یورپ میں پراسرار بم دھمکیاں اور سائبر حملے، آخر کون ہے نشانے پر؟

0

نیوز ڈیسک

یورپ میں ایک غیر معمولی صورت حال نے فضائی سفر، خوراک کی فراہمی اور صحت کے نظام کی سکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مختلف یورپی ممالک جانے والی مسافر پروازوں کو بم حملوں کی دھمکیاں موصول ہونے کے بعد ہنگامی لینڈنگ اور روٹ کی تبدیلی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دوسری جانب سائبر حملوں کے ذریعے سپر مارکیٹس اور فرانس کے مرکزی بلڈ بینک کے کولڈ اسٹوریج سسٹمز کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کے مطابق جمعرات کو اٹلی، بیلجیئم، بلغاریہ اور جمہوریہ چیک جانے والی متعدد پروازوں کو گمنام ای میلز کے ذریعے دھمکیاں موصول ہوئیں، جس کے بعد یورپی فضائی آپریشنز متاثر ہوئے اور کئی طیاروں کو متبادل ہوائی اڈوں پر اتارنا پڑا۔

چیک، پولینڈ اور بلغاریہ کے ایئرپورٹ حکام کے مطابق انہیں نامعلوم اور ناقابلِ سراغ ای میل ایڈریسز سے دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے تھے۔ ان پیغامات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مخصوص مسافر طیاروں میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) نصب ہیں۔

فرانسیسی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق ڈبلن سے روم جانے والی ایئر لنگس کی پرواز کو بھی بم کی دھمکی کے بعد متبادل ہوائی اڈے پر اتارا گیا، جہاں بم ڈسپوزل اسکواڈ نے طیارے کی مکمل جانچ کے بعد اسے محفوظ قرار دے دیا۔

اسی طرح بلغاریہ کے وزیر داخلہ نے کوپن ہیگن اور میڈرڈ سے آنے والی دو پروازوں کی متبادل ایئرپورٹس پر لینڈنگ کی تصدیق کی، جبکہ چیک پولیس کے مطابق پراگ جانے والی چار پروازوں کو بھی اسی نوعیت کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ اٹلی کے شہر میلان سے بخارسٹ جانے والی پرواز بھی اس صورت حال سے متاثر ہوئی۔

یہ واقعات یورپ میں فضائی سکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافے کا تسلسل ہیں۔ اس سے قبل منگل کو برطانیہ کی تین پروازوں سمیت کم از کم سات مسافر طیاروں کو بھی بم کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں، جس سے مختلف یورپی ہوائی اڈوں پر پروازوں کا نظام متاثر ہوا تھا۔

تاہم اب تک کسی بھی طیارے سے دھماکہ خیز مواد برآمد ہونے کی اطلاع نہیں ملی اور نہ ہی ان دھمکیوں کے پیچھے کسی گروہ یا ملک کی شناخت ہو سکی ہے۔ برطانوی حکومت کے ترجمان نے ان واقعات کو شرارت پر مبنی اقدام قرار دیا، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

سائبر حملوں کا نیا محاذ

فضائی سکیورٹی کے ان واقعات کے ساتھ ہی یورپ میں سائبر حملوں کی ایک غیر معمولی مہم کی اطلاعات نے مزید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ان حملوں میں مبینہ طور پر ایسے نظاموں کو نشانہ بنایا گیا جو عام طور پر خوراک اور طبی اشیا کو محفوظ درجہ حرارت پر رکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق نامعلوم ہیکرز نے رواں ہفتے یورپ کے مختلف ممالک میں درجنوں سپر مارکیٹس کے ریفریجریشن سسٹمز تک رسائی حاصل کر کے ان کا درجہ حرارت تبدیل کر دیا۔ پیر کے روز پیش آنے والے واقعے میں بعض فریجز کا درجہ حرارت مبینہ طور پر 80 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھا دیا گیا، جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں غذائی اشیا خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ایک اور تشویش ناک واقعے میں فرانس کے مرکزی بلڈ بینک کے کولڈ اسٹوریج سسٹم کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کی رات ہیکرز نے وہاں درجہ حرارت مبینہ طور پر 110 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھا دیا تھا۔

تاہم فرانسیسی وزارت صحت کے مطابق بروقت کارروائی کے باعث خون کے محفوظ نمونوں کو نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کسی مریض کو طبی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

کیا یہ محض شرارت ہے یا سکیورٹی نظام کی آزمائش؟

ان واقعات نے اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ جدید سائبر حملے اب صرف ڈیجیٹل نظاموں تک محدود نہیں رہے بلکہ فضائی سفر، خوراک کی فراہمی اور طبی سہولیات جیسے اہم شعبوں کو بھی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایوی ایشن سائبر سکیورٹی کمپنی ’سائویشن‘ کے چیف ایگزیکٹیو ایلی ران الموگ کے مطابق یورپ میں سپر مارکیٹس کے ریفریجریشن سسٹمز پر سائبر حملے اور مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیاں ممکنہ طور پر محض خلل ڈالنے کی کوشش نہیں ہیں، بلکہ ان کے ذریعے ایئرلائنز، ہوائی اڈوں اور مختلف ممالک کے حکام کی ہنگامی ردعمل کی صلاحیت کو بھی جانچا جا سکتا ہے۔

اگرچہ ان واقعات کے درمیان کسی براہِ راست تعلق یا مشترکہ منصوبہ بندی کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم ان کی نوعیت نے یورپی حکام کے سامنے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا اہم شہری تنصیبات اور بنیادی سہولیات کو نشانہ بنانے کے لیے سائبر حملوں اور سکیورٹی دھمکیوں کا استعمال ایک نئے خطرے کی شکل اختیار کر رہا ہے؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.