‘ قرار دیتا ہے، جب کہ بھارت اروناچل پردیش کو اپنی ریاست تسلیم کرتا ہے۔

سرحدی علاقوں میں دونوں ممالک کے درمیان وقتاً فوقتاً کشیدگی سامنے آتی رہی ہے، جس کے باعث خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ تازہ اطلاعات نے ایک بار پھر سرحدی صورتحال اور بھارتی حکومت کی پالیسیوں پر سیاسی بحث کو جنم دیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.