نیوز ڈیسک
سوشل میڈیا پر ایک نوزائیدہ بچے کی ویڈیو نے صارفین کو حیرت اور تجسس میں مبتلا کر رکھا ہے، جس میں بچے کے اوپری ہونٹ پر گھنی اور گہرے رنگ کی مونچھیں دکھائی دیتی ہیں۔
ویڈیو لاکھوں بار دیکھی جا چکی ہے، جب کہ اس پر بننے والے میمز، مزاحیہ تبصروں اور ڈیجیٹل طور پر تبدیل شدہ تصاویر نے اسے ایک دلچسپ آن لائن موضوع بنا دیا ہے۔
تاہم، اس غیر معمولی منظر نے ایک اہم سوال بھی اٹھا دیا ہے: کیا کوئی بچہ واقعی پیدائش کے وقت ایسی نمایاں مونچھوں کے ساتھ دنیا میں آ سکتا ہے؟
ویڈیو میں دکھائی دینے والے بچے کی ظاہری شکل نے سوشل میڈیا صارفین کو اس قدر محظوظ کیا کہ انہوں نے اس پر مختلف انداز میں تبصرے کرنا شروع کر دیے۔
بعض صارفین نے مذاق میں کہا کہ یہ بچہ بچپن، اسکول اور جوانی کے مراحل کو نظر انداز کرتے ہوئے براہِ راست ادھیڑ عمری میں داخل ہو گیا ہے، جب کہ ایک اور تبصرے میں اسے ایسا شخص قرار دیا گیا جو پیدا ہوتے ہی ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکا ہو، اس کے تین بچے ہوں اور اسے دو گھروں کے قرض کی قسطیں ادا کرنی ہوں۔
نوزائیدہ سے صدر اور کاروباری شخصیت تک
وائرل ویڈیو نے صرف مزاحیہ تبصروں ہی کو جنم نہیں دیا بلکہ صارفین نے بچے کی مختلف کرداروں میں مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کے ذریعے تصاویر بھی تیار کیں۔
ان تصاویر میں ایک تصویر خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے، جس میں بچے کو فوجی وردی پہنے ڈیسک کے پیچھے صدارتی انداز میں بیٹھے دکھایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ درج عبارت ’’چھوٹے ہاتھ، بڑے منصوبے‘‘ بھی صارفین کی دلچسپی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
دیگر تصاویر میں یہی بچہ بزنس سوٹ پہنے سگار تھامے نظر آتا ہے، جب کہ بعض تصاویر میں اسے مشہور ویڈیو گیم کردار ’ماریو‘ اور قدیم ہان جنگجو کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔
ان تخلیقی تصاویر نے ایک غیر معمولی ویڈیو کو سوشل میڈیا پر مزاح اور ڈیجیٹل تخلیق کے ایک نئے سلسلے میں تبدیل کر دیا ہے۔
کیا نوزائیدہ بچے کے چہرے پر قدرتی طور پر بال ہو سکتے ہیں؟
مزاح اور تفریح سے ہٹ کر اس ویڈیو کی حقیقت جاننے کے لیے طبی پہلو کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
بھارتی نیوز ویب سائٹ ’وائی او این‘ (WION) کی ایک رپورٹ کے مطابق، بعض نوزائیدہ بچوں کے جسم پر ’لانوگو‘ (Lanugo) نامی نرم اور باریک بال موجود ہوتے ہیں، جو دورانِ حمل نشوونما پاتے ہیں اور بچے کی جلد کے تحفظ میں مدد دیتے ہیں۔
یہ باریک بال بچے کی کمر، کندھوں، کانوں اور چہرے سمیت جسم کے مختلف حصوں پر پائے جا سکتے ہیں۔ عموماً ان کی ساخت نرم اور رنگ ہلکا ہوتا ہے، جب کہ یہ اکثر پیدائش سے پہلے یا پیدائش کے کچھ عرصے بعد خود ہی جھڑ جاتے ہیں۔
تاہم، لانوگو کی قدرتی موجودگی اور وائرل ویڈیو میں دکھائی دینے والی گھنی، گہری اور واضح مونچھوں میں نمایاں فرق ہے۔ محض جسم پر قدرتی بالوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت نہیں کہ ویڈیو میں نظر آنے والی مونچھیں بھی حقیقی ہیں۔
ویڈیو میں ڈیجیٹل ردوبدل کا شبہ
رپورٹ میں ویڈیو کے بعض بصری پہلوؤں کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے، جنہیں ممکنہ ڈیجیٹل ردوبدل کے اشاروں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق، اگر مونچھیں بچے کے چہرے کی حرکات کے ساتھ قدرتی طور پر حرکت نہیں کرتیں یا ان کے کناروں پر غیر معمولی جھلمل دکھائی دیتی ہے تو یہ ایڈیٹنگ کا امکان پیدا کر سکتا ہے۔
اسی طرح مونچھوں پر پڑنے والی روشنی اور سائے کا بچے کے چہرے اور اردگرد کے ماحول سے مطابقت نہ رکھنا بھی ڈیجیٹل تبدیلی کے شبہے کو تقویت دے سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل فلٹرز اور امیج ایڈیٹنگ سافٹ ویئر کے ذریعے کسی حقیقی تصویر یا ویڈیو میں غیر معمولی خصوصیات شامل کرنا ممکن ہے، جس سے اصل اور تبدیل شدہ مواد کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
تاہم، ان بصری اشاروں کی بنیاد پر حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے ویڈیو کا مستند اور تکنیکی تجزیہ ضروری ہے۔
حقیقت کیا ہے؟
اب تک اس مخصوص ویڈیو کے پس منظر، بچے کی شناخت یا مونچھوں کی حقیقت کے حوالے سے کسی ہسپتال، متعلقہ طبی ماہر یا مستند طبی ریکارڈ کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والی مونچھیں قدرتی ہیں یا انہیں بعد میں ڈیجیٹل طور پر شامل کیا گیا ہے۔
اس لیے اس ویڈیو کو حقیقی طبی واقعے کے بجائے ایک غیر مصدقہ وائرل کلپ کے طور پر دیکھنا زیادہ محتاط طرزِ عمل ہوگا۔ لانوگو جیسے قدرتی بالوں کی موجودگی ایک تسلیم شدہ طبی حقیقت ہے، لیکن اس مخصوص بچے کی ظاہری شکل کی تصدیق کے لیے الگ شواہد درکار ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر معمولی اور حیران کن مناظر تیزی سے مقبول ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی مقبولیت ان کی صداقت کی ضمانت نہیں ہوتی۔ مصنوعی ذہانت اور جدید ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کے دور میں کسی بھی وائرل ویڈیو کو حقیقت تسلیم کرنے سے پہلے اس کے ماخذ، مستند شواہد اور قابلِ اعتماد ذرائع کی جانچ ضروری ہے۔
